دنیا

وادی کشمیر میں خوف کے سائے: شادی ہالوں پر قبضے اور تلاشیوں کی تضحیک پھر سے شروع

حارث قدیر

بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں 5 ہزار اہلکاران پر مبنی مزید نیم فوجی دستوں کو تعینات کر دیا ہے، یہ اضافی دستے وادی کشمیر کے 8 اضلاع میں آبادیوں کے اندر تعینات کئے جا رہے ہیں۔ سنٹرل ریزرو پیراملٹری فورسز (سی آر پی ایف) کے 5 ہزار اہلکاران پر مبنی 50 کمپنیوں نے سرینگر اور نواحی اضلاع کے شادی ہالوں پر قبضہ جما لیا ہے۔ دوسری طرف سرینگر کے چوکوں اور چوراہوں پر نئے فوجی بنکروں کے قیام کے بعد عوامی سطح پر تلاشیوں کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر سے شروع کر دیا گیا ہے۔

’کشمیر والا‘ کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران سی آر پی ایف نے سرینگر شہر کے شاتر شاہی، الٰہی باغ کے علاقوں میں شادی ہالوں پر قبضہ کیا ہے اور باربرشاہ اور نوشہرہ اور دیگر علاقوں میں مشقیں بھی کی ہیں۔

بھارت کی مرکزی حکومت نے گزشتہ ماہ ہونے والی شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعات کے تناظر میں جموں کشمیر میں سی آر پی ایف کی اضافی 50 کمپنیاں تعینات کرنے کا حکم دیا تھا۔

حکومت ہند (GoI) نے گزشتہ ماہ شہری ہلاکتوں کے حالیہ واقعات کے تناظر میں جموں اور کشمیر میں ’CRPF‘ کے اضافی 5000 (50 کمپنیاں) فوجیوں کو تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اضافی تعینات کئے گئے نیم فوجی دستوں میں سے3ہزار اہلکاران اور افسران کو صرف سرینگر میں تعینات کیا گیا ہے۔ ان فورسز میں 11 کمپنیاں سی آر پی ایف اور 19 کمپنیاں بارڈر سکیورٹی فورسز (بی ایس ایف) کی شامل ہیں۔

اسی طرح اننت ناگ میں 5 کمپنیاں، گاندر بل، پلوامہ اور شوپیاں کے اضلاع میں تین تین کمپنیاں تعینات کی جائیں گی، جبکہ کولگام، اونتی پورہ اور بارہمولہ اضلاع میں دو دو کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔

اضافی دستوں کو ایڈجسٹ کرنے کیلئے کمشنر سرینگر میونسپلٹی کمیٹی نے شادی ہال فراہم کرنے کیلئے رئیل اسٹیٹ افسر کے ساتھ میٹنگ کی۔ شتر شاہی علاقے کے مقامی باشندوں کے مطابق سی آر پی ایف کے افسران پیر کے روز شادی ہالوں کا دورہ کرنے آئے اور اگلے ہی روز منگل کو ٹرکوں کے ایک قافلے میں آنے والے فوجیوں نے عمارت پر قبضہ کر لیا۔

نیم فوجی دستوں کے شادی ہالوں پر قبضے کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ایک 50 سالہ شہری کا کہنا تھا کہ ”ہم ایک گنجان آباد علاقے میں رہتے ہیں اور سی آر پی ایف کی موجودگی ہماری روز مرہ سرگرمیوں کے دوران مشکلات کا باعث بنے گی، میرے گھر میں بیٹیاں ہیں، انکا باہر جانا مشکل ہو جائے گا، خاص کر اندھیرے میں تو یہ ممکن ہی نہیں رہے گا۔“

شتر شاہی ہاؤسنگ کالونی کی رابطہ کمیٹی کے صدر شبیر راجہ کا کہنا تھا کہ ”کسی نے بھی سی آر پی ایف کے شادی ہال لینے سے متعلق ہمیں مطلع نہیں کیا، ہم اپنے علاقے میں بڑی تعداد میں فوج کی موجودگی کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ فوجیوں کی تعیناتی کے خلاف تو نہیں ہیں لیکن انہیں ایسی جگہ رکھا جانا چاہیے جہاں رہائشی آبادی کم ہو۔“

شبیر راجہ کا کہنا تھا کہ ”شادی ہال اس علاقے میں وہ واحد جگہ تھی جہاں تمام تقاریب منعقد ہوتی تھیں۔ شادی ہو یا خاندان میں موت، اس شادی ہال میں ہی تمام تقریبات ہوتی تھیں، اب ہمارے پاس کسی بھی سرگرمی کو انجام دینے کیلئے علاقے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔“

