دنیا


اصلاحی حکمت عملی: چلی کے نئے آئین کی شکست کی وجہ

62 فیصد کا حیران کن ’مسترد‘ ووٹ اس واقع کے صرف دو سال بعد سامنے آیا جب سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں اور ہڑتالوں کے طوفان نے قدامت پرست صدر سیباسٹین پینیرا کو ایک نئے آئین کا مسودہ تیار کرنے کا وعدہ کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔

ایک شاہی موت

اگر کسی کو سرمایہ دارانہ ریاست کی طاقت کو دیکھنا ہو تو ملکہ الزبتھ کی موت کے بعد سے جاری ڈرامہ اس طاقت کا ننگا ترین اظہار اور ریاست کی طاقت کی ایک یاد دہانی بھی ہے۔

ایران: ملائیت کے خلاف عام بغاوت

ایرانی محنت کش اگر ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں تو وہ صرف ملائیت کی وحشت کے خاتمے تک خود کو محدود نہیں رکھیں گے بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے اس بنیاد کو ہی ختم کریں گے جو انسان کو انسان پر جبر کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔

بھارتی جموں کشمیر میں فوجیوں سمیت لاکھوں غیر مقامی افراد کو ووٹ کا حق

بی جے پی کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد نہ صرف ہندوستانی محنت کشوں پر معاشی حملوں میں اضافہ ہے، کشمیری عوام پر جبر میں اضافہ ہوا بلکہ خواتین، مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے خلاف تعصب کو بھی بڑے پیمانے میں فروغ دیا گیا۔

امریکی تاریخ میں پہلی بار 5 سوشلسٹ امریکی کانگرس کے رکن ہیں

اکثربائیں بازو کے کارکنوں کی کوشش ہوتی ہے کہ جمہوریت کے دفاع کے لئے مزدوروں، خواتین، پیپل آف کلر کو منظم کیا جائے مگر ان کی اکثریت ڈیموکریٹک پارٹی کو ووٹ دیتی ہے۔ 2020ء میں جب بلیک لائیوز میٹر نامی تحریک چلی تو اس میں ڈیڑھ دو کروڑ لوگوں نے حصہ لیا۔ ایسی تحریکوں کو سیاست کی جانب آنا چاہئے تا کہ طاقت کا توازن بدلا جا سکے۔

کون تھے، کیا تھے گوربا چوف؟

گورباچوف کا منصوبہ تھا کہ مارکیٹ اصلاحات متعارف کرائی جائیں تا کہ منصوبہ بند معیشت کو ترقی ملے (پریسترائیکا) اور جمہوری اصلاحات متعارف کرائی جائیں تا کہ نوکر شاہی کے اقتدار کو جائز ثابت کیا جا سکے (گلاسناسٹ)۔ مقصد نہ تو سوویت روس کو توڑنا تھا نہ ہی سر مایہ داری کو بحال کرنا تھا۔

مسئلہ سرمایہ داری، حل اجتماعیت: 9 یورو ٹکٹ کا تازہ جرمن تجربہ

اس تجربے کی روشنی میں، دنیا بھر کے شہریوں کو اپنی اپنی حکومتوں سے ایسی اجتماعی ٹریفک کا مطالبہ کرنا چاہئے جس میں شہری سہولت کے ساتھ با آسانی سفر کر سکیں۔ ہر نئی ذاتی گاڑی اور موٹر سائیکل سرمایہ داری کے لئے آکسیجن مگر انسانوں کے لئے کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے۔

ایمن الظواہری: ڈرون اڑا کہاں سے؟

وار آن ٹیرر اور سٹریٹیجک ڈیپتھ، متعلقہ حکمران کے لئے ارب کھرب ڈالر کا کاروبار ہے۔ اس کاروبار کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی ایمن الظواہری دستیاب نہ ہو تو ایجاد کر لیا جائے۔

نیا افغانستان: 97 فیصد غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور

طالبان حکومت کی اس روش کو دیکھ کر کئی عناصر پاکستان میں سر اٹھا رہے ہیں اور پاکستانی حکومت سے فاٹا کا انضمام ختم کرنے اور فاٹا، ملاکنڈ وغیرہ جیسے علاقوں میں شریعت کے نفاذ کا مطالبا اور بات کر رہے ہیں۔

یوکرین پر روسی حملہ مجرمانہ تھا، واحد حل سفارتکاری ہے: چامسکی

گورباچوف نے ایک معقول آدمی کا معاہدہ قبول کیا، جو سفارت کاری میں کوئی خلاف معمول بات نہیں ہے۔ بالمشافہ عہد و پیمان بھی ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ عہد و پیمان کو تحریر کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تحریری معاہدے بس کاغذ پر ہی موجود رہتے ہیں۔ اہم چیز نیک نیتی ہے۔ دراصل بش سینئر نے واضح طور پر اس معاہدے کا احترام کیا۔ یہاں تک کہ وہ امن میں شراکت داری قائم کرنے کی طرف بڑھا، جو یوریشیا ممالک میں بقائے باہمی کی فضا پیدا کر دیتا۔ نیٹو کو ختم کرنے کے بجائے اس کی قوت کو کم کرنے کا منصوبہ تھا۔ مثال کے طور پر تاجکستان جیسے ملک باضابطہ طور پر نیٹو کا حصہ بنے بغیر شامل ہو سکتے ہیں۔ گورباچوف نے اس منصوبے کی منظوری دی۔ یہ ایک ایسا اقدام ہوتا جو بقول ان کے ایک مشترکہ یورپی گھر کو وجود میں لاتا جس کا کوئی فوجی اتحاد نہ ہوتا۔