دنیا

پربھات پٹنائک ایک ہندوستانی ماہر معاشیات، سیاسی تبصرہ نگار اور جے این یو نئی دہلی کے سابق پروفیسر ہیں۔ ان سے ’prabhatptnk@yahoo.co.in‘ پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


کرونا کی وبا نے سرمایہ داری کے غیر انسانی چہرے کو بے نقاب کیا ہے

اگر آپ دیکھیں تو اس بنیادی امتیاز یا ’دہرے معیار‘ پر مبنی سماجی نظام کی بدتمیزی خاص طور پر اب جیسے ادوار میں، ایک وبا کے درمیان واضح ہو جاتی ہے۔ جب انسانیت اور داستان دونوں کا تقاضا ہے کہ ہمیں تمام انسانی زندگیوں سے متعلق ہونا چاہئے، چاہے وہ کہیں بھی واقع ہو، ایک سماجی نظام جو ان کے درمیان امتیاز کرتا ہے، جو کچھ زندگیوں کو قدر کا سمجھتا ہے، دوسروں کو نہیں، اس کی انسانیت اور غیر منطقی کے لئے کھڑا ہے۔

پوتن ناٹو کے لئے بہترین بھرتی افسر ثابت ہوئے ہیں

ہر جنگ کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ یوکرین جنگ کا ایک، بہت اہم، پہلو ناٹو ہے مگر جس درندگی کا مظاہرہ روس یوکرین میں کر رہا ہے اگر کوئی ترقی پسند اس سے آنکھیں چرا کرآئیں بائیں شائیں کر رہا ہے تو اسے جماعت اسلامی یا اخوان المسلمین میں شامل ہو جانا چاہئے کیونکہ ایسا ترقی پسند سوشلسٹ نہیں، فنیٹک (Fanatic) ہے جسے سامراج دشمنی اور امریکہ دشمنی کا ہی فرق معلوم نہیں۔

نئی حلقہ بندیوں کے نام پر بی جے پی کی جموں کشمیر میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش

بی جے پی حکومت نے ایک خطے کو دوسرے کے خلاف کھڑا کر کے اور برادریوں کے درمیان شگاف پیدا کر کے جموں و کشمیر میں تفرقہ ڈالنے والی سیاست کی ہے۔ یہ 5 اگست 2019ء سے صورتحال کو اپنے فائدے کے لئےبنانے کے لئے جوڑ توڑ اور مینوورنگ کر رہی ہے۔ جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ میں ریاستی اسمبلی کے حق رائے دہی میں ترمیم کی گئی ہے جو صرف مستقل رہائشیوں تک محدود تھا اور اسے غیر ریاستی باشندگان تک بڑھا دیا گیا ہے۔ انتخابی حلقوں کی دوبارہ تشکیل اس سب کے ساتھ ایک ٹکڑا ہے۔ اس سے جموں و کشمیر میں فرقہ وارانہ اور علاقائی تقسیم مزید گہری ہوگی اور یہ عوام کو بے اختیار کرنے کا پابند ہے اور جموں و کشمیر کے سیاسی منظر نامے پر مضر اثرات مرتب کرے گا۔

’طالبان کے ماتحت زندگی قبرستان جیسی ہے، افغان گھروں میں صرف موت آتی ہے‘

اگست 2021ء میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کابل اور ملک کے دیگر حصوں میں تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ تصور ہوا میں اڑ گیا ہے کہ طالبان نام نہاد امن اور سلامتی لائے ہیں۔ کابل اور ملک کے باقی حصوں میں کسی سے بھی بات کریں تو ہر کوئی یہ محسوس کر رہا ہے کہ نام نہاد امن معاہدہ دراصل افغان مصائب کو طول دینے اور ایک جنونی اور دہشت گرد گروہ کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کرنے کے سوا کچھ نہیں تھا تاکہ قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری رہے۔

سری لنکا: سیاسی و معاشی ہلچل اور عوامی للکار

پاکستان کی طرح سری لنکا میں بھی عدم اعتماد کسی عوامی مسئلے کا حل نہیں ہے اور نہ ہی کوئی امید رکھی جا سکتی ہے۔ سری لنکا کی حکومت جلد ہی آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آؤٹ پر بات چیت شروع کرنے والی ہے۔ یہی توقع ہے کہ کثیر جہتی قرض دہندہ کے ساتھ ساتھ ملک کے غیر ملکی قرض دہندگان ایک ایسا منصوبہ پیش کرینگے جو ملکی اقتصادی استحکام کو ترجیح دے گا، تاہم یہ کوئی تسلی بخش اقدام نہیں ہے۔ فی الحال لوگوں کو سستی خوراک، ایندھن اور ادویات فراہم کرنے میں مدد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ملک کو قرضوں کے جال سے بچانے کیلئے طویل المدتی منصوبے کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ سری لنکا کے بحران کو دیگر ترقی پذیر ریاستوں کیلئے بھی ایک انتباہ کا کام کرنا چاہیے کہ معاشی بدانتظامی اور سیاسی اقربا پروری بڑے عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے، جو معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔

