تاریخ

اکتوبر انقلاب اور انسان دوست سماج کا آدرش

جگدیش آہوجا

ہم نے جب ہوش سنبھالا، 1970ء کی دھائی میں، تو ہر طرف 1917ء کے اکتوبر انقلاب کی دھوم تھی۔ کوئی ادبی اور سیاسی تحریر و تحریک اس کے ذکر، فکر و اثر سے خالی نہ تھی۔ اب اکیسویں صدی کی نئی نسل کو زیادہ تر اس کی خبر تک نہیں۔ اب اکثریت کو شائد علم نہیں کہ مارکس یا اینگلز کون تھے، غیر طبقاتی سماج کس بلا کا نام تھا، کون تھے لینن، ٹراٹسکی، اسٹالن اور کون تھی روسی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی جس نے زار شاہی روس میں جدید انسانی تاریخ کا پہلا مزدور انقلاب برپا کیا اور پہلے غیر طبقاتی سماج کے قیام کا کامیاب تجربہ کر کے ساری دنیا کے مظلوم طبقات و اقوام اور حساس دل انسانوں اور ساری انسانیت کی آزادی کے خواہاں آدرشوادی انسانوں کی اکھیوں میں اک نئی دنیا کے خواب سجائے۔

روس میں جاری قدیم جولین کلینڈر کے مطابق بدھ 25 اکتوبر (اور نئے عالمی گریگورین کیلنڈر کے مطابق بدھ 7 نومبر) 1917ء کو پیٹروگراڈ اور ماسکو میں لینن اور ٹراٹسکی کی قیادت میں بالشویک پارٹی کی ہدایات پر مزدوروں کی پنچایتوں یعنی سوویتوں نے بغاوت کر دی اور اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہو گئے۔ اس طرح دنیا کی پہلی مزدور ریاست اور بیسویں صدی کی سپر پاور ریاست سوویت یونین کی داغ بیل ڈالی گئی۔

1848ء میں مارکس اور اینگلز کی لکھی ہوئی کتاب ’کمیونسٹ مینی فیسٹو‘ میں صفحہ اؤل پر درج شدہ تحریر ’سارے دنیا کے مزدورو ایک ہو جاؤ‘ کو عملی شکل دینے والا یہ انقلاب، اکتوبر انقلاب، بالشویک انقلاب، مزدور انقلاب اور سوویت کمیونسٹ انقلاب وغیرہ کے ناموں سے مشہور ہوا۔ یوں مارکس اور اینگلز نئی دنیا کے مظلوموں کے مسیحا بن کر ابھرے۔

جب وقت تمہارے حق میں بازی پلٹتا ہے تو کوئی بات نہیں اگر تم قبر میں اور عدم میں بھی ہو، تمہارا ستارہ جگمگانے لگتا ہے۔ کسے خبر تھی کہ جرمن زبان میں لکھی گئی اک مختصر تحریر، لکھنے والوں کے گزر جانے کے بعدیہ تحریر عالم بن جائے گی اور اک تحریک عالم کو جنم دے گی اور جب اس تحریر میں سوویت انقلاب کے بانی ولادیمیر لینن نے تین الفاظ کا اضافہ کیا اور روسی زبان میں لکھا کہ ’ساری دنیا کے مزدورو اور مظلوم قومیں متحد ہو جاؤ‘ تو اس نے ساری دنیا میں سامراجیت، سرمایہ داری، جاگیرداری اور بیٹھکی نظام کی چکی میں پسنے والے مظلوم طبقات اور مظلوم اقوام میں آزادی اور انقلاب کی اک نئی روح پھونک دی۔

غربت، بھوک، افلاس، جلا وطنی، دربدری، بیماری اور بچوں کی اموات کے درمیاں تخلیق کردہ دولت دنیا اور سرمایہ داری نظام کی جڑوں اور تضادات کو کھل کر بیان کرنے والی شاہکار کتاب ’سرمایہ‘ جب جرمن انسان دوست انقلابی فلاسفر اور معیشت دان کارل مارکس کے دماغ سے نکل کر کاغذ کا پیرہن بنی تو مارکس اور اس کی ہمسفر جینی کی مصیبت زدہ زندگی میں تو کوئی بدلاؤ نہیں آیا لیکن نصف صدی بعد جب روس میں اکتوبر انقلاب آیا تو اس نے ساری دنیا بدل دی۔

’کمیونسٹ مینی فسٹو‘ اور ’سرمایہ‘ نے سرمایہ داری نظام کے آخری ارتقائی مراحل میں سرمایہ داری استحصال کے خاتمے اور مساوات انسانی پر مبنی جس کمیونسٹ سماج کے ظہور کی نوید سنائی تھی وہ اکتوبر انقلاب کے بعد اک زندہ جیتی جاگتی حقیقت بن کر سب کے سامنے آ گئی۔

