خبریں/تبصرے

عظیم انقلابی رہنما امجد شاہسوار ہم سے جدا ہو گئے، دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات

لاہور (جدوجہد رپورٹ) پاکستان سمیت دنیا بھر کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی انقلابی جدوجہد کے عظیم رہنما، پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے نوجوانوں اور طلبہ کی انقلابی روایت جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (جے کے این ایس ایف) کے سابق مرکزی صدر امجد شاہسوار ہم سے جدا ہو گئے۔ وہ طویل عرصہ سے ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں مقیم تھے، ہفتہ 16 جنوری 2021ء کی رات حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ان کی موت واقعہ ہوئی، اس وقت وہ گھر میں اکیلے تھے۔ اتوار کی صبح ان کا پوسٹ مارٹم کیا گیا اور انکا جسد خاکی پاکستان بھیجنے کے پراسیس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ آج انکے جسد خاکی کو پاکستان بھیجنے کے شیڈول کا اعلان کیا جائیگا۔

امجد شاہسوار کی اچانک موت نے نہ صرف جموں کشمیر و پاکستان بلکہ دنیا بھر میں انقلابی نوجوانوں اور محنت کشوں کیلئے فضا سوگوار کر دی ہے۔ دنیا بھر میں امجد شاہسوار کے ساتھی اور مختلف رجحانات سے تعلق رکھنے والے انقلابی رہنما انکی اچانک موت پر دکھی ہیں۔ پاکستان کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور جموں کشمیر سے مختلف ترقی پسند تنظیموں، ٹریڈ یونینوں، کسان تنظیموں اور محنت کش طبقے کی دیگر انجمنوں کے رہنماؤں نے امجد شاہسوار کے بچھڑ جانے پر انکی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اور جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین سے تعلق رکھنے والے انکے ساتھیوں اور اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پیپلز سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پشتون سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، جموں کشمیر سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ، انقلابی طلبہ محاذ، ایپکا، ٹیچرز آرگنائزیشن، پیپلز یونٹی، ریل مزدور اتحاد، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں، تاجر تنظیموں نے امجد شاہسوار کی اچانک موت کو ایک صدمہ قرار دیتے ہوئے انکی جدوجہد کے ساتھیوں اور خاندان کے ممبران سے تعزیت کا اظہار کیا۔ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سمیت دیگر طلبہ تنظیموں اور ترقی پسند تنظیموں کی طرف سے امجد شاہسوار کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے سوشل میڈیا پر بھی ایک مہم چلا رکھی ہے۔

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے امجد شاہسوار کی آخری سفر کو انقلابی جوش اور جذبے سے مزئین کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد سے جسد خاکی کو جلوس کی شکل میں لایا جائیگا اور کشمیر بھر سے کارکنان آزاد پتن پل پر انکا شایان شان استقبال کرتے ہوئے بڑے قافلے کی صورت راولاکوٹ لائیں گے۔ صابر شہید سٹیڈیم راولاکوٹ میں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد آبائی قبرستان تراڑ دیوان میں سپرد خاک کیا جائیگا۔ تاہم استقبال، نماز جنازہ کے اوقات اور شیڈول فلائٹ کے اوقات کار فائنل ہونے کے بعد جاری کیا جائیگا۔

واضح رہے کہ امجد شاہسوار جموں کشمیرمیں نوجوانوں کی انقلابی روایت جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن ’JKNSF‘ کے عظیم رہنماؤں میں بھی شامل رہے، انہوں نے نہ صرف جے کے این ایس ایف کو اپنی اساس اور سائنسی نظریات پر استوار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، بلکہ وہ پاکستانی زیرِانتظام جموں کشمیر میں جدید سائنسی سوشلزم کے نظریات کا جرأت مندی سے دفاع کرنے اور نوجوانوں کو نظریات سے لیس کرتے ہوئے انقلابی قیادت کی تعمیر کرنے والے اولین رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔

امجد شاہسوار نے پاکستان بھر میں نوجوان کو انقلابی نظریات سے لیس کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ محنت کشوں اور طلبہ کے حقوق کیلئے جدوجہد کرتے ہوئے نہ صرف جموں کشمیر میں بلکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں متعدد مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، پولیس تشدد اور ریاستی جبر کے خلاف ہمیشہ سینہ تان کر کھڑے رہے۔

اپنے تیس سالہ سیاسی کیرئیر میں ایک نڈر، بے باک اور نظریات پر اپنا سب کچھ قربان کر دینے والے کامریڈ امجد شاہسوار نے نوجوانوں اور محنت کشوں کے حقوق کی بازیابی اور جموں کشمیر کی آزادی کیلئے لازوال جدوجہد کی اور اپنی آخری سانس تک انقلابی جدوجہد کا سرگرم حصہ رہے۔ ان کے اسی کردار کی وجہ سے ہر سیاسی نظریہ اور سوچ کے حامل طلبہ اور نوجوانوں میں وہ بے حد مقبول رہے۔

ان کے تمام انقلابی ساتھی اور جموں کشمیرسمیت دنیا بھر میں بسنے والے انقلابی نوجوان آج ایک عظیم قائد سے محروم ہو گئے ہیں۔

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کامریڈ امجد شاہسوار کو خراج عقیدت پیش کرنے کا واحد طریقہ ان کے نظریات اور افکار پرکاربند رہتے ہوئے محنت کشوں اور نوجوانوں کو جدید سائنسی سوشلزم کے نظریات سے لیس کرتے ہوئے اس خطے سے ہر طرح کے ظلم، استحصال اور غلامی سے نجات کی جدوجہد کو تیز تر کرنا اور حتمی فتح تک اس جدوجہد کو جاری رکھنا ہے۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین ’PTUDC‘ نے بھی ایک بیان میں کامریڈ امجد شاہسوار کی عظیم جدوجہد کو خراج عقیدت اور سرخ سلام پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کے ادھورے مشن کو بہر صورت جاری رکھے گی، ہم محنت کشوں اور نوجوانوں کے سرخ پرچم کو کبھی سرنگوں نہیں ہونے دیں گے اور سوشلسٹ انقلاب تک یہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