دنیا

ناصر اقبال گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے پاکستان کی ترقی پسند تحریک کیساتھ وابستہ ہیں۔


سمندر پار پاکستانی اور ملکی سیاست

ووٹ کے حق کا مسئلہ دوہری شہریت یا ان پاکستانیوں کا مسئلہ ہے جو پاکستان کی شہریت سے دستبردار ہو چکے ہیں۔ یہ مسئلہ ایک اہم مگر نہایت بحث طلب مسئلہ ہے۔ موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں یہ بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی۔

کابل میں ’فتح مکہ‘ منانے والا پاکستانی میڈیا اب افغانستان پر خاموش کیوں؟

اگر مان بھی لیا جائے کہ کوئی نیا نظام اسلامی امارات افغانستان میں نافذ ہو رہا ہے تو ایک نظر افغانستان کے حالات پر ہی ڈال لیتے ہیں جہاں غربت کا ننگا ناچ جاری ہے، آزادی اظہار رائے کی زبوں حالی سب کے سامنے ہے، صحافیوں کو مارا جا رہا ہے ہراساں کیا جا رہا ہے، عورتوں کے حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے، بھوک نے تہذیب کے آداب چھین لیے ہیں، لوگ اپنے بچے بیچ رہے ہیں، گھر کا سامان تو کئی خاندانوں کا پہلے ہی بک چکا ہے۔

جنگ جنگوں کے فلسفے کے خلاف

جب تک نجی ملکیت ہے انسان کی انسان سے جنگ ختم نہیں ہو سکتی اور جب تک نجی ملکیت کا دفاع کرنے والی قومی ریاست کا خاتمہ نہیں ہوتا،مختلف ریاستوں کے حکمران طبقات کے درمیان تضادات بھی ناگزیر طور پر جنم لیں گے جو کبھی بھی جنگ کی صورت میں اپنا اظہار کر سکتے ہیں۔

بھارتی کسانوں کی جیت: مودی سرکار نے گھٹنے ٹیک دئے!

کہا جا رہا ہے کہ مودی حکومت کے اس حیران کن اور اچانک کئے گئے اقدام کے پیچھے یو پی اور پنجاب میں آنے والے انتخابات کی حکمت عملی بھی ہے۔ یو پی میں جہاں کسانوں کی بڑی تعداد قرضوں اور مالی مشکلات میں گرفتار ہے، سرکار کے خلاف عوامی ردعمل بڑھ رہا ہے جس کے تنائج آئندہ انتخابات میں بی جے پی کی شکست کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔ دوسری طرف پنجاب میں جہاں بر سر اقتدار کانگرس پارٹی اندرونی سیاست اور رہنماؤں کے درمیان ذاتی مفادات کی چپقلشوں کا شکار ہے، بی جے پی اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے پرتول رہی ہے۔

طالبان قبضے کے 3 ماہ: لامحدود بربریت

افغانستان کے لوگ طالبان کے خلاف مزاحمت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ چاہے وہ کابل، ہرات یا مزار کی سڑکیں ہوں یا کرکٹ کے بین الاقوامی پلیٹ فارم، لوگ ہر سطح پر مزاحمت کر رہے ہیں۔ افغانستان کی خواتین سب سے زیادہ بہادر ہیں کیونکہ انہوں نے وقتاً فوقتاً احتجاجی مظاہرے کیے ہیں، حالانکہ طالبان نے مظاہروں پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔

بھوک سے افغان شہری مریں گے، طالبان کا دسترخوان سجا رہے گا

افغانستان میں حکمران بدلنے کے بعد کئی بحثیں شروع ہو گئی ہیں۔ ایک سوال یہ ہے کہ کیا طالبان کے اقتدار کو جائز سمجھا جاسکتا ہے۔ افغانستان میں جو انسانی بحران جنم لے رہا ہے، اس پر بحث ہو رہی ہے۔ عالمی برادری میں طالبان کے اقتدار پر جاری بحث کے دوران بد قسمتی سے عام افغان لوگوں کے لئے زندگی اجیرن ہوتی جا رہی ہے۔

افغان کرکٹرز کا طالبان کے سامنے انکار

افغان الیون بالخصوص کپتان محمد نبی اپنے آنسو نہ روک سکے کیونکہ میچ سے قبل قومی ترانہ گایا گیا، انکی ایک تصویر وائرل ہو گئی۔ سٹیڈیم میں موجود افغان تماشائی سب افغان پرچم لہرا رہے تھے۔ کچھ نے سہ رنگے پرچم کی ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں، کچھ نے اپنے چہرے تین رنگوں میں پینٹ کرتے ہوئے افغان پرچم کی تصویر کشی کر رکھی تھی۔ اب یہ محض کرکٹ میچ نہیں تھا بلکہ یہ کھیل بطور مزاحمت تھا۔

وادی کشمیر میں خوف کے سائے: شادی ہالوں پر قبضے اور تلاشیوں کی تضحیک پھر سے شروع

بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں 5 ہزار اہلکاران پر مبنی مزید نیم فوجی دستوں کو تعینات کر دیا ہے، یہ اضافی دستے وادی کشمیر کے 8 اضلاع میں آبادیوں کے اندر تعینات کئے جا رہے ہیں۔ سنٹرل ریزرو پیراملٹری فورسز (سی آر پی ایف) کے 5 ہزار اہلکاران پر مبنی 50 کمپنیوں نے سرینگر اور نواحی اضلاع کے شادی ہالوں پر قبضہ جما لیا ہے۔ دوسری طرف سرینگر کے چوکوں اور چوراہوں پر نئے فوجی بنکروں کے قیام کے بعد عوامی سطح پر تلاشیوں کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر سے شروع کر دیا گیا ہے۔