یوکرائن پر حملہ: سپر پاور بننے کیلئے روس کی آخری کوشش

آج یوکرائن پر روسی یلغار کو ایک مہینے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکاہے او ر معاملہ کسی بہتر حل کی طرف جاتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ حسب معمول میڈیا اور سوشل میڈیا پر انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کا بازار گرم ہو چکا ہے اور متضاد قسم کی خبروں کا چلن عام ہو گیا ہے اور صورتحال یہ ہے کہ کسی کو بھی حتمی خبر کی خبر نہیں ہے۔ اس سارے قضیے میں صرف ایک بات ہی اچھی اور حتمی ہے اور وہ یہ ہے کہ یوکرائن کی عوام نے اپنی آزادی کی بقا کی ٹھان لی ہے۔ اس سلسلے میں ہم پاکستانی میڈیا کو مستثنیٰ کرتے ہیں کیونکہ ان کے تئیں عمران خان اور اپوزیشن کی لڑائی ہی دنیا کے سب سے بڑے اور اہم ا یشوز ہیں۔

نیٹو لینڈ سے ایک مراسلہ

ذرا ڈھکے چھپے لفظوں میں کہیں تو بائیڈن انتظامیہ نے پہلے بلی کو تھیلے سے نکال کر کے اپنا پہلا اہم ہدف حاصل کیا اور پھر (دوسرے مر حلے پر) نیو یارک ٹائمز میں امریکی سکیورٹی حکام کی طرف سے کی گئی بریفنگ پر مبنی تین ہفتے قبل چھپے ایک مضمون میں یہ انکشاف کیا گیا کہ امریکی حکام یورپی ممالک پر روس کے خلاف ایک ’مشترکہ لائحہ عمل‘ وضع کرنے پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

بلوچستان: غیر ملکی ہاتھ؟

بلاشبہ انڈیا بلوچستان میں پاکستانی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے۔ عام سا اصول یہ ہے کہ جب کسی ملک کی آبادی کا کوئی حصہ ناراض ہو تو بیرونی دشمن کو ناراض لوگوں کو حلیف بنانے میں آسانی ہوتی ہے۔ انڈیا کو یقین ہے کہ پاکستان نے وادی کشمیر سے جہادی تیار کر کے انہیں بھارت میں بھارتی افواج کے خلاف استعمال کیا۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان میں پائی جانے والی بے چینی سے فائدہ اٹھا کر انڈیا نے پاکستان کو سبق سکھایا۔ آج جو صورت حال بلوچستان میں ہے اس کے بارے میں بہت سے ہندوستانیوں کا خیال ہے کہ اسے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یوکرین کے خلاف روسی جارحیت: سوشلسٹ نقطہ نظر

بطور سوشلسٹ ہم سامراجی جنگوں کے خلاف ہیں۔ ہم ملکوں کے مابین قومی و لسانی یا دھرم وادی بنیادوں پر جنگیں شروع کرنے کے خلاف ہیں۔ ہم طبقاتی جنگ کے علاوہ ہر جنگ کے خلاف ہیں کیونکہ طبقاتی جنگ کی کامیابی ہی جنگوں کو ختم کرنے کی بنیاد فراہم کرے گی۔ سوشلزم عالمی امن کی بات کرتا ہے اور ایک سوشلسٹ ورلڈ آرڈر ہی پائیدار عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ نوے کی دہائی میں (جسے عموماً یونی پولر مومنٹ کہا جاتا ہے) ایک مرتبہ پھر کارل کاٹسکی کی الٹرا امپیریلزم یا سوپر امپیریلزم کی تھیوری کا بہت چرچا ہوا تھا اور کہا گیا تھا کہ لینن غلط تھا۔ لینن وادی نقاد اس وقت بھی کہہ رہے تھے کہ سرمایہ داری کا ’اصل ‘مقابلہ ہے۔ مقابلہ اس کے خمیر میں ہے۔