دنیا

جلبیر اشقر اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز لندن کے پروفیسر ہیں۔ وہ مذہب کے سیاسی کردار اور بنیاد پرستی پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔


خواتین کیلئے افغان کمیونسٹوں کا دور کہیں بہتر تھا: امریکہ مگرمچھ کے آنسو نہ بہائے

افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار پر قبضہ کے بعد سے امریکہ کی پوری سیاسی اشرافیہ افغان خواتین کے تاریک مستقبل کے غم میں رنج والم کی تصویر بنی بیٹھی دکھائی دیتی ہے۔ یہ نظارہ آج سے بیس برس قبل کی صورتحال سے بڑی مماثلت رکھتا ہے جب گیارہ ستمبر کو القاعدہ کی جانب سے ہونے والے حملوں کے جواب میں امریکہ نے القاعدہ کو فوری ختم کرنے اور افغان خواتین کو طالبان کے ظلم و اِستبداد سے آزاد کرانے کے مقاصد کو افغانستان پر لشکر کشی کے دو کلیدی محرکات کے طور پر پیش کیا تھا۔

انڈیا: سامراج کی نظر میں، شکاری یا شکار؟

آج کل دنیا اور خاص طور پر پاکستان میں یہ تاثر خاصا مضبوط ہے کہ انڈیا اور سامراج یعنی امریکہ باہم بہت زیادہ شیر و شکرہیں۔ انڈین سیاسی قیادت نے تو اندرون ملک اپنے عوام کو کامیابی سے اسطرح کا تاثر دے رکھا ہے کہ امریکہ اپنے ملکی اور عالمی اہم فیصلے بھی انڈین قیادت سے پوچھ کر کرتا ہے۔

طالبان قبضے کا پہلا مہینہ: ’افغان تنہائی کے سو سال‘

افغان آبادی کو ملک کے مختلف حصوں میں اپنے گھروں سے زبردستی بے دخلی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور کابل میں اندرونی طور پر بے گھر افراد اور خواتین اپنے تقریباً تمام ہی حقوق سے محروم ہو تی جا رہی ہیں، افغانستان اب شہ سرخیوں میں بھی نہیں رہا۔ ایک مہینے میں ہی افغانوں کو ان کے دکھوں کے لیے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔

ناروے: الیکشن میں بائیں بازو کی زبردست کامیابی، 8 کمیونسٹ بھی کامیاب

پیر کو ہونے والے انتخابات میں بائیں بازو کے اتحاد نے زبردست کامیابی حاصل کر کے دائیں بازو کی آٹھ سالہ حکومت کا خاتمہ کر دیا ہے۔ عنقریب جرمنی میں بھی انتخابات ہونے والے ہیں۔ وہاں بھی توقع کی جا رہی ہے کہ لیفٹ گرین جماعتیں کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔ ان انتخابات کی وجہ سے یورپ میں یہ بحث جنم لے چکی ہے کہ کیا یورپ بائیں طرف مڑ رہا ہے۔ اس کا جواب تو وقت ہی دے گا فی الحال بات ناروے تک محدود رکھتے ہیں جہاں بائیں بازو کے اتحاد: لیبر پارٹی (یعنی سوشل ڈیموکریٹس)، لیفٹ سوشلسٹ پارٹی اور سنٹر پارٹی نے 89 نشستیں جیت کر سادہ اکثریت ہی حاصل نہیں کی بلکہ چند سال قبل بننے والی کیمونسٹ جماعت ’ریڈ‘ (سرخ) نے بھی 8 نشستیں حاصل کی ہیں۔

افغانستان کو ’امپائرز کا قبرستان‘ کہنا امریکی شکست کا بوجھ افغان عوام پر لادنا ہے

