خبریں/تبصرے

بھارت: کسان مخالف قوانین سپریم کورٹ نے عارضی طور پر معطل کر دئیے

لاہور (جدوجہد رپورٹ) بھارتی سپریم کورٹ نے منگل کے روز حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے 3 کسان مخالف قوانین کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ ان قوانین کے خلاف بھارت کے ہزاروں کسان احتجاج کر رہے ہیں۔

کسانوں نے 26 نومبر کو ان تین قوانین کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصہ ہو گیا ہے بھارتی کسان دارالحکومت نئی دہلی کو پنجاب اور ہریانہ سے ملانے والے مرکزی راستوں کو بلاک کر کے احتجاجی دھرنا پر بیٹھے ہیں۔ اس دوران کسانوں اور حکومت کے درمیان ہفتوں تک ہونے والے مذاکرات ناکام ہوتے رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے فریقین کو سماعت کرنے، قوانین کے مشمولات کا جائزہ لینے اور قانون سازی کے دائرہ کار پر اختلافات دور کرنے اور حتمی فیصلے پر ججوں کی رہنماؤں کیلئے زرعی امور پر ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کا بھی حکم دیا ہے۔

کسان رہنماؤں نے قوانین کو معطل کرنے کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وہ نہیں ہے جس کی ہم تلاش کر رہے ہیں، ہماری تحریک جاری رہے گی۔

کسان رہنما یوگیندر یادو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ”کاشتکار ایسی کمیٹی کے قیام کی مخالفت نہیں کرتے لیکن اس میں حصہ نہیں لیں گے۔ کسانوں کیلئے نقصان دہ تینوں قوانین زرعی منڈی کو غیر منقطع کرتے ہیں اور کم سے کم سپورٹ پرائس کو ختم کرتے ہیں، اس طرح کاشتکاروں بڑی کمپنیوں کے رحم و کرم پر رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ قانون معاہدہ پیداوار بھی قائم کرتے ہیں جن کے تحت کسان اور خریدار پودے لگانے سے پہلے فروخت کی قیمتوں پر متفق ہو جاتے ہیں۔“

بھارتی حکومت ان اصلاحات کا دفاع کرتی ہے کہ اس سے کسانوں کو اپنی شرائط پر بات چیت کرنے کا موقع ملے گالیکن کسانوں کو لگتا ہے کہ یہ قانون انہیں بڑے کاروباریوں کے ہاتھوں بے بس کر دینگے۔