خبریں/تبصرے

بلدیاتی انتخاب کے نام پر بھارتی کشمیر میں 49 اضافی بٹالینز تعینات کرنیکا حکم

راولاکوٹ (نامہ نگار) بھارت کی مرکزی وزارت داخلہ نے بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں پنچائتوں اور ضلعی ترقیاتی کونسلوں (ڈی ڈی سی) کے انتخابات کے پیش نظر نیم فوجی دستوں (سی آر پی ایف) کی 49 اضافی بٹالینز تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔

خبررساں ایجنسی ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق ان نیم فوجی دستوں کو بھارت کی مختلف ریاستوں سے بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ وزارت داخلہ نے مقامی انتظامیہ کو کہا ہے کہ وہ گولہ بارود، انسداد فسادات کے خصوصی ساز و سامان اور موسم سرما کے لباس کی تیاری کے انتظامات کریں۔

بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے ریاستی الیکشن کمیشن نے گزشتہ سال اگست میں آرٹیکل 370 کو غیر موثر بنائے جانے کے بعد پہلی مرتبہ پہلی بڑی انتخابی مشق کا اعلان کیا ہے۔ یہ انتخابی مشق 20 ضلعی ترقیاتی کونسلوں اور خالی پنچایتی و میونسپل نشستوں پر انتخاب کیلئے آٹھ فیز میں تکمیل پذیر ہو گی۔ 153 خالی پنچایتی نشستوں پر ضمنی انتخاب اور 234 شہری مقامی وارڈوں کیلئے انتخابات ہو نگے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال پانچ اگست کے بعد تین سابق وزرائے اعلیٰ اور سابقہ ریاستی اسمبلی کے ممبران سمیت ہزاروں افراد کی نظر بندی و گرفتاری کے علاوہ لینڈ لائن و موبائل ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کو بند کر دیا گیا تھا اور اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی کر کے چھ ماہ سے زیادہ عرصہ تک مکمل لاک ڈاؤن نافذ رکھا گیا تھا۔

بھارتی حکومت نے رواں سال اکتوبر میں جموں کشمیر پنچائت راج ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے ہر ضلع میں ضلعی ترقیاتی کونسلیں قائم کی تھیں، جن کیلئے براہ راست ممبران منتخب ہونگے۔ انتخابات کے پہلے مرحلہ میں اٹھائیس نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے، جبکہ پولنگ کا آخری مرحلہ 19 دسمبر کو ہو گا اور ووٹوں کی گنتی بائیس دسمبر کو ہو گی۔ ضلعی ترقیاتی کونسلوں اور پنچایتی ضمنی انتخابات بیلٹ کے ذریعے ہونگے، بلدیاتی نشستوں پر انتخاب الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے کیا جائے گا۔

بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کی مرکزی دھارے میں شامل تمام جماعتیں انتخابی عمل میں حصہ لے رہی ہیں، تاہم بیشتر جماعتیں گپکار اعلامیے کے تحت عوامی اتحاد کے بینر تلے اس انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں۔ ضلعی ترقیاتی کونسلوں کے انتخابات پارٹی بنیادوں پر جبکہ پنچایتی ضمنی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر منعقد ہو رہے ہیں۔