خبریں/تبصرے

بچوں کی پرائیویسی میں مداخلت پر یوٹیوب کو 170 ملین ڈالر جرمانہ

عظمت آفریدی

معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”یوٹیوب“ کوبچوں کاذاتی ڈیٹا ان کے والدین کی اجازت کے بغیر اکھٹاکرنے پرگوگل کو 170 ملین امریکی ڈالرجرمانہ کیاگیاہے۔ یاد رہے 2006ء سے یو ٹیوب گوگل کی ملکیت ہے۔

جرمانے کا فیصلہ 4 ستمبر کو امریکہ میں متعلقہ محکمے نے کیا ہے۔ اس جرمانے کے بارے میں اب عدالت فیصلہ کرے گی۔

امریکہ کے فیڈرل ٹریڈکمیشن اورنیویارک کے اٹارنی جنرل نے یوٹیوب پرالزام عائدکیاتھا کہ اس نے دانستہ طور پر 1998ء میں لاگو کئے جانے والے چلڈرنز آن لائن پرائیویسی پروٹیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرقانونی طورپربچوں بارے معلومات اکٹھی کیں۔

ان معلومات کی بنیاد پر بچوں کو اشتہارات کا نشانہ بنایا گیا‘ یعنی تجارتی اشتہارات مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کے ذریعے ان بچوں تک پہنچائے گئے جو یوٹیوب استعمال کرتے تھے۔ ان اشتہاروں کی مدد سے بچوں کو چیزیں (کھلونے، گیمز وغیرہ) خریدنے پر مائل کیا جاتا ہے۔ بہت سے مغربی ممالک میں ایسے قوانین موجود ہیں جن کا مقصد ہے کہ تجارتی اور اشتہاری کمپنیاں بچوں کو نشانہ بنا کر اشتہار بازی نہ کر سکیں۔

واضح رہے آن لائن پرائیویسی کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی تنظمیں بچوں کے لئے اشتہارات سے پاک بچپن کویقینی بنانے کامطالبہ کرتی ہیں۔

عظمت آفریدی نے پشاور یونیورسٹی سے ابلاغیات میں ایم اے کیا ہے۔ وہ سیاسیات، معاشیات، مذاہب اور تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