خبریں/تبصرے

طالبان کے خلاف لاکھوں افغان سڑکوں پر

یاسمین افغان

2 اگست کو ہرات پر طالبان حملے کو چھ دن گزر چکے تھے۔ پیر کا دن تھا۔ شام چھ بجے اچانک افغان فوج کی حمایت میں ہرات شہر کے مرد،خواتین حتیٰ کہ بچے گھروں کی چھتوں سے،گلیوں اور بازاروں میں اللہ اکبر کے نعرے بلند کرنے لگے۔ یہ ردعمل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا کہ جب شہر میں لڑائی ہو رہی تھی۔

اگلے روز ہرات اور اللہ اکبر ٹوئٹر پر سب سے بڑا ٹرینڈ بن چکے تھے۔ چوبیس گھنٹے بعد، منگل کی شام نو بجے کابل میں لوگ اللہ اکبر اور طالبان مردہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں اور گھروں کی چھتوں پر نمودار ہو ئے۔ بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا میں اپنی آئی ڈی پروفائل میں ہی اللہ اکبر کا نعرہ درج کر دیا ہے۔

شکلہ زردان، افغان یوتھ ریپریزینٹیٹو ٹو یو این 2020ء، نے اپنے پیغام میں لکھا کہ یہ مظاہرے طالبان سے نفرت کا اظہار ہیں۔ ان کا کہنا تھا”تم افغانستان فتح کرنے کا خواب قبر میں ہی ساتھ لے کر جاؤ گے“۔

اسی طرح شبنم خان نے لکھا ”ہم ایک مرتبہ پھر سے اجڑے ہوئے اور ویران شہر نہیں دیکھنا چاہتے۔ ہم پھر سے بے گھر نہیں ہونا چاہتے۔ ہم اپنے پیاروں کی قبر وں پر پھر سے آنسو نہیں بہانا چاہتے۔ ہم امن چاہتے ہیں۔ یہ افغانستان کی آواز ہے“۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز سے پتہ چلتا ہے کہ اس طرح کے مظاہرے ننگرہار، خوست، کنر اور بامیان میں بھی ہوئے ہیں۔

یاد رہے منگل کے روز قائم مقام وزیر دفاع کے گھر پر خود کش حملہ ہوا جس میں 8 افراد ہلاک 20 زخمی ہوئے۔ کابل میں دھماکوں کے باوجود لوغ سڑکوں پر نکلے۔

دھماکوں کے فوری بعد محقق ضیا وہاج نے لکھا: ”دھماکوں کے بعد تو اللہ اکبر کا نعرہ اور بھی زور سے لگاو۔ ہمیں خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔ حوصلہ رکھو“۔ صحافی حبیب خان نے لکھا ”کابل فتح نہیں ہو گا۔ افغانستان کامیاب ہو گا“۔

اللہ اکبر کے نعرے کی اہمیت یہ ہے کہ یہ نعرہ طالبان لگایا کرتے تھے مگر اب افغان شہری یہ نعرہ ان کے خلاف اور افغان فوج کی حمایت میں لگا رہے ہیں۔

1996ء میں طالبان نے کابل پر با آسانی اس لئے قبضہ کر لیا تھا کہ ملک میں ایک خانہ جنگی جاری تھی۔ ان کے اقتدار کے بیس سال بعد صورت حال بدل چکی ہے۔ لوگوں نے جمہوریت اور شہری حقوق کا تھوڑا سا تجربہ کرلیا ہے۔ اب کی بار طالبان جنگی سالاروں کے نہیں، افغان شہریوں کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔

’یاسمین افغان‘ صحافی ہیں۔ وہ ماضی میں مختلف افغان نیوز چینلوں کے علاوہ بی بی سی کے لئے بھی کام کر چکی ہیں۔ سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ان کا قلمی نام استعمال کیا جا رہا ہے۔