خبریں/تبصرے

2021ء ہیلتھ ورکرز کا بین الاقوامی سال قرار دیدیا گیا

لاہور (جدوجہد رپورٹ) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے 2021ء کو صحت و نگہداشت کے کارکنوں کا بین الاقوامی سال قرار دے دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اس بات کا مقصد کرونا وبا کے خلاف سب سے آگے رہ کر صحت و نگہداشت کی خدمات سرانجام دینے والے لاکھوں کارکنوں کی لگن اور قربانی کو تسلیم کرنا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے سیکرٹری جنرل ٹیڈ روس ادانوم گیبریسس نے ٹویٹ کے ذریعے کہا کہ ”آئندہ سال کو صحت اور نگہداشت کے کارکنوں کے بین الاقوامی سال کے طوپر نامزد کرنے کے فیصلے کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ ہمیں کووڈ کے خاتمے اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہیلتھ کیئر عملے کی تربیت میں اجتماعی طورپر سرمایہ کاری کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔“

کرونا وائرس کے وبائی مرض کے خلاف جنگ میں ہیلتھ کیئر ورکرز سب سے آگے ہیں اور انہیں سب سے زیادہ انفیکشن کا خطرہ بھی ہے، دنیا بھر میں ہیلتھ کیئر کے شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر ویکسینیشن کی ضرورت ہے۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر صحت کے شعبہ میں ملازمت کرنے والوں میں 70 فیصد خواتین ہیں اور تقریباً 100 ممالک کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق شعبہ صحت کے 72 فیصد ملازمین ہنر مند ہیں۔

آئی ایل او کے مطابق اگرچہ کورونا وائرس کی وبا کو کم کرنے کیلئے صحت کا شعبہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے لیکن اضافی تنخواہ، پیشہ وارانہ تحفظ اور صحت کے خطرات کے ساتھ ساتھ ملازمت کو فروغ دینے کی پالیسیاں نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر ممالک کو ہیلتھ کیئر ورکرز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

نرسوں کی بین الاقوامی کونسل نے رواں سال اکتوبر میں دنیا کے 44 ممالک سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد تخمینہ لگایا کہ کرونا کے وبائی مرض کے آغاز سے ہی کم از کم 1097 نرسوں کی موت ہو چکی ہے اور دنیا بھر میں کورونا کی وجہ سے ہیلتھ کیئر ملازمین کی ہلاکتیں 20 ہزار سے تجاوز کر سکتی ہیں۔