خبریں/تبصرے

26 نومبر کو ملک بھر میں طلبہ یکجہتی مارچ ہوں گے

علی رضا

پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو نے 26 نومبر، بروز جمعہ، ملک بھر میں طلبہ یکجہتی مارچ کا اعلان کیا ہے۔ اس مارچ کے بنیادی مطالبات میں طلبہ یونین کی بحالی، کل جی ڈی پی کا 5 فیصد تعلیم کے لیے مختص کرنا، جامعات میں ہراسگی کمیٹیوں کا قیام اور اس میں طالبات کی شمولیت، کیمپس کی سکیورٹیرائزیشن ختم کرنا، ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی یقینی بنانا، تمام طلبہ اسیران کی رہائی اور دیگر 10 مطالبات شامل ہیں۔ یاد رہے طلبہ یونین کی بحالی کے لیے کیا جانے والا یہ چوتھا سالانہ مارچ ہے۔

تفصیلات کے مطابق طلبہ 2018ء سے ہر سال طلبہ یونین کی بحالی اور دیگر مطالبات کے حق میں طلبہ یکجہتی مارچ کا انعقاد کر رہے ہیں تاہم ابھی تک طلبہ یونین بحال نہیں ہو سکی۔ 2019ء کے مارچ کے بعد تمام سیاسی جماعتوں نے طلبہ یونین کی بحالی کی حمایت کی تھی، سندھ اسمبلی میں طلبہ یونین بل بھی پیش ہوا لیکن اس پر مزید پیشرفت نہیں کی گئی۔ اسی مطالبے کے لیے طلبہ ایک بار پھر طلبہ یکجہتی مارچ کا انعقاد کرنے جا رہے ہیں اس حوالے سے پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کی مرکزی کابینہ نے گزشتہ ہفتے لاہور میں پریس کانفرنس کی جس میں طلبہ یکجہتی مارچ کے مطالبات پیش کیے گئے۔ اس موقعہ پر پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے صدر قیصر جاوید کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں تعلیمی بحران شدت اختیار کر چکا ہے، تعلیمی بجٹ میں مسلسل کمی اور مہنگائی میں اضافے کے باعث غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے تعلیم جاری رکھنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے، انھوں نے چونگی امر سدھو کے ایک سکول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف ایک سال میں ایک ہائی سکول سے 92 طلبہ سکول چھوڑ چکے ہیں اور مختلف ملازمتیں کر رہے ہیں اور ملک کے بیشتر علاقوں کی صورتحال یہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ساری صورتحال کی وجہ تعلیم جیسے شعبوں کے بجٹ کو ڈیفنس اور سرمایہ داروں کو سبسڈی دینے پر خرچ کرنا ہے۔ اور ہم اس پالیسی کے خلاف مارچ کرنے جا رہے ہیں۔

اس موقع پر پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کی ترجمان مقدس جرال نے کہا کہ جو بجٹ تعلیم کے لیے مختص بھی کیا جاتا ہے وہ بھی طلبہ تک نہیں پہنچ پاتا یا ان کی ضروریات کے مطابق خرچ نہیں ہو پاتا کیونکہ فیصلہ سازی میں طلبہ کا کوئی کردار نہیں ہے جس کی وجہ دہائیوں سے طلبہ یونین پر عائد پابندی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ طلبہ کو جامعات میں جنسی ہراسگی، گندے پانی، ہوسٹلز ٹائمنگ کی پابندی اور دیگر کئی مسائل کا سامنا ہے جن کے حل کی طرف ایک اہم قدم طلبہ یونین ہے اس لیے ہم حکومت سے طلبہ یونین کی بحالی کے لیے 26 نومبر کو ملک بھر طلبہ یکجہتی مارچ کا انعقاد کرنے جا رہے ہیں۔ اور اگر حکومت نے اس کے بعد بھی طلبہ یونین بحال نہ کی تو ہم چاروں صوبوں کی اسمبلیوں کے سامنے دھرنا دیں گے۔