خبریں/تبصرے

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ: لانگ مارچ سے مایوسی و شکایتوں سے بھرپور تقریر تک

راولاکوٹ (جدوجہد رپورٹ) جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (صغیر گروپ) کی کال پر پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے شہر راولاکوٹ سے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اختتام دو روزہ دھرنے، گرفتاریوں اور رہائی کی صورت ہوا۔ جس کے بعدچیئرمین لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے احتجاجی ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف ترقی پسند و قوم پرست قیادتوں، کارکنوں بلکہ عوامی حلقوں سے بھی بے شمار شکایتیں کیں اور امکان ظاہر کیا کہ شاید وہ انکی چوک میں آخری تقریر ہو۔ جس کے بعد ریاستی پروپیگنڈہ ٹرولز کو ایک موقع میسر آگیا ہے اور اس عمل کو جموں کشمیر سے متعلق ریاستی موقف کی جیت قرار دیا جا رہا ہے۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام گزشتہ ماہ چوبیس اکتوبر کو راولاکوٹ سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا آغاز دن دو بجے کے قریب کیا گیا تھا۔ یہ لانگ مارچ پاکستان کے زیر انتظام سابق شاہی ریاستی جموں کشمیر کے علاقوں گلگت بلتستان اور پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کو صوبہ بنائے جانے کے مبینہ عمل روکنے، دونوں خطوں کو باہم ملا کر ایک انقلابی، جمہوری اور نمائندہ حکومت کے قیام اور دیگر مطالبات کے حق میں منعقد کیا جا رہا تھا۔ قیادت نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایک یادداشت پاکستانی پارلیمان کے نمائندوں کو پیش کرنا چاہتے ہیں، جس کیلئے راولاکوٹ سے اسلام آباد تک قافلے کی صورت جائیں گے اور پر امن انداز میں یادداشت پیش کرنے کے بعد واپس آ جائیں گے۔

راولاکوٹ سے پیدل احتجاجی جلوس کی شکل میں شہر کے بیرونی راستے تک قافلہ چلا جہاں سے گاڑیوں پر سوار ہو کر اسلام آباد کیلئے یہ قافلہ روانہ ہوا۔ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت اور انتظامیہ نے راولاکوٹ کو اسلام آباد سے ملانے والی شاہراہ کو مختلف جگہوں پر بڑے پتھر، مٹی اور کنٹینرز ڈال کر بند کر رکھا تھا، رات گئے تک یہ قافلہ ایک ہی رکاوٹ عبور کر سکا اور دوسری رکاوٹ سامنے دھرنا دے دیا گیا، دھرنے کے چوبیس گھنٹے ہی گزرے تھے کہ 51 افراد کو پولیس نے دھاوا بول کر گرفتار کر لیا اور شاہراہ کو ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا۔ گرفتار رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا بلکہ انہیں نقص امن میں ’3MPO‘ (مینٹی ننس آف پبلک آرڈر کی دفعہ تین) کے تحت دو روز تک گرفتار رکھنے کے بعد اٹھائیس اکتوبر کی رات کو رہا کر کے اپنے اپنے علاقوں میں بذریعہ پولیس وین پہنچا دیا گیا۔

29 اکتوبر کو رہائی کے بعد راولاکوٹ میں احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیا گیا۔ جس کے شرکا سے چیئرمین لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان نے ایک تفصیلی خطاب کیا۔ انہوں نے تحریک کو جاری رکھنے، روایتی قائدین کی بجائے عوام سے رجوع کرنے کا اعلان کیا اور عوامی حلقوں کی مارچ میں عددی طور پر کم شرکت، سیاسی قائدین کی طرف سے حمایت کے باوجود عدم شرکت اور قوم پرست و ترقی پسند قائدین و کارکنان کی عدم شرکت پر شکوہ کناں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کارکنان تحریک کو کھیل تماشا سمجھتے ہیں۔ وقت کی قربانی دینے پر کوئی تیار نہیں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ شاید یہ راولاکوٹ کے چوک میں انکی آخری تقریر ہو۔

در حقیقت عوامی طاقت پر یقین کے فقدان نے روایتی قیادتوں، حکمران اشرافیہ کے کنٹرول میں عوامی قوت ہونے کی غلط فہمی کو جنم دیا۔ یہی وجہ تھی کہ اس مرتبہ لانگ مارچ کی رابطہ مہم قیادتوں کے گرد ہی تعمیر کرنے کی کوشش کی گئی جو ایک غلطی تھی۔ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنا بھی کنٹرول لائن کی نسبت ایک مشکل ٹاسک تھا۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو صوبہ بنائے جانے کے منصوبہ اور اسکے پس پردہ حقائق تمام تر عوامی پرتوں تک اس طرح سے نہیں پہنچ پائے جس طرح پانچ اگست 2019ء کے واقعہ میں ہوا تھا۔ اس وقت حکومت، میڈیا اور حکمران طبقات کا ہر ذریعے عوامی جذبات ابھارنے میں مصروف تھا، جبکہ اس بار ایسا نہیں تھا اور نہ ہی لبریشن فرنٹ کی قیادت اس طرح سے عوامی جذبات کو ابھارنے کی صلاحیت و اہلیت رکھتی تھی۔ اس لئے نتائج حاصل نہ ہو سکنے کے باوجود مجموعی طور پر یہ کوئی اتنا ناکام ایونٹ نہیں تھا کہ جس کے بعد اس قدر مایوسی اور بدگمانی کا شکار ہوا جائے۔ قیادت کو ایک مرتبہ پھر نظریات کی طرف رجوع کرنا ہوگا، معاشرے کا سائنسی تجزیہ کرتے ہوئے معاشرے کی تمام تر پرتوں تک نہ صرف رسائی اختیار کرنی ہو گی بلکہ تمام تر پرتوں کی نمائندگی کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے مستقبل کی تحریک کی تعمیر کرنا ہو گی۔