خبریں/تبصرے

آزاد عدلیہ نے 3 ماہ فیصلہ محفوظ رکھنے کے بعد علی وزیر کی درخواست ضمانت مسترد کر دی

لاہور (جدوجہد رپورٹ) وزیرستان سے منتخب ممبر قومی اسمبلی اور پی ٹی ایم کے اہم رہنما علی وزیر کی درخواست ضمانت سندھ ہائی کورٹ نے مسترد کر دی ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ نے علی وزیر کی رہائی کیلئے سپریم کورٹ جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ پی ٹی ایم نے علی وزیر اور دیگر ساتھیوں کی رہائی کیلئے احتجاجی تحریک بھی شروع کر رکھی ہے۔

منگل کے روز سندھ ہائی کورٹ نے 3ماہ قبل 5مارچ کو محفوظ کیا جانے والا فیصلہ سنایا۔ علی وزیر کی درخواست ضمانت پر انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ وکلاء نے سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ نے سماعت مکمل کرنے کے بعد رواں سال 5مارچ کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، 10روز بعد فیصلہ سنائے جانے کی بجائے غیر معینہ مدت تک عدالتی کارروائی ملتوی کر دی گئی تھی۔اب 3ماہ بعد درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی ہے۔ اس دوران صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور وکلاء نے جلد فیصلہ سنائے جانے کی اپیل کر رکھی تھی۔

پاکستان میں عدالتی تعطیلات کے دوران بھی ضروری عدالتی امور کو رواں رکھنے کے ساتھ ساتھ ضمانتوں کی درخواستوں پر سماعت کا سلسلہ جاری رکھا جاتا ہے اور ضمانتوں کی درخواستوں پر سماعت جلد مکمل کرنے اور فیصلہ کرنے کی روایات بھی موجود رہی ہیں۔ کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن کے دوران بھی ضمانتوں کی درخواستوں کی سماعت کا سلسلہ جاری رکھا گیا لیکن علی وزیر کے کیس میں یہ صورتحال کچھ مختلف نظر آئی ہے۔

علی وزیر کی درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ”ہم سپریم کورٹ جائیں گے اور دہشت گردی سے متاثرہ علی وزیر کیلئے انصاف کا مطالبہ کرینگے۔ ہم نے پی ٹی ایم کے سبھی گرفتار ساتھیوں کی رہائی کیلئے احتجاجی سلسلہ بھی طے کیا ہے جو جعلی مقدمات میں گرفتار ہیں۔ سب کو ناانصافیوں کے خلاف مزاحمت میں ہمارا ساتھ دینا چاہیے۔“

منظور پشتین نے احتجاجی مظاہروں کا شیڈول بھی اپنی ٹویٹ کے ساتھ شیئر کیا، جس کے مطابق 29 احتجاجی مظاہرے منعقد کئے جانے ہیں۔

ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ٹویٹر پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے لکھا کہ ”سندھ ہائی کورٹ نے علی وزیر کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔ مارچ میں اس مقدمہ کا فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا اور علی وزیر کو بے بنیاد الزامات کے تحت جیل میں ہی رکھا گیا۔ جنوری وزیرستان کے عوام کی پارلیمنٹ میں نمائندگی بھی نہیں ہو سکی۔“

دوسری جانب علی وزیر کو طبی معائنہ کیلئے کراچی کے جناح ہسپتال لے جایا گیا تھا، جہاں ساتھیوں اور کارکنوں کے ایک ہجوم نے علی وزیرسے نہ صرف ملاقات کی بلکہ انکے ساتھ اظہار یکجہتی بھی کیا۔
اس موقع پر علی وزیر نے اپنے تمام تر ساتھیوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ”ظلم اور نا انصافی کے نظام کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔ ہمارے حوصلے نہیں ٹوٹیں گے،تمام ساتھی ظلم کے خلاف آوازاٹھاتے اورجدوجہد کرتے رہیں۔“