دنیا


ایران کی گلیوں میں ’حقوق نسواں انقلاب‘ شروع ہے: نازنین بونیادی

میں ابھی کیلیفورنیا میں ہوں۔ یہ مشکل ہے اور خوفناک بھی، یہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس بار بین الاقوامی رد عمل ایرانی عوام کی ان آزادیوں کو حاصل کرنے میں مدد کرے گا، جس کے وہ حقدار ہیں۔ میرے والدین ایرانی پناہ گزین تھے، جنہوں نے نو تشکیل شدہ اسلامی جمہوریہ کی مخالفت کی اور اسی لئے انہیں ملک سے فرار ہونا پڑا، ہمیں لندن میں پناہ مل گئی۔ میں 13 سال کی تھی، جب ہم نے ایران کا دورہ کیا، میری ایرانی لوگوں اور ثقافت کے بارے میں بہت پیاری یادیں ہیں، لیکن اس عمر میں حجاب پہننے پر مجبور ہونا میرے لئے پریشان کن تھا۔ میں نہیں سمجھ پائی، میں ایسے ماحول میں نہیں رہی، جہاں اس طرح کے ڈریس کوڈ کو نافذ کیا گیا ہو۔

ایران: آمریت کی حمایت 12 فیصد تک محدود

ابتدائی نعرے، جو عام طور پر اخلاقی پولیس کے خلاف لگائے جا رہے تھے، بڑے پیمانے پر سیاسی نعروں سے بہت تیزی سے تقویت پا گئے، جیسے کہ ”آمر مردہ باد“، ”اسلامی جمہوریہ مردہ باد“، ”کوئی شاہ نہیں، کوئی سپریم گائیڈ نہیں“، ”عورت زندگی، آزادی“، یا ”روٹی، کام، آزادی“۔ اس تحریک کو شروع سے ہی بہت زیادہ سیاسی بنایا گیا تھا اور اب یہ خالصتاً احتجاجی تحریک نہیں رہی۔

اصلاحی حکمت عملی: چلی کے نئے آئین کی شکست کی وجہ

62 فیصد کا حیران کن ’مسترد‘ ووٹ اس واقع کے صرف دو سال بعد سامنے آیا جب سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں اور ہڑتالوں کے طوفان نے قدامت پرست صدر سیباسٹین پینیرا کو ایک نئے آئین کا مسودہ تیار کرنے کا وعدہ کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔

ایک شاہی موت

اگر کسی کو سرمایہ دارانہ ریاست کی طاقت کو دیکھنا ہو تو ملکہ الزبتھ کی موت کے بعد سے جاری ڈرامہ اس طاقت کا ننگا ترین اظہار اور ریاست کی طاقت کی ایک یاد دہانی بھی ہے۔

ایران: ملائیت کے خلاف عام بغاوت

ایرانی محنت کش اگر ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں تو وہ صرف ملائیت کی وحشت کے خاتمے تک خود کو محدود نہیں رکھیں گے بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے اس بنیاد کو ہی ختم کریں گے جو انسان کو انسان پر جبر کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔

بھارتی جموں کشمیر میں فوجیوں سمیت لاکھوں غیر مقامی افراد کو ووٹ کا حق

بی جے پی کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد نہ صرف ہندوستانی محنت کشوں پر معاشی حملوں میں اضافہ ہے، کشمیری عوام پر جبر میں اضافہ ہوا بلکہ خواتین، مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے خلاف تعصب کو بھی بڑے پیمانے میں فروغ دیا گیا۔

امریکی تاریخ میں پہلی بار 5 سوشلسٹ امریکی کانگرس کے رکن ہیں

اکثربائیں بازو کے کارکنوں کی کوشش ہوتی ہے کہ جمہوریت کے دفاع کے لئے مزدوروں، خواتین، پیپل آف کلر کو منظم کیا جائے مگر ان کی اکثریت ڈیموکریٹک پارٹی کو ووٹ دیتی ہے۔ 2020ء میں جب بلیک لائیوز میٹر نامی تحریک چلی تو اس میں ڈیڑھ دو کروڑ لوگوں نے حصہ لیا۔ ایسی تحریکوں کو سیاست کی جانب آنا چاہئے تا کہ طاقت کا توازن بدلا جا سکے۔

کون تھے، کیا تھے گوربا چوف؟

گورباچوف کا منصوبہ تھا کہ مارکیٹ اصلاحات متعارف کرائی جائیں تا کہ منصوبہ بند معیشت کو ترقی ملے (پریسترائیکا) اور جمہوری اصلاحات متعارف کرائی جائیں تا کہ نوکر شاہی کے اقتدار کو جائز ثابت کیا جا سکے (گلاسناسٹ)۔ مقصد نہ تو سوویت روس کو توڑنا تھا نہ ہی سر مایہ داری کو بحال کرنا تھا۔

مسئلہ سرمایہ داری، حل اجتماعیت: 9 یورو ٹکٹ کا تازہ جرمن تجربہ

اس تجربے کی روشنی میں، دنیا بھر کے شہریوں کو اپنی اپنی حکومتوں سے ایسی اجتماعی ٹریفک کا مطالبہ کرنا چاہئے جس میں شہری سہولت کے ساتھ با آسانی سفر کر سکیں۔ ہر نئی ذاتی گاڑی اور موٹر سائیکل سرمایہ داری کے لئے آکسیجن مگر انسانوں کے لئے کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے۔

ایمن الظواہری: ڈرون اڑا کہاں سے؟

وار آن ٹیرر اور سٹریٹیجک ڈیپتھ، متعلقہ حکمران کے لئے ارب کھرب ڈالر کا کاروبار ہے۔ اس کاروبار کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی ایمن الظواہری دستیاب نہ ہو تو ایجاد کر لیا جائے۔