مارکسی تعلیم

قمر الزماں خاں پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین  کے مرکزی جنرل سیکرٹری ہیں اور ملکی سطح پر محنت کشوں کے حقوق کی طویل جدوجہد کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔وہ تقریباً تین دہائیوں سے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے پرچم تلے مزدور تحریک میں سرگرم ہیں۔ 


ظلمت سے چھٹکارا کیسے ہو؟

مارکس نے جدید ذرائع پیداوار پر محنت کشوں کے کنٹرول سے قلت اور مانگ ختم کرنے کی بات کی تھی۔ اس کا مخاطب ’عالمی مزدور‘ بطور ’طبقہ‘ تھا نہ کہ کوئی ایک ملک یا خطہ یا اس کے رہنے والے لوگ۔

سرمائے کا انتشار

ہم سمجھتے ہیں کہ معاشی بحران خواہ وہ کسی بھی ملک کا ہو جب بھی کسی سماج کو اپنے شکنجے میں جکڑتا ہے تو صرف بیروزگاری، مہنگائی، غربت اور لا علاجی نہیں بڑھتی بلکہ معیشت کا بحران سماج میں موجود ہر چیز میں اپنا اظہار کرتا ہے پھر چاہے وہ آپ کی سیاست ہو، اخلاقیات ہوں، دوستیاں ہوں، رشتے، کلچر، موسیقی، ادب، آرٹ حتیٰ کہ سماج کی ہر چیز میں اسکا اظہار ہوتا ہے۔

خاندانی تضادات، عورت اور سماج

مگر موجودہ وقت میں خاندان کے پرانے قبائلی طرز کے نظام کو جاگیراداری کے اندر پنپنے والے خاندان کی طرز پر چلانا ناممکن ہو چکا ہے۔ خاندانوں کی موجودہ شکل جو مروجہ نظام میں صرف بیوی اور شوہر اور ان کے بچوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ انسان کی مجبوری بن گئی ہے کہ وہ ان تمام رشتوں سے کنارہ کشی اختیار کرے جو اس کے لیے معاشی طور پر فائدہ مند نہیں ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر مقابلہ بازی کا بڑھتا ہوا رجحان رشتوں کی نوعیت کو بدل چکا ہے۔ بیگانگی اس حد تک سماج پہ حاوی ہو چکی ہے کہ رشتوں کی قدر ومنزلت بھی پیسے کی محتاج ہو چکی ہے۔

انقلابی مڈل کلاس

اس طبقے کا مطمع نظر اپنے مستقبل کا تحفظ ہے چنانچہ جب یہ طبقہ دیکھتا ہے کہ اس کامستقبل محفوظ ہے تو یہ سٹیٹس کو کے علاوہ آمریت کی حمایت بھی کرتاہے اور جب خطرہ محسوس کرتا ہے تو پھر معاشرے کے ان طبقات کے ساتھ مل جاتا ہے جو معاشرے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے جد وجہد کر رہے ہوتے ہیں۔

کیا سوشلزم صرف مغربی ملکوں کے لئے ہے؟

سرمایہ دارانہ نظام نہ صرف مزدوروں پر اس قسم کے جبر کو جاری رکھتا ہے بلکہ وہ سماجی سطح پر اس ماحول کو فروغ دیتا ہے جس میں اس استحصال کو جائز سمجھا جاتا ہے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف لڑایا جاتا ہے۔ یہ نظریہ فرینز کافکاکے ناول کے ایک کردار گریگر سمسا کی طرح لوگوں کو انسانیت کی سطح سے نیچے گرا کر معاشرے میں تنہا کر دیتا ہے۔ سرمایہ داری نظام کو رد کرنے اور اس کی جگہ ایک منصفانہ نظام کے قیام کی کوششیں عالمگیر نوعیت کی ہیں جنہیں صرف یورپی ممالک تک محدودنہیں کیا جا سکتا کیونکہ سوشلزم ایک عالمی نظریہ ہے جس کی بنیاد انسانی فلاح و بہبود پر رکھی گئی ہے۔

مارکس کے پسندیدہ شاعر: ’سرمایہ‘ دانتے کے ’جہنم‘ کی طرز پر لکھی گئی

ولیم رابرٹس کا کہنا ہے کہ ترتیب کے اعتبار سے جس طرح 1848ء کے انقلاب فرانس پر لکھی گئی مارکس کی کتاب ’The Eighteenth Brumaire‘ شیکسپیئر کے معروف کھیل ’ہیملٹ‘ کی طرز پر لکھی گئی، اسی طرح ’سرمایہ‘ (جلد اؤل) کا طرز ترکیب دی ڈیوائن کا میڈی کے پہلے حصے ’جہنم‘ سے گہری مماثلت رکھتا ہے۔

انسان انقلاب کی آگ میں کندن بن کر نکلتا ہے: کارل مارکس

”انقلاب فقط اسی وجہ سے ضروری نہیں ہے کہ حکمران طبقے کو انقلاب کے علاوہ کسی اور ذریعے سے اقتدار سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا بلکہ انقلاب اس وجہ سے بھی ضروری ہے کہ انقلاب ہماری ذات کی تطہیر کرتا ہے جس سے اطاعت و بندگی، تذبذب اور تشکیک کے داغ دھل جاتے ہیں اور انسان اس آگ میں کندن بن کر نکلتا ہے“۔

انسانی حقوق کی ضمانت سوشلزم ہی دے سکتا ہے

نسل انسان نے زندہ رہنے کی تگ و دو میں طویل سفر طے کیا، مختلف مدارج سے گزرتے ہوئے آج اس مقام تک پہنچی، جہاں مادی ترقی کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو یقینا وہ ماضی کے کسی بھی دور سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ انسانی شعور کا مادی ترقی سے تعلق ہمیں یہ ادراک حاصل کرنے میں آسانی فراہم کرتا ہے کہ انسانی شعور بھی ماضی کے انسان کی نسبت، مادی ترقی کی وساطت سے اپنے بلند ترین مقام پر ہے۔

سوشلزم سے مایوسی سوچ کے بند گلی میں بند ہو جانے کانام ہے

ہماری ترقی پسندوں سے یہی گذارش ہے کہ وہ مایوسی کے اندرونی عوامل پر توجہ دیں، انہیں ٹھیک کریں اور یقین رکھیں کہ اس کا م کے لیے کسی بجٹ یا سرمائے کی ضرورت نہیں ہے۔ باقی کا کام سائنس اور فلسفے نے کرنا ہے اور وہ پہلے ہی سے بہت اچھا کر رہے ہیں۔