قیصرعباس
(چار قطعات)
اترے ہو سنگھاسن سے تو اب د ھیان میں رکھنا
ڈھلتی ہوئی راتوں کے قدم رکنے لگے ہیں
نکلے ہو تو ہر ایک قدم سوچ کے رکھنا
وہ خار جو بوئے تھے وہ اب اگنے لگے ہیں
شاہ زادوں کی طبیعت لے کر
گر رہے ہیں سنبھل رہے ہیں ہم
شہ سواری مزاج ہے اپنا
ریگ زاروں پہ چل رہے ہیں ہم
ایک تفریق مسلسل ہے جہاں
صحن گلشن بھی یہاں خار بھی ہے
اک طرف خاک اڑاتی بستی
اک طرف قصر شہر یار بھی ہے
پھول کو زیر سناں رکھتے ہیں
سنگ ریزوں کی زباں رکھتے ہیں
دکھ بھی دیتے ہیں انہیں کو ہم لوگ
جن کو نزد رگ جاں رکھتے ہیں
Qaisar Abbas
ڈاکٹر قیصر عباس روزنامہ جدو جہد کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کرنے کے بعد پی ٹی وی کے نیوز پروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں امریکہ منتقل ہوئے اور وہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کی۔ امریکہ کی کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں اور آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔ وہ ’From Terrorism to Television‘ کے عنوان سے ایک کتاب کے معاون مدیر ہیں جسے معروف عالمی پبلشر روٹلج نے شائع کیا۔ میڈیا، ادبیات اور جنوبی ایشیا کے موضوعات پر ان کے مقالے اور بک چیپٹرز شائع ہوتے رہتے ہیں۔