خبریں/تبصرے

لاہور: پیپلز چارٹر کے مطالبات پر اجلاس میں مزدوروں، نوجوانوں، فیمینسٹوں اور سماجی تحریکوں کے رہنماؤں کی شرکت

لاہور (جدوجہد رپورٹ) حقوق خلق موومنٹ نے آج سیفما لاہور بلڈنگ میں پیپلز چارٹر پر ایک پبلک میٹنگ کا اہتمام کیا۔ اس سے ملک میں چلنے والی مختلف سماجی و طبقاتی تحریکوں کے نمائندوں نے خطاب کیا۔ اجلاس میں ایک پیپلز چارٹر کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔

یہ طے کیا گیا کہ 2 نومبر کو پنجاب اسمبلی کے سامنے ایک احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا اور آئین کی شق 38 پر عمل درآمد کرانے پر زور دیا جائے گا۔

طلبہ رہنماؤں کی طرف سے بڑھتی ہوئی فیسوں، آن لائن کلاسز و امتحانات اور کوٹہ سیٹوں کے خاتمے کے خلاف نومبر کے آخری ہفتے لاہور میں احتجاجی مارچ کا عندیہ بھی دیا گیا۔

اجلاس میں ابراہیم فیبریکس فیصل آباد کے نکالے گئے مزدوروں کو بحال کرنے اور ان کے خلاف مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس نے سائبر کرائم قوانین کا سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کے خلاف استعمال کی شدید مذمت کی۔

اجلاس میں سندھ کے دو جزیروں پر وفاق کے قبضے کی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس میں موجودہ حکومت کو نااہل ترین قرار دیا گیا اور روز بروز بڑھتی مہنگائی کی شدید مذمت کی گئی۔

گلگت بلتستان میں کلائمیٹ قیدی بابا جان اور انکے ساتھیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

کم از کم 35,000 تنخواہ کا مطالبہ اور لیبر قوانین پر عمل درآمد پر زور دیا گیا۔

ہسپتالوں کی نجکاری کی مخالفت کی گئی اور تمام شہریوں کی صحت کی تمام سہولیات مفت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

تعلیم میں کٹوٹیوں کی شدید مذمت کی گئی اور پنجاب یونیورسٹی میں فاٹا اور بلوچستان کے طلبہ کے کوٹہ کو ختم کرنے کی مذمت کرنے اور اسے فوری بحال کرنے پر زور دیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرنے والوں میں حنا جیلانی، نگہت خان، عمار جان، ضیغم عباس، محمد تحسین، فاروق طارق، امتیاز الحق، محسن ابدالی، نازنین نیاز، قمر بھٹی، بابا لطیف انصاری، اسلم معراج، خالد محمود، نیاز خان و دیگر شامل تھے۔