1929ء میں بیسویں صدی کے سرمایہ دارانہ سماج کا شدید ترین اقتصادی بحران نمودار ہوا اور لاکھوں مزدور بے روزگار ہو گئے۔ اس بحران کو گریٹ ڈپریشن کا نام دیا گیا۔ اس نے پورے سرمایہ داری نظام کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایسا لگنے لگا کہ کیپیٹل ازم کے زوال اور کمیونزم کے عالمگیر ارتقا کا وقت قریب آن پہنچا ہے لیکن یہ امید بر نہ آئی۔

اس کے برعکس سرمایہ داری نظام نے اپنا استحصالی جوہر برقرار رکھتے ہوئے بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ خود کو بدلنے اور نئے حالات میں اپنے آپ کو زندہ رکھا۔ یہ وہ صلاحیت تھی جو اکتوبر انقلاب اور سوویت کمیونزم نہیں حاصل کر سکا اور راہ عدم پر چل پڑا۔ سوویت کمیونزم کے زوال کا سبب کوئی گورباچوف جیسا فرد واحد یا کوئی ایک کمیونسٹ پارٹی آف سوویت یونین نہیں تھی جیسا کہ ان کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔

مذاہب، عقائد اور نظریات کا یہ المیہ رہا ہے کہ ان کے بعض پیروکار ان میں اتنا الجھ جاتے ہیں کہ وہ اپنے آدرش تک کھو دیتے ہیں۔ اکثر مذہب، عقیدہ، نظریہ ان کے ماننے والوں کے پاؤں کی زنجیر بن جاتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی مخصوص سوچ کے غلام بن جاتے ہیں۔ تب وہ بدلے ہوئے حالات میں خود کو بدلنے کے بجائے ماتم کدہ بچھا دیتے ہیں۔ حالات کے غلط کروٹ لینے کا الزام وہ کسی نہ کسی کے سر پر تھونپ دیتے ہیں۔ خود کو بھی کسی نہ کسی حد تک مورد الزام ٹھہرا تے ہیں۔ پھر یا ناامید ہو جاتے ہیں یا گئے زمانے کی واپسی کی آس لگا بیٹھتے ہیں۔ انہیں بیتے دنوں کی یاد ستاتی رہتی ہے جسے ناسٹلجیاکہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اپنے مفاد، جائز و ناجائز، کو ہر قیمت پر بچانے والے نظریات کی قید سے آزاد ہو تے ہیں، ان کا نظریہ ان کے مفاد کے ماتحت ہوتا ہے۔ آدرش وادی اپنے آدرش کی حاصلات کے لئے اپنی جان دینے کو تیار ہوتا ہے اور استحصالی اپنے مفادات کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو ہٹا دیتا ہے۔ وہ آپ کو بھی ختم کر دیتا ہے اور خود کو بھی اپنے مفادات کے تعین بدل دیتا ہے۔ کسی حد تک ایسا ہی کچھ سوویت کمیونزم اور کیپٹلزم کے درمیان ہوتا رہا ہے۔

اکتوبر انقلاب جیسے ہی برپا ہوا، سرمایہ دار دنیا کے سبھی اقتدار کے ایوانوں میں تہلکہ مچ گیا۔ انقلاب کو کچل دینے کے لئے سفید گارڈز کے دستے منظم کئے گئے جنہوں نے سفید دہشت (وائٹ ٹیرر) کو جنم دیا جس کے جواب میں سوویت کمیونسٹ انقلابیوں نے ٹراٹسکی کی قیادت میں سرخ فوج تیار کرلی۔

سوویت کمیونزم اور کیپیٹلزم کی اس پہلی جنگ میں جو 1918ء سے 1923ء تک 5 سال چلی، آخری فتح سوویت کمیونزم کی ہوئی اور دنیا کے سیاسی نقشے پر 1922ء میں سوویت یونین پہلی کمیونسٹ ریاست کے طور پر ابھرا جس نے شکاری دور کے بعد پہلی مرتبہ اک غیر طبقاتی سماج کی تعمیر کی۔

اس سماج کی تعمیر کا اک آدرش تھا: ’ہر قسم کے ظلم و استحصال سے پاک سماج‘۔ یہ وہ آدرش تھا جس کے حصول کی خاطر  20 ویں صدی میں لاکھوں کروڑوں لوگوں نے جدوجہد کی اور کئی بے مثال کامیابیاں حاصل کیں۔ یوں 20 ویں صدی کمیونسٹ انقلابوں اور قومی آزادی کی تحریکوں کی صدی قرار پائی۔