خبریں/تبصرے

2020ء: چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کیلئے خوفناک سال

لاہور (جدوجہد رپورٹ) ہیومن رائٹس واچ نے سال 2020ء کو چین میں انسانی حقوق کیلئے ایک خوفناک سال قرار دیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ہانگ کانگ میں اختلاف رائے رکھنے والوں پر تشدد، مسلم ایغور اقلیت پر جبر اور کورونا وبا سے متعلق اطلاع دینے والوں کو خاموش کروانے جیسے جبری اقدامات کئے گئے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق چین کی ایک عدالت نے گزشتہ ماہ ایک شہری صحافی کو چار سال قید کی سزا سنائی تھی جس نے کورونا وائرس دنیا بھر میں پھیلنے سے پہلے ووہان میں وائرس سے متعلق اطلاع دی تھی، جبکہ دیگر افراد کو بھی غائب کر دیا گیا۔

ہیومن رائٹس واچ چین کی ڈائریکٹر سوفی رچرڈسن نے سالانہ رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کہا کہ ”شہری صحافیوں کے خلاف ایک مخصوص لمحے میں ہونے والی کارروائیاں چین میں انسانی حقوق کی صورتحال عیاں کرنے کیلئے کافی ہیں۔“

ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کینتھ روتھ نے رائٹرز کو بتایا کہ ”چین عالمی انسانی حقوق کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور چینی صدر ژی جن پنگ نے 1989ء میں تیانامین اسکوائر کریک ڈاؤن کے بعد سے ملک میں شدید جبر کا آغاز کیا تھا۔ گزشتہ سال ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کا قانون نافذ کیا تھا جس کے تحت گزشتہ ہفتے 53 جمہوریت نواز کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ بیجنگ کو ان الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑا کہ اس نے مغربی چینی خطے سنکیانگ میں ایغور اقلیت کو جبری مشقت پر مجبور کیا، تاہم چین اس سے انکار کرتا ہے۔“

سوفی رچرڈسن نے ایک ویبینار میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”میانمار میں روہنگیا مسلمانوں اور ایغوروں کی حالت زار ایک ہی جیسی ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر بہت کمزور رد عمل ظاہر کیا گیا۔ یورپی یونین نے بیجنگ کے ساتھ سرمایہ کاری کے معاہدوں پر اتفاق کیا اور صرف مبہم توقعات پر اتفاق کیا کہ چین جبری مشقت اور دوسرے مسائل پر پر اعلیٰ معیارات کی پاسداری کرے گا۔“

انہوں نے بتایا کہ ”چین پر تنقید کرنے کے لئے مزید حکومتیں اکٹھی ہو رہی ہیں۔ ہمارے خیال میں حکومتوں اور اقوام متحدہ جیسے اداروں کیلئے چینی حکومت کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر معافی کے احساسات کو ختم کرنا اولین ترجیح ہے۔“