دنیا

سوشلسٹ کرنل کی قیادت میں بنگلہ دیش کا ’سپاہی انقلاب‘ جو 2 ہفتے بعد ناکام ہو گیا

حارث قدیر

یہ مضمون گزشتہ سال 16 دسمبر کو شائع کیا گیا تھا۔ بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کے 54 سال مکمل ہونے کے موقع پر قارئین کی دلچسپی کےلئے اسے دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔

16 دسمبر 1971ء کو سقوط ڈھاکہ اور بنگلہ دیش کے قیام کے پس منظر میں ہونے والے واقعات کو ہی تاریخ میں مسخ نہیں کیا گیا، بلکہ بنگلہ دیش کی تاریخ کے پہلے 10 سالوں کو بھی تاریخ کے اوراق سے کھرچ کر سامراجی رنگ بھر دیئے گئے ہیں۔

بنگلہ دیش کی آزادی کیلئے لڑنے والے سپاہیوں، گوریلا نوجوانوں اور ان کے سیاسی نظریات اور مقاصد کو تاریخ سے غائب کر کے پاکستانی فوج کے بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار پھینکنے کی تقریب کو گلوریفائی کر کے پیش کیا گیا۔ برصغیر کے حکمرانوں کیلئے بھی پاکستانی فوج کی شکست اور بھارتی فوج کی فتح کو تسلیم کرنا تو ممکن تھا، لیکن بنگالی سپاہیوں اور گوریلا نوجوانوں کی فتح کو تسلیم کرنا اور انہیں یہ کریڈٹ دینا اس خطے میں سامراجی تسلط کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔

جہاں شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ اور سٹوڈنٹس لیگ میں کمیونسٹ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، وہیں گوریلا فائٹرز، پاکستانی فوج سے منحرف ہونے والے جونیئر افسران اور سپاہیوں کے اندر کمیونسٹ نظریات کو اپنانے کا رجحان زیادہ تھا۔ گوریلا فورسز میں بھی قوم پرست، ماسکو نواز، پیکنگ (موجودہ بیجنگ) نواز اور آزادنہ حیثیت میں کام کرنے والے کمیونسٹ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھے۔

کرنل ابو طاہر بھی اسی طرح کا ایک کردار تھے، جو کمیونسٹ طالب علموں کے ایک گروہ سے پاکستان فوج کے جونیئر افسر اور پھر فوج سے بغاوت کر کے بنگلہ دیش کی آزادی کیلئے لڑنے والے سپاہیوں کے مقبول لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ تاہم ان کی لڑائی بنگلہ دیش سے مغربی پاکستان کے حکمرانوں کے جانے کے بعدبھی ختم نہ ہوئی، نئے آنے والے مشرقی پاکستان کے حکمرانوں کے خلاف بھی ان کی یہ جدوجہد جاری رہی۔ پاکستانی اور بھارتی فوجوں کے انخلا کے فوری بعد انہوں نے فوج کے پرولتاری ڈھانچے کے قیام کی کوششیں شروع کیں اور ایک وقت تک وہ دو بریگیڈز کو انہی خطوط پر استوار کرنے میں بھی کامیاب رہے۔ بعد ازاں بنگلہ دیش کے قیام کے 4 سال بعد 7 نومبر 1975ء کوانہوں نے بنگلہ دیشی سپاہیوں کے انقلاب کی قیادت کی، تاہم یہ انقلاب محض دو ہفتے ہی قائم رہ سکا اور رد انقلاب کے چند ماہ بعد 21 جولائی 1976ء کو انکا عدالتی قتل کر دیا گیا۔

بنگلہ دیش کی تاریخ سے کرنل ابو طاہر اور ان کے ساتھیوں کی جدوجہد اور قربانیوں کو حذف کر دیا گیا۔ تاہم 22 مارچ 2011ء کو بنگلہ دیشی ہائی کورٹ نے ان کی سزا کے فوجی ٹربیونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دیااور فیصلہ دیا کہ ان کی پھانسی میجر جنرل ضیا الرحمان کے مارشل لا کے وقت ایک منصوبے کے تحت ہوئی تھی۔

مشرقی پاکستان میں مسلح بغاوت اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد کے واقعات کی مغربی میڈیا کیلئے رپورٹنگ کرنے والے معروف صحافی لارینس لیفشلٹز نے اپنی تصنیف ’بنگلہ دیش دی ان فنشڈ ریولوشن‘ میں نہ صرف کرنل ابوطاہر اور ان کے ساتھیوں کی جدوجہد اور ان کے خیالات کا احاطہ کیا ہے، بلکہ بنگلہ دیش کے قیام کے پس منظر میں رونما ہونے والے واقعات کا بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔

متعدد شخصیات کے انٹرویوز کے علاوہ متعدد واقعات کے عینی شاہد کے طور پر انہوں نے ’مشرقی پاکستان‘ میں موجود سیاسی اور عسکری قوتوں، ان کے خیالات اور نظریات کے علاوہ مختلف مواقعوں پر ان کی طرف سے اپنائے گئے موقف کو بھی اپنی تصنیف میں شامل کیا ہے۔ یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ کرنل ابو طاہر اور ان کے ساتھیوں کی جدوجہد اور بنگلہ دیش کے قیام کے پس منظر میں ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے۔ یہ حصہ اگست 1977ء میں مکمل کیا گیا تھا، جبکہ دوسرا حصہ شیخ مجیب الرحمان کے قتل سے متعلق ہے۔ دو حصوں پر مشتمل یہ کتاب 1979ء میں شائع کی گئی تھی۔

1971ء میں آزادی کی جدوجہد کے دوران تقریباً 10 لاکھ افراد جنگ اور بھوک کی وجہ سے مار گئے۔ تاہم آزادی کے بعد بھی بنگالی محنت کشوں کے دکھوں اور تکالیف کا دور ختم نہیں ہوا۔ بھوک، احتیاج، قحط اور لوٹ مار کا ایک نیا سلسلہ ان کا منتظر تھا۔

لارینس لکھتے ہیں کہ ’1974ء میں لاکھوں کسانوں کی جانیں قحط کا شکار ہوئیں، جو کہ انسانوں کے بنائے ہوئے تھے۔ 1975ء میں سیاسی ہلچل کے نئے مرحلے کا آغاز ہواقتل و غارت گری اور دو فوجی بغاوتوں کے بعد ’انقلابی فوج‘ کی بغاوت ہوئی۔ یہ سپاہیوں کی بغاوت تھی، جس کی مثال برصغیر میں 1857ء کے بعد سے نہیں دیکھی گئی، جب ہندوستان کی نو آبادیاتی فوج نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کی۔ یہ 7 نومبر 1975ء کی بغاوت تھی، جس نے بنگلہ دیش کو ہلا کر رکھ دیا اور کسی بھی دوسرے واقعے سے زیادہ ابو طاہر کو تاریخی اہمیت حاصل ہوئی۔‘

کمیونسٹ طالبعلموں کی ایک بڑی تعداد سٹوڈنٹس لیگ کے طور پر عوامی لیگ کے ساتھ کام کرنے کی پالیسی اپنا چکی تھی۔ یہ طالبعلم نیشنل سوشلسٹ پارٹی (جے ایس ڈی) کے ڈسپلن میں تھے اور پارٹی ہی کی سربراہی میں دیگر کمیونسٹ پارٹیوں اور تنظیموں کے برخلاف انہوں نے شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ اور مکتی باہنی کے اندر رہ کر کام کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

سٹوڈنٹس لیگ کے ہی ایک نوجوان نے 2 مارچ 1971ء کو عوامی لیگ کے اجتماع میں پاکستانی پرچم کو نذر آتش کر کے مکمل آزادی کا نعرہ بلند کیا تھا، جس کے بعد داخلی خودمختاری مانگنے والی شیخ مجیب الرحمان بھی مکمل آزادی کے مطالبہ پر آمادہ ہوئے تھے۔

لارینس کے مطابق جے ایس ڈی کا خیال تھا کہ پاکستانی فوج کے انخلاء کے بعد وہ ملک کو سوشلزم کے عبوری مرحلے پر ڈھالنے میں کردار ادا کریں گے۔ تاہم شیخ مجیب الرحمان نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنا ایجنڈا ’نیشنلزم، سیکولرزم، سوشلزم، جمہوریت‘ جاری کر دیا۔ وہ ترقی پسند نوجوانوں کے ساتھ کئے گئے تمام تر وعدوں سے دستبردار ہو گئے۔ جے ایس ڈی اور ان کے ساتھ کام کرنے والے طالبعلموں اور نوجوانوں نے عوامی لیگ سے راہیں جدا کر کے اپنی متوازی تنظیم سازی اور ’عوامی انقلابی فوج‘ کی تیاری کا سلسلہ شروع کر دیا۔ تاہم دوسری طرف شیخ مجیب الرحمان نے انڈو سوویت اور امریکی سامراج کے ساتھ طے کردہ خفیہ معاہدوں کے تحت بیرونی امداد کے تحت اپنے سرمایہ دارانہ ایجنڈے پر کام شروع کر دیا۔ اس دوران بدعنوانی، لوٹ مار اور کرپشن کے چرچے عام رہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے امدادی پروگرام کے تحت آنے والے بچوں کے ہر 7 بچوں کے فوڈ پیک میں سے صرف ایک غریب بچوں تک پہنچ پایا اور ہر 13 کمبلوں میں سے 1 غریب عوام تک پہنچ پایا۔ اسی طرح امدادی پروگرام، ترقیاتی پروگرام میں بھاری کرپشن، رشوت کی رپورٹس بھی منظر عام پر آئیں۔ یہاں تک کہ 1974ء میں جب قحط کے نتیجے میں 1 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو گئے، چاول کی قیمتیں 1971ء کے مقابلے میں ایک ہزار فیصد بڑھ چکی تھیں، اس وقت شیخ مجیب الرحمان کے بھائی بنگلہ دیش سے چاول بھارت سمگل کرنے کے عمل میں ملوث رہے ہیں۔

کرنل ابو طاہر اپنے ایک ساتھی جونیئر آفیسر ضیا الدین کے ساتھ مغربی پاکستان سے براستہ بھارت فرار ہو کر جنگ آزادی میں حصہ لینے پہنچے تھے۔ کرنل ابو طاہر اور ضیا الدین آخر وقت تک اکٹھے رہے۔ وہ دونوں بنگالی پرولتاریہ کی آزادی کا خواب لیکر نہ صرف فوج کی صفوں کے اندر نظریاتی ترتیب اور تنظیم سازی کے عمل میں شامل رہے، بلکہ باہر بھی جے ایس ڈی اور دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر انڈر گراؤنڈ پرولتاری اقتدار، خود انحصاری اور خودمختاری کیلئے جدوجہد کا حصہ رہے۔

کرنل ابو طاہر کا خیال تھا کہ سامراجی ملکوں کی ایما پر ملکی پالیسیاں بنانے کی بجائے کفایت شعاری کو اپنا کر خود انحصاری کی بنیاد پر محنت کشوں اور کسانوں کی اجتماعی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف معاشی اور سماجی ترقی حاصل کی جائے بلکہ تمام بنگالیوں کو اقتدار اور فیصلہ سازی میں برابری کی سطح پر شامل کیا جائے۔

لارینس لکھتے ہیں کہ جب بنگلہ دیش کے قیام کے بعد بھارتی فوج واپس جا رہی تھی، تو وہ بنگلہ دیش میں فوجی چھاؤنیوں اور اہم عمارت تک میں موجود ہر وہ شے ساتھ لے گئے، جو وہ لے جا سکتے تھے، کئی بریگیڈوں میں سوائے چند میزوں کے، جو شاید جگہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ نہیں لے جا سکے تھے۔ اسی طرح سرکاری دفاتر اور تباہ حال عمارات میں موجود قیمتی سامان، گاڑیاں اور دیگر ضروری اشیا کی ایک بڑی تعداد فوجی افسران نے بھی اپنے قبضے میں لے لی تھیں۔

کرنل ابوطاہر اور ضیا الدین کو دو اہم بریگیڈوں کی کمان سونپی گئی۔ کرنل ابوطاہر نے فوج کو پرولتاری خطوط پر استوار کرنے کا منصوبہ پیش کیا اور اپنی بریگیڈ میں عملی طو رپر اس پر عمل بھی کیا۔ ان کا خیال تھا کہ روایتی فوج نہ صرف معیشت پر بوجھ بنے گی، بلکہ آہستہ آہستہ وہ اقتدار پر قبضے کا راستہ ہموار کرے گی اور مغربی پاکستان کی روش پر چل پڑے گی۔ اس پر وہ دلیل دیتے تھے کہ اگر فوج کو روایتی بنیادوں پر چھاؤنیوں میں صرف دفاعی اور سکیورٹی مقاصد کیلئے رکھا گیا، تو اس کیلئے سامراجی ملکوں پر انحصار ناگزیر ہو جائے گا، جو اپنے مقاصد کیلئے فیصلہ سازی پر اثر انداز بھی ہونگے۔ اس کے متبادل انہوں نے ’پیپلز آ رمی‘ کے قیام کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے اسے ’پیداواری فوج‘ کا نام دیا اور کہا کہ فوجی سپاہی اور افسران کاشتکاری کرینگے، سیلاب سے مقابلہ کرنے کیلئے انجینئرنگ کے فرائض سرانجام دینگے، کنسٹریکشن اور دیگر انڈسٹری میں پیداواری کام کرینگے اور وقت آنے پرملکی دفاع کی خدمات بھی سرانجام دینگے۔

کرنل ابو طاہر نے اپنی بریگیڈ کا نشان بھی ’ہل‘ رکھا اور پوری فوج کے نشان کے طور پر بھی اسی نشان کو تجویز کیا۔ انہی خطوط پر انہوں نے بریگیڈ کو استوار بھی کیا۔ تاہم یہ سلسلہ زیادہ دیر تک چل نہیں سکا، انہیں میڈیکل بنیادوں پر گھر جانا پڑا۔ وہ جنگ آزادی کے دوران ٹانگ میں گولی لگنے سے زخمی ہو گئے تھے، تاہم وہ ڈھاکہ کو فتح کرنے والی فورس کی قیادت اس وقت بھی کرتے رہے تھے۔

اسی طرح ضیا الدین نے فوج کے اندر ایک آپریشن شروع کیا اور فوجی افسران اور اہلکاران کی جانب سے لوٹ کے طور پر حاصل کی گئی قیمتی اشیا کو ایک جگہ جمع کر کے نذر آتش کر دیا۔ یہ عمل میڈیا پر بھی نشر کروایاگیا تاکہ مستقبل میں طاقت کی بنیاد پر کرپشن اور لوٹ مار کے سلسلے کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

تاہم یہ اقدامات بھارت اور امریکہ کی ایما پر چلنے والی شیخ مجیب حکومت کو کسی طور پسند نہ تھے۔ ضیا الدین کو بھی غیر فعال کر دیا گیا، ان کے دیگر ساتھیوں کو بھی فوج میں غیر اہم عہدوں تبادلوں یا غیر فعالی کا سامنا کرنