دنیا

سوشلسٹ صیہونیت کے خلاف کیوں ہیں؟

ڈیوڈ فِنکل

ترجمہ: سلیم شیخ

نوٹ: ذیل میں دیئے گئے نکات تحریک آزادی فلسطین کے بارے میں ا یک مفصل بحث کا ابتدائی خاکہ ہیں، نیز یہ نکات تحریک آزادی فلسطین اور اسکے تاریخی پس منظر کا مکمل احاطہ نہیں کرتے۔ اس ضمن میں تفصیلی معلومات کے لیے مضمون کے آخر میں دی گئیں کتابوں کی فہرست سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

1) صیہونی تحریک کے حامی اکثر یہ فضول اور جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں کہ صیہونیت ”یہودیوں کی قومی آزادی کی تحریک ہے“۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے یہودی اور یہودی آبادیاں محض ایک مشترکہ تاریخی تجربہ، تہذہب و تمدن، اور ان مشترکہ مذہبی روایات یا پھر ان مشترکہ روایات کی یادوں کے سہارے ایک دوسرے کے ساتھ ایک ڈھیلے ڈھالے سے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں…اگر چہ یہودی شناخت کے تصور سے انکار ممکن نہیں مگر قومیت سے جڑا ایک عالمی (قومیت کا) تصور محض ایک مغالطہ ہے کیونکہ دنیا بھر میں پھیلے یہودی اجتماعی طور پر نہ ہی ایک قومیت ہیں اور نہ ہی مشترکہ طور پر ایک سیاسی اکائی۔

مزید برآں، صیہونی تحریک کا مقصد یہودیوں اور یہودی آبادیوں پر ظلم و ستم ڈھانے والے ظالموں وجابر وں کے خلاف کسی تحریک یا جدوجہد کو منظم کرنا نہیں تھا، بلکہ یہودیوں کو (اکثر درحقیقت انہی ظالموں و جابروں کی مدد سے) ایک مختلف جگہ پر منتقل کرنا تھا۔ اسی مقصد کی کو کھ سے ہی فلسطین کے بارے میں صیہونیت کے اس مضحکہ خیز نظریاتی دعویٰ کا جنم ہوا جس کا ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے کہ ”بے آباد زمین (فلسطین) بے زمین لوگوں (یہودیوں) کے لیے“۔

صیہونی رہنما اس امر سے بخوبی واقف تھے کہ فلسطین کوئی بے آباد زمین کا ٹکڑا نہیں ہے لیکن وہ 19 ویں اور 20 ویں صدی کے آغاز میں نوآبادیاتی طاقتوں کی جانب سے پھیلائے گئے اس مروجہ اعتقاد کا شکار تھے جسکے مطابق سوائے خودانکے اور انکے اپنے ملکوں کے، دنیا میں بسنے والی دوسری تمام قومیں اور آبادیاں ثقافتی طور پر اتنی پسماندہ ہیں کہ ان کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہے۔ صیہونی رہنماؤں کی جانب سے اسی نظریہ کا اظہار ”میزراہی“ یا مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے یہودیوں کے بارے میں بھی نظر آتا ہے جنہیں اسرائیل کے قیام کے ابتدائی دور سے ہی صیہونی آباد کاری کے لیے یورپی یہودیوں کے مقابلہ میں صرف جسمانی مشقت اور مزدوری کے ذرائع کے طور پر بھرتی کیا گیا اور مقامی فلسطینی عربوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔

 2) صیہونیت نہ کبھی ایک ”قومی آزادی کی تحریک“ تھی اور نہ اب ہے۔ اس کی پروان کے پیچھے 19 ویں صدی میں پھیلتی ہوئی یورپی قوم پرستی کا ہاتھ تھا۔ ایک جانب جہاں مشرقی اور وسطی یورپ میں بڑھتی ہوئی قوم پرست تحریکوں نے اکثر یہودی آبادیوں کو اپنے قہر کا نشانہ بناکر یہودیوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا تھا وہیں ان تحریکوں نے صیہونی رہنماؤں کو (قوم پرستی کے حوالے سے) نجات کاایک راستہ بھی دکھایا۔ خاص طور پر مشرقی یورپ میں یہودی مسلسل ظلم، معاشی جبر اور پرتشدد حملوں کا شکار تھے (اس صورت حال کے پیچھے 17 ویں صدی کے وسط سے رونما ہونے والے کچھ پیچیدہ تاریخی واقعات تھے جن میں خاص طور پر قرون وسطیٰ کی پولینڈ کی بادشاہت کے ٹکڑوں میں بٹ جانے کاواقعہ اہم ہے جسکے نتیجہ میں یہودیوں کے سابقہ وسیع وعریض پولش سلطنت میں حاصل تحفظ اور اعلیٰ مقام پر منفی اثرات مرتب ہوئے)۔

19 ویں صدی کے آتے آتے روسی زار کے ماتحت علاقوں میں، یہودیوں کی زندگی سخت اجیرن ہو چکی تھی۔ اس بحرانی صورت حال نے وہاں کے یہودیوں میں قوم پرستانہ خیالات کے ساتھ ساتھ سوشلسٹ، انارکسٹ اور لبرل خیالات کی آبیاری کے لیے ایک زرخیز زمین فراہم کی۔

اس پس منظر میں اس خاص صیہونیت کا ظہور ہوا جس نے یہودی قوم پرستی کا نظریہ پیش کیا جو یہودیوں پر (بنیادی طور پر یورپ میں) روا مظالم کے خلاف اور انکی آزاد ی کی وکالت کرنے کی بجائے (دنیا کے تمام) یہودیوں کو ایک دوسرے خطہ زمین (فلسطین) پر بسانے کا داعی تھا۔ صیہونیت کے اس نظریہ کو یہودیوں کے تمام مکاتب فکر کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا، مثلاً مشرقی یورپ کی ترقی پسند یہودی قوم پرست تحریک ”بُند“ (Bund) جسکا کہنا تھا کہ یہودیوں کی آزادی پورے معاشرے کی سماجی تبدیلی کے ساتھ نتھی ہے۔ اسی طرح زیادہ تر روسی انقلابی تحریک میں شامل یہودی، لبرل خیالات کے حامی اور یہودی مذہبی علما نے بھی صیہونیت کے نظریات کی مخالفت کی۔

 3) باجود آغاز میں ایک ایسی اقلیتی تحریک ہونے کے جو فلسطین میں ایک ”آزاد یہودی ریاست“ کے اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے نوآبادیاتی طاقتوں کی حمایت کی محتاج تھی، سیاسی صیہونیت دوسرے تمام صیہونی نظریات جیسے کہ یہودی روحانی وطن یا دو قومی ریاست جیسے نظریات…پر غلبہ پانے میں کامیاب رہی (خیال رہے آج جب ہم ”صیہونیت“ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں تواس سے مراد سیاسی صیہونیت ہوتی ہے تا آنکہ اسکا کوئی دوسرا مطلب واضح نہ کیا جائے) چناچہ لا مُحالَہ طور پراس فاتح صیہونی تحریک کو (اسکے نوآبادیاتی کردار کے باعث) اب ہم نوآبادیاتی آباد کار انٹرپرائز کہتے ہیں۔

صیہونیت کے بانی تھیوڈور ہرتزل سے لے کر چاہے وہ بائیں بازو کے خیالات کے حامی (اسرائیل کے پہلے وزیراعظم) بین گوریون ہوں یا پھر عسکریت پسند دائیں بازوسے تعلق رکھنے والے ولادیمیر ژابوتینسکی، ان سب کو نہ تو اس (نوآبادیاتی کردار) پر کوئی ندامت تھی اور نہ ہی وہ اس (کااظہار کرنے) سے شرماتے تھے۔

فلسطینی احتجاج اور مزاحمت کے باوجود، برطانوی استعمار نے پہلی جنگ عظیم کے اختتام کے بعد (1939ء سے 1920ء تک) فلسطینی علاقے پر حاصل اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے صیہونی آبادکاری اور فلسطینی زمین پر بتدریج قبضہ کی ہمیشہ پشت پناہی کی۔

4) دوسری جنگ عظیم سے پہلے تک یورپ اور عالمی سطح پر یہودیوں کے لیے صیہونیت کا درجہ ایک اقلیتی تحریک کا سا تھا مگر دوسری جنگ عظیم کے آغازکے ساتھ نازی جرمنی کے ہاتھوں یہودیوں کی نسل کشی اور جنگ کے اختتام پر ایک بار پھردوبارہ سے دنیا کی تقسیم نے فلسطین سمیت ہر طرف سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔

جنگ کے نتیجے میں یورپ سے لاکھوں بے وطن ہوئے یہودی پناہ گزینوں میں سے کچھ نے تو اپنی مرضی سے فلسطین کو اپنا نیا وطن بنانے کا فیصلہ کیا لیکن زیادہ تر نے مجبوری میں ایسا کیا کیونکہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں تھا۔ برطانوی استعمار کا فلسطینی علاقے پر حاصل اختیار کا افراتفری میں اختتام اور اسکے ساتھ ہی اقوام متحدہ کی جانب سے جلد بازی میں فلسطین کو تقسیم کرنے کے منصوبہ کا سامنے آنا، اسرائیل کے یکطرفہ طورپر ایک ملک ہونے کااعلان، جنگ اور پھر 1947-49ء کے عرصہ کے درمیان,000 750 فلسطینیوں کی نسلی بنیادوں پر بیدخلی۔ یہ تھے وہ حالات جن کے نتیجے میں اسرائیل نے جنم لیا۔

دوسری جانب عرب ممالک میں بڑھتی ہوئی قوم پرستی کے نتیجہ میں 1950ء کی دہائی میں ان ممالک سے یہودی بڑے پیمانے پر ہجرت کرکے اسرائیل منقل ہو گئے۔

1948ء کی جنگ میں اسرائیل کی فتح ”تمام مشکلات کے خلاف ایک معجزہ“ نہیں تھی بلکہ یہ اعلیٰ فوجی اور سیاسی تنظیم کا نتیجہ تھا، یشیؤ (یہودی آبادی) کی موثر نقل و حرکت، لڑائی کے شروع میں چیکوسلواکیہ سے ہتھیاروں کی ترسیل کے نتیجہ میں بہتر ہتھیاروں تک رسائی، اور تفصیلی پیشگی منصوبہ بندی کے تحت سینکڑوں فلسطینی دیہاتوں کی تباہی اور وہاں کے باشندوں کو دربدر کرنے جیسے اقدامات وہ عوامل تھے جن کے باعث اسرائیل فتح سے ہمکنار ہوا۔

 5) 1948ء سے لے کر 1967ء تک خصوصاً اور جب سے آج تک، مسلسل جنگوں اورنسلی بنیادوں پر فلسطینیوں کی بیدخلی اور 1967ء کے بعد سے، مغربی کنارے یا ویسٹ بینک (اور غزہ میں 2000ء کے اوائل تک) میں یہودی بستیوں کے قیام نے اسرائیلی ریاست کے ارتقا کو جلا بخشی۔ اسرائیل کی زبردست فوجی برتری، جسے امریکہ کی مکمل حمایت اور ضمانت حاصل ہے، نصف صدی سے زائد عرصے سے ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ 1977ء تک اسرائیلی سیاست پر لیبرصیہونی اسٹیبلشمنٹ کا غلبہ تھا۔ 1980ء کی دہائی کے وسط سے اپنے ابتدائی ”سوشلسٹ“ دکھاوے کو چھوڑ کر، اسرائیل نیو لبرل سرمایہ داری کی راہ پر گامزن ہے اور آج اسکے نتیجہ میں ایک بہت ہی غیر مساوی معاشرہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔

اسرائیل کے 1948ء کے اعلان آزادی میں جس فرقہ وارانہ یا مذہبی امتیاز سے پاک ایک جمہوری معاشرے کا وعدہ کیا گیا تھا وہ ”یہودی عوام کی قومی ریاست“ کی آئینی حیثیت کے مساوی ”بنیادی قانون“ کے طور پر منظور ہونے کے بعد سے منوں مٹی کے نیچے کہیں دفن ہو چکا ہے۔ (یاد رہے کہ اسرائیل نے اس بنیاد پر کہ وہ صرف اسرائیلی شہریوں کی نہیں بلکہ پوری دنیا کے یہودیوں کی نمائندگی کرتا ہے، آج تک کوئی حقیقی آئین نہیں اپنایا ہے)۔

اسرائیل میں ایسے سینکڑوں امتیازی قوانین اور طریق کار رائج ہیں جو کہ ”یہودی اور جمہوری ریاست“ کے اس تصور کا مذاق اڑاتے ہیں جن کا اسرائیلی ہاسبارا (پروپیگنڈا) دعویٰ کرتا ہے۔ مشرقی یروشلم کے فلسطینی حصہ شیخ جراح اور سلوان کے علاقوں میں حالیہ نسلی بنیادوں پر کی جانے والی بے دخلیاں اسکی تازہ ترین مثالیں ہیں۔

مختصر یہ کہ اس حقیقت پر پردہ ڈالنا ناممکن ہے کہ آج اسرائیل ایک غالب یہودی ریاست ہے جس میں نسلی عصبیت کا عنصربے حد واضح ہے تاہم اسکا تقابل (ماضی کی نسل پرست) جنوبی افریقہ کی ریاست کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیلی نسلی عصبیت اُس عمل کی پیداوار ہے جسے پروفیسر رشید خالدی ”فلسطین کے خلاف سو سالہ جنگ“ کہتے ہیں۔

صہیونی انٹرپرائز (اسرائیل کے بار ے میں) چاہے جو کچھ کہے مگر قیاس آرائی تک ہی سہی، وہ آج کی سماجی انصاف اور یکجہتی کی تحریکوں کے سامنے موجود ”زمینی حقائق“ کو جھٹلا نہیں سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف امریکی عوام کے ایک حصہ خصوصاً نوجوانوں اور امریکہ میں بسنے والے یہودیوں کو ا نکی جانب سے امریکی فوج اور اسرائیل کی سیاسی حمایت پر سوالات اٹھانے اور فلسطینی حقوق کے لیے بی ڈی ایس (بائیکاٹ/تقسیم/پابندیوں) کی تحریک کی حمایت کرنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ امریکہ اور بین الاقوامی سطح پر اس تحریک میں ڈرامائی اضافہ سے خوفزدہ اسرائیلی حکومت امریکی عدالتوں اور کانگریس کے ذریعے ایسی تمام سرگرمیوں کو غیر قانونی قرار دلوانے کی کوشش کر رہی ہے۔

 6) اس بارے میں آج محض قیاس آرائی ہی کی جا سکتی ہے کہ آیا ایک ”دو ریاستی حل“ جو شاید کبھی فلسطینی سانحے کا کم از کم جزوی حل ہی فراہم کر سکتا تھا، اسرائیل کی 1967ء کے بعد سے امریکی آشیرباد کے ساتھ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو ہڑپ نے کی پالیسی کے باعث، گو کہ سفارتی لفاظی کی حد تک تو زندہ مگر اصل میں، اب اسکے ہونے کا امکان ختم ہو چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج اسرائیل ایک ایسی نسل پرستانہ نو آبادیاتی ریاست ہے جس میں دو قومیتیں بستی ہیں، ایک ظالم اسرائیلی یہودی قوم اور دوسری مظلوم فلسطینی قوم۔

گو کہ یہ انتہائی اہم ہے کہ، بشمول بی ڈی ایس اور ان تمام تحریکوں کی جو ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اسرائیل کے ”رنگ برداری اور ظلم و ستم کے جرائم“ کے خلاف صف آرا ہیں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی ریاست کے اندر اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے مساوی حقوق کیلئے جدوجہدکرنے والے تمام گروپوں کی بھرپور حمایت کی جائے تاہم، سوشلسٹ نقطہ نظر سے یہ بات یا د رکھنی چاہیے کہ اس مختصر خطہ زمین کیلئے کوئی مختصر مدتی ”حل“ ممکن نہیں ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اسرائیلی اور علاقائی سرمایہ داری سے جڑے سیاسی صیہونیت کے جبر اور نسل پرستی کے ریاستی ڈھانچے کو توڑنے کے لیے ایک سوشلسٹ تبدیلی کی ضرورت ہوگی جو کہ عرب فلسطینیوں، یہودی اسرائیلیوں اور اقلیتی برادریوں کے لیے ظلم سے نجات اور تاریخی فلسطین میں قومی مساوات، جمہوریت اور آزادی کا ضامن ہو گی۔ ہم ایسا کوئی تفصیلی خاکہ یا ”بلیو پرنٹ“ پیش نہیں کرتے جو یہ بتائے کہ لوگ آزادانہ طور پر اپنا مستقبل کیسے بنائیں گے۔

چاہے آج سامراجی اور رجعت پسند قوتیں کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہوں، ہمیں یقین ہے کہ اس مقصدکے حصول کے لیے مشرق وسطیٰ کے علاقے میں انقلابی جمہوری تبدیلی کی ضرورت ہو گی۔

 7) مزید مطالعہ کے لیے کتابوں کی فہرست:

Human Rights Watch, "A Threshold Crossed: Israeli Authorities and Crimes of Apartheid and Persecution,” https://www.hrw.org, April 24, 2021.
Ilan Pappe, The Ethnic Cleansing of Palestine. One World Oxford, 2006.
Rashid Khalidi, The Hundred Years’ War on Palestine. A History of Settler Colonialism and Resistance, 1917-2017. Metropolitan Books: Henry Holt and Company, 2020.
Jeff Halper, War Against the People: Israel, the Palestinians and Global Pacification. Pluto Press, 2015, and Decolonizing Israel, Liberating Palestine. Zionism. Settler Colonialism, and the Case for One Democratic State. Pluto Press, 2021 (reviewed in ATC 213).
Gilbert Achcar, The Arabs and the Holocaust. The Arab-Israeli War of Narratives. Metropolitan Books: Henry Holt and Company, 2010.
Essays by Moshé Machover, Israelis and Palestinians. Conflict and Resolution. Chicago: Haymarket Books, 2012.
Jenny Bourne, "Homelands of the Mind: Jewish Feminism and Identity Politics,” Race and Class 29:1 (July 1987): 1-24.

بشکریہ: انٹرنیشنل وئیو پوائنٹ (انٹرنیشنل وئیو پوائنٹ چوتھی انٹرنیشنل کا ترجمان ہے)