یہ ضروری ہے کہ ایک آسان جواب تلاش کرنے کی کوشش سے بچا جائے اور یہ جا نا جائے کہ آخر ہم اس انجام تک کیسے پہنچے اور ساتھ ہی اسکے ذمہ داروں کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ افغانستان میں امریکی ناکامی کی یقینا وجوہات ہیں اوراس بات پر بھی کوئی شبہ نہیں کہ آنے والے برسوں تک ان وجوہات پر بحث کا سلسلہ جاری رہے گا۔ تاہم، جیسا کہ تاریخ واضح کرتی ہے، افغانستان ”سلطنتوں کا قبرستان“ کسی بھی طور پر ان وجوہات میں شامل نہیں ہے۔

کیا طالبان سد ھر گئے ہیں؟

بدلے ہوئے طالبان یہ تاثر دے رہے ہیں کہ اس بار امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی توجیہہ و تشریح اتنی سخت نہیں ہو گی۔ کیا عام طالبان بھی اس سے متفق ہوں گے؟ ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہاں البتہ اس جنگجو طالبان کے رہنما، جو دہائیوں سے غیر ملکی امداد اور بھتوں پر گزارا کر رہے تھے، خوب سمجھتے ہیں کہ معاشی ضرورتیں تبدیلی کا تقاضہ کر رہی ہیں۔

عوامی جمہوریہ چین، ابھرتی سپر پاور؟

دنیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے امریکہ سمیت تمام سپرپاورز نے ’لابنگ‘ پر بے پناہ اخرات کر کے اپنے ہمدرد پیدا کیے۔ اس ضمن میں چینی قیادت نے پیشگی ہی مشہور زمانہ اعلان کر رکھا ہے کہ وہ کسی کو مچھلی نہیں دیتے البتہ مچھلی پکڑنے کا ہنر ضرور سیکھا سکتے ہیں۔چین کا حسن زن ہے یا اسے شاید پتہ ہی نہیں کہ صرف ہمارے پاکستانی بھائی مچھلی پکڑنے کے 101 ہنر پہلے سے ہی جانتے ہیں۔

افغانستان کا بیڑا کس نے غرق کیا؟

اگر افغانستان کو کبھی ایک جدید ملک بننا ہے تو اس پر ایک ایسے آئین کے تحت حکمرانی ہونی چاہیے جس میں اسلامی بنیادی اقدار کے ساتھ اظہار رائے، انتخابات، طاقت کی تقسیم اور انسانی حقوق کی آزادی ہو۔ جن وحشی لوگوں نے زبردستی اقتدار پر قبضہ کیا ہے وہ ملک کو ایک تباہی سے دوسری تباہی کی طرف لے جائیں گے۔ دسمبر 2014 ء میں آرمی پبلک سکول میں بچوں کو ذبح کرنے والے پاکستانی طالبان اور افغان طالبان نظریاتی بھائی ہیں۔ ایک کابل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے (اور ممکنہ طور پر کر بھی لے گا) جبکہ دوسرا اسلام آباد پر نظریں جمائے بیٹھا ہے مگر ان کی دہشت گردانہ کارروائیاں بھی جاری رہیں گی۔ طالبان کے کابل پر دوبارہ قبضے کی بجائے افغانستان میں آئین پر مبنی جمہوریت ہی پاکستان کے طویل مدتی مفادات کیلئے مفید ثابت ہو گی۔

قیام امن کیلئے افغانستان کو 10 سال تک اقوام متحدہ کے حوالے کیا جائے

روس اور چین جو افغانستان سے امریکہ کا انخلا چاہتے تھے، ہرگز نہ چاہیں گے کہ کابل میں ایک ایسی حکومت قائم ہو جو چین میں ایغور اور چیچنیا میں علیحدگی پسند مسلمان قوتوں کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہو (افغانستان کے وسط ایشیائی ہمسائے بھی اپنے بارڈر پر امن کے خواہاں ہیں مگر وہ روس اور چین کی مرضی کے خلاف کوئی کردار ادا نہیں کریں گے اور عقلمند ریاستوں کی طرح انہوں نے افغانستان میں مداخلت سے گریز ہی کیا ہے)۔