سائنس و ٹیکنالوجی

پاکستان کے 81 پروفیسر دنیا کے ٹاپ 2 فیصد سائنسدان کیسے بنے؟ دھوکے بازی سے

پرویز امیر علی ہود بھائی

’اچھی شہرت‘کی حامل، یونیورسٹیوں کی درجہ بندی کرنے والے ایسے نصف درجن سے زائد عالمی ادارے موجود ہیں جو سالانہ ایک فہرست جاری کرتے ہیں۔

اس فہرست میں بتایا جاتا ہے کہ دنیا کی کون سی یونیورسٹی یا یونیورسٹی کا ڈیپارٹمنٹ نہ صرف اپنے ملک کی یونیورسٹیوں کے مقابلے پر بلکہ عالمی سطح پر بہتر ہے۔ آپ اس زہر کو امرت سمجھ کر پینا چاہتے ہیں تو نفع نقصان کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔ یہ عیار لوگ البتہ سادہ لوح لوگوں کو خوب بیوقوف بناتے ہیں۔ ان کی بنائی ہوئی فہرستوں بارے یہی کہا جا سکتا ہے کہ عام طور پر یہ انتہائی متنازعہ ہوتی ہیں۔ عمومی طور پر یہ فہرستیں حماقت کا نمونہ اور جھوٹے اعداد و شمار کا پلندہ ہوتی ہیں۔

ذرا ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیے: شنگھائی اکیڈیمک رینکنگ آف ورلڈ یونیورسٹیز ہر سال دنیا بھر کی ہزاروں یونیورسٹیوں کی درجہ بندی کرتی ہے۔ 2017ء میں اس ادارے کی ویب سائٹ پر قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ مکینیکل انجینئرنگ کو 76 تا 100 کے خانے میں رکھا گیا۔ اس درجہ بندی میں یہ ڈیپارٹمنٹ ٹوکیو یونیورسٹی سے تھوڑا نیچے مگر مانچسٹر یونیورسٹی سے اوپر تھا۔

اس کے بعد تو کمال ہی ہو گیا۔

ہر سال قائد اعظم یونیورسٹی کی درجہ بندی بہتر ہوتی گئی تا آنکہ سال 2020ء میں یہ یونیورسٹی 51 تا 75 والے زمرے میں آ گئی۔ اس درجہ بندی کے لحاظ سے اب قائد اعظم یونیورسٹی میک گل یونیورسٹی سے تھوڑا نیچے مگر آکسفورڈ یونیورسٹی سے بہتر مقام پر فائز تھی۔ قارئین چاہئیں تو گوگل کی مدد سے ایسی دیگر حیران کن نتائج پر مبنی معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

آکسفورڈ سے بھی بہتر؟ میں نے زندگی کا بیشتر حصہ قائد اعظم یونیورسٹی میں پڑھاتے ہوئے گزارا ہے۔ مجھے تو خوشی سے ناچنا چاہئے تھا مگر افسوس اس بات کاہے کہ قائد اعظم یونیورسٹی میں مکینیکل انجینئرنگ کا شعبہ ہی نہیں ہے۔

مکینیکل انجینئرنگ ایک طرف رہی، قائد اعظم یونیورسٹی میں سرے سے انجینئرنگ پڑھائی ہی نہیں جاتی نہ ہی انجینئرنگ کی درس و تدریس کا کوئی منصوبہ زیر ِغور ہے۔

ایک آدھ بار اس طرح کی غلطی تو سمجھ میں آ سکتی ہے۔ اسے کسی کلرک کی غلطی سمجھ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے مگر ایسا کون سا سافٹ ویئر تھا جو سالہا سال قائد اعظم کے اُس شعبہ مکینیکل انجینئرنگ کی درجہ بندی کرتا رہا جس کا کوئی وجود ہی نہیں؟

آپ کو ہنسی تو آ رہی ہو گی مگر اس سے بھی بڑا لطیفہ ابھی باقی ہے: ٹائمز ہائر ایجوکیشن نے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کو پاکستان کی سب سے بہترین یونیورسٹی قرار دے ڈالا۔

یہ یونیورسٹی نہ تو تحقیق کے لئے مشہور ہے نہ درس و تدریس کے لئے۔ اگر کسی کام میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان نمبر ون ہے تو وہ ہے پرُ تشدد عدم برداشت۔ اپریل 2017ء میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے 23 سالہ طالب علم مشال خان کو توہین مذہب کے الزام میں لاٹھیوں، اینٹوں اور آخر میں گولیوں کی بوچھاڑ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ ننگ دھڑنگ مشال خان کو پورے کیمپس میں گھسیٹا گیا۔ تماشہ دیکھنے والے سینکڑوں طالب علم تالیاں پیٹ رہے تھے، اس واقعہ کی سمارٹ فونز پر ویڈیو بنا رہے تھے اور بعد میں یہ ویڈیوز فیس بک پر پوسٹ کی گئیں۔