45 سالہ جاویدہ اپنے آس پاس کے علاقے میں سی آر پی ایف کی موجودگی میں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ”ہم محفوظ محسوس نہیں کرتے۔ اگر یہاں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے تو کیا ہوگا؟ ہم کہاں جائیں گے۔“

شہریوں کیلئے فوجی دستوں کی تعیناتی اور نئے بنکروں میں بندوق بردار فوجی و نیم فوجی دستوں کی جانب سے تلاشیوں کایہ سلسلہ 90ء کی دہائی کی یادیں تازہ کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ نوے کی دہائی میں بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں عسکریت پسندی کا سلسلہ توڑنے کیلئے بھارتی فوج کو جہاں غیر معمولی اختیارات دیئے گئے تھے، وہیں بڑی تعداد میں افواج کو آبادیوں اور شہروں کی سڑکوں پر تعینات کیا گیا تھا۔ فوج کی آبادیوں میں موجودگی کا یہ سلسلہ وقت کے ساتھ بڑھتا ہی رہا اور ساتھ ہی فوجی مظالم مزید نوجوانوں کو بندوق اٹھانے پر مجبور کرتے رہے۔

انفرادی دہشت گردی اور فوجی بربریت کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔ جہاں انفرادی دہشت گردی مختلف سامراجی و کمپراڈور ریاستوں کیلئے پراکسی کھیل کھیلنے کی راہ ہموار کرتی ہے، وہیں قابض و جابر ریاستوں کو فوج کشی کرنے، جنگی جرائم اور معصوم انسانوں کو فوجی درندگی کے رحم و کرم پر چھوڑنے کا جواز بھی فراہم کرتی ہے۔

سرینگر اور گردونواح میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات نے ایک مرتبہ پھر بھارتی ریاست کو یہ جواز فراہم کیا ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر آبادیوں میں فوجی و نیم فوجی دستوں کو تعینات کریں، فوج اور نیم فوجی دستوں کو حاصل بے جا اختیارات پھر جنگی جرائم، اخلاقی و مالیاتی کرپشن کا راستہ بھی ہموار کریں گے اور ایک نیا عفریت وادی کے باسیوں پر مسلط ہو جائے گا۔

بالکل اسی طرح فوجی اور جنگی جرائم کا عسکری رد عمل کئی وجوہات کی بنا پر ناگزیر ہو جاتا ہے۔ جہاں بندوق بردار افواج کی آبادیوں میں موجودگی انسانوں کی روح اور اساس کو جھنجھوڑتے ہوئے گہرے نفسیاتی اثرات مرتب کرتی ہے، وہیں جگہ جگہ پر تلاشیاں اور تلاشیوں کے نام پر تضحیک و تذلیل انسانی ذہن پر وہ ان منٹ نقوش چھوڑ جاتی ہے کہ اگر وہ اس کا فوری رد عمل دے کر اس غصے کو ٹھنڈا نہیں بھی کرتے تو یہ تذلیل و تضحیک کے اثرات انہیں زندگی بھر پرسکون نیند سے بھی محروم کر دیتے ہیں۔

بھارتی حکمران سماجی و معاشی مسائل حل کرنے سے قاصر ہو چکے ہیں، جموں کشمیر کی آئینی حیثیت کی تبدیلی کے پیچھے جو خواب دکھائے جا رہے تھے، وہ پورے کرنے میں بری طرح سے ناکام ہونے کے بعد ایک سیاسی تحریک کے ممکنہ ابھار کو روکنے کیلئے ایک مرتبہ پھر وادی کشمیر پر خوف اور وحشت کو مسلط کرنے کا یہ اقدام شروع کیا جا رہا ہے۔ خوف کا یہ مسلسل سلسلہ جہاں آبادی کی وسیع اکثریت کو سیاسی میدان میں آنے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے سے روکنے کا باعث بن رہا ہے، وہیں چند نوجوان فوری رد عمل کے طور پر بندوق اٹھانے پرمجبور ہوتے ہیں، جسے بھارتی ریاست مزید جبر کیلئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ تاہم یہ سلسلہ زیادہ لمبے عرصے تک جاری رہنے والا نہیں ہے۔ آبادی کی وسیع اکثریت کو مسلسل خوف میں مبتلا نہیں رکھا جا سکتا۔ 3 دہائیوں سے جس وادی پر خوف کے سائے مسلط کرتے ہوئے ڈیڑھ ارب انسانوں کو الجھائے رکھا گیا ہے، یہ وادی اس خوف اور جبر کو جب جھٹکے گی تو بغاوت پورے برصغیر کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