لاہور(جدوجہد رپورٹ) بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں پولیس چوکی پر تقریب کی میزبانی کرنے کی وجہ سے سب انسپکٹر کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ذاکر کالونی چوکی کے انچارج سب انسپکٹر شیلیندر پرتاب اور انسپکٹر وشنو کمار نے رمضان کے دوران مسلم رہائشیوں کے اعزاز میں افطار ڈنر کی ایک تقریب پولیس چوکی میں منعقد کی تھی۔
ہندو انتہاء پسند تنظیم کے دباؤ کی وجہ سے بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے ایک نجی سکول کو عید ملن پارٹی کی تقریب بھی منسوخ کرنا پڑی ہے۔
17مارچ کی اس تقریب کی ویڈیو بڑے پیمانے پر آن لائن شیئر ہو رہی ہے۔ویڈیو میں پولیس اہلکاروں کو کرسیاں لگاتے اور علاقے کے مسلم کمیونٹی کو افطار کرواتے دیکھا جا سکتا ہے۔
’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق ایس ایس پی روہت سنگھ سجوان نے اس تقریب کو ’پروٹوکول کی خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے شیلیندر پرتاپ کو معطل کر دیا ہے۔
مسلم رہنماؤں نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کے عقیدے کی توہین ہے۔ پولیس تھانوں میں دیوالی اور ہولی کے دوران تقاریب منعقد کی جاتی ہیں، تب کسی کو اعتراض نہیں ہوتا، لیکن افطار کو پروٹوکول کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی کارکن عائشہ پروین نے کہا کہ مسلمانوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی رسومات کو پوشیدہ رکھیں، جبکہ ہندو رسومات کو معمول کے مطابق سمجھا جاتا ہے۔ یہ قواعد کے بارے میں نہیں ہے۔
ادھر شملہ میں ایک سکول میں 28مارچ کو عید ملن پارٹی منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم ایک ہندو انتہاء پسند تنظیم کی جانب سے احتجاج اور دھمکیوں کے بعد سکول نے بچوں کی حفاظت کو اولین قرار دیتے ہوئے یہ تقریب منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ سکول کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سکول میں تمام مذہبی تہواروں کے موقع پر خصوصی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں، تاکہ بچوں کو مذہبی ہم آہنگی اور ثقافتی تنوع کے بارے میں تعلیم دی جا سکے۔ تاہم عید کی تقریب پر خصوصی اعتراض کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت میں بھارتی مسلمانوں کے خلاف نفرت، تعصب اور امتیازی کارروائیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مسلم مخالف سیاسی تقاریر، مسلمانوں کے کاروبار کے بائیکاٹ کی مہم، موب لنچنگ جیسے جرائم کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ اسی طرح مساجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا سلسلہ بھی عروج پر ہے۔
ہندو انتہاء پسندی کو استعمال کر کے مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر سماج کو تقسیم کر کے نفرتوں کی بنیاد پر حکمرانی کے اس منصوبے میں بھارتی محنت کشوں پر معاشی، سیاسی اور ریاستی جبر اپنی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