ٹھیک ایک ہفتے بعد کیو ایس (QS) کی فہرست سامنے آ گئی۔ اس فہرست میں اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کو پاکستان کی سب سے اچھی یونیورسٹی قرار دے دیا گیا اور عبدالولی خان یونیورسٹی مردان پس منظر میں چلی گئی۔

ایسی من گھڑت درجے بندیوں کی عجیب و غریب داستانیں جا بجا ملیں گی۔ درجہ بندی کرنے والے یہ تجارتی ادارے اپنی فہرستوں کی تیاری کے لئے معائنہ کرنے کے لئے متعلقہ یونیورسٹیوں میں اپنے کوئی انسپکٹر نہیں بھیجتے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو فارم بھیج دئیے جاتے ہیں۔ انتظامیہ جو جی میں آئے لکھ کر فارم واپس بھیج دیتے ہیں۔ درجہ بندی کے لئے ایسے معیار قائم کئے جاتے ہیں جس سے گاہک خوش ہو جائے۔ یوں سب فائدے میں رہتے ہیں۔ ماسوائے طلبہ کے۔

رینکنگ کرنے والے دنیا بھر کے اداروں بارے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ان کے طریقہ کار میں تسلسل نہیں ہے، درجہ بندی کا معیار بدلتا رہتا ہے جبکہ اہم نوعیت کی معلومات کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ چالباز پروفیسر حضرات بھی اس کھیل کو سمجھتے ہیں اور انہیں پتہ ہے کہ یہ کھیل کیسے کھیلنا ہے۔ یوں ان کی ترقی جلدی جلدی ہونے لگتی ہے اور ترقی کا مطلب ہے مالی فائدہ۔ ایسے ممالک جہاں اکیڈیمک اخلاقیات کا خیال رکھا جاتا ہے وہاں تو ایسی درجے بندیوں سے کوئی خاص فائدہ نہیں اٹھایا جاتا مگر پاکستان میں جہاں 2002ء کے بعد سے اکیڈیمک اخلاقیات پستی میں گرتی جا رہی ہیں، یونیورسٹی رینکنگ کے نام پر خوب فائدہ اٹھایا گیا ہے۔

ذرا ملاحظہ کیجئے: تین ہفتے پہلے ملک بھر کے اخبارات میں یہ اچھی خبر نمایاں کی گئی کہ دنیا بھر کے 159,683 سائنس دانوں میں سے 81 پاکستانی سائنس دانوں کو ان کی پبلی کیشنز اور حوالہ جات کی وجہ سے منتخب کیا گیا ہے۔ خبروں کے مطابق سٹینفورڈ یونیورسٹی نے ان 81 شخصیات کو دنیا کے ٹاپ 2 فیصد سائنس دانوں میں شامل کیا ہے۔

یہ سراسر جھوٹ ہے۔ سٹینفورڈ یونیورسٹی نے ایسی کسی فہرست کی توثیق نہیں کی۔ اس فہرست کے چار میں سے ایک مدون، جان پی اے آئیونیڈس، کا تعلق سٹینفورڈ یونیورسٹی سے ہے۔ وہ میڈیکل سٹیٹسٹکس کے پروفیسر ہیں جبکہ باقی تین کا تعلق نجی شعبے سے ہے۔ ان کی تیار کی گئی فہرست اس بنیاد پر بنائی گئی ہے کہ ایک ڈیٹا بیس میں موجود شائع شدہ مقالوں کی تعداد کو کمپیوٹر میں ڈال کر فہرست تیار کر دی جائے۔

یہ فہرست پاکستان کی حد تک تو بے معنی ہے۔ کسی شائع شدہ مقالے کا تحقیقی معیار یا سائنسی معیار کیا تھا، اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ بغیر تحقیق کئے اور بغیر سائنس کی شد بد کے، سائنسی مقالے لکھنانہ صرف پاکستان بلکہ پاکستان سے باہر بھی دھوکے باز پروفیسروں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

اشاعت کے بعد دوسرا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ مقالوں کو شائع کس طرح کرانا ہے۔ چالاک پروفیسر حضرات کے پاس اس کام کے لئے بھی درجنوں گُر موجود ہیں۔

تیسرا اور ذرا مشکل مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ ان مقالوں کو دیگر محقیقین اپنے مقالوں میں بطور حوالہ استعمال کریں تا کہ حوالہ جات کی مد میں بھی کوئی کمی نہ رہ جائے۔ اس مرحلے میں دھوکے باز پروفیسر اپنے دھوکے باز دوستوں کا سہارا لیتے ہیں۔ انڈیا، چین، جنوبی افریقہ اور بعض دیگر ممالک میں ایسے دوست وافر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔

تعلقات پر مبنی اس نیٹ ورک کو حوالہ جات مافیا (Citation Cartel) کہا جاتا ہے۔ یہ مافیا ہر سال بے شمار مقالے شائع کرتا ہے مگر ان کی شائع کی ہوئی مطبوعات پر مبنی بے معنی ڈھیر اصل سائنس دانوں کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا۔

پاکستان مین البتہ اس کام سے کئی فائدے اٹھائے جاتے ہیں۔ آپ چیئرمین سے ہوتے ہوئے ڈین، وائس چانسلر یا ایک با اثر کل پرزہ بن جاتے ہیں۔ یہ لوگ پھر کسی حقیقی اکیڈیمک کا کام بھی سامنے نہیں آنے دیتے تاکہ ان کا اپنا پول نہ کھل جائے۔

’سٹینفورڈ فہرست‘ میں جگہ پانے والے چند سائنس دانوں کو تو میں جانتا ہوں۔ ان سائنس دانوں کی حالت یہ ہے کہ سٹینفورڈ یونیورسٹی جیسی کسی ڈھنگ کی یونیورسٹی میں بطور انڈر گریجویٹ داخلے کے لئے اس یونیورسٹی کا داخلہ ٹیسٹ بھی پاس نہ کر سکیں۔ باقیوں بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا: ہو سکتا ہے وہ واقعی اچھے سائنس دان ہوں۔ سپیشلائزیشن کے اس دور میں ایک سائنس دان یہ کیسے طے کرے کہ مختلف شعبوں میں مہارت رکھنے والے دیگر سائنس دانوں کے کام کا معیار کیا ہے؟

پاکستان میں حقیقی پروفیسروں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے اس لئے یہ کام اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ یونیورسٹیوں کے جو موجودہ مہتمم ہیں، ان سے تو کوئی توقع نہ رکھی جائے کیونکہ ان کا تو دھندا ہی فراڈ کی مدد سے چل رہا ہے۔

ہزار میں سے سو حقیقی پروفیسر تلاش کرنا بھی مشکل ہو گا۔ پاکستان میں یونیورسٹی کا نظام شائد اس مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں بہتری کی گنجائش باقی نہیں رہ چکی۔ فرض کیجئے آپ اس قدر مایوسی کا شکار نہیں ہیں۔ ایسے میں اچھے برے کی تمیز کیسے کی جائے؟

آسان سا حل ہے: ہر یونیورسٹی اور ہائر ایجوکشن کمیشن یہ شرط رکھ دے کہ جو اکیڈیمک بھی سائنسی مقالے پیش کرنے کا دعویٰ کرے، اُسے کہا جائے کہ وہ ماہرین کے سامنے اپنا مقالہ پیش کرے۔ یہ ماہرین اس سے سوال جواب کریں۔ اچھی ساکھ رکھنے والے غیر ملکی ماہرین کو بھی شامل کیا جائے۔ ٹیکنالوجی (زوم، سکائپ، ایبیکس وغیرہ) کے ہوتے ہوئے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس سارے عمل کی ویڈیو بھی بنائی جائے تا کہ آئندہ بھی لوگ اس عمل کو دیکھ سکیں۔ مقالہ نگار سے پوچھا جائے کہ متعلقہ مقالے نے ہمارے علم میں کیا اضافہ کیا ہے۔

یہ عمل بھی بہت جامع عمل نہیں ہے۔ شفافیت ہر مرض کا علاج نہیں۔ پھر بھی اس عمل کے نتیجے میں سٹینفورڈ کی تیار کردہ فہرست میں اَسی سے سو فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ خود نمائی اور سرکاری پالیسیوں نے، جن کی وجہ سے بد دیانتی کا کلچر فروغ پاتا ہے، پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ جب تک سخت اقدامات نہیں کئے جاتے، اس زوال پذیری کو روکنا ممکن نہیں۔ ہمیں اب اس کام کا آغاز کر دینا چاہئے۔

Pervez Hoodbhoy

پرویز ہودبھائی کا شمار پاکستان کے چند گنے چنے عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ اُن کا شعبہ نیوکلیئر فزکس ہے۔ وہ طویل عرصے تک قائد اعظم یونیورسٹی سے بھی وابستہ رہے ہیں۔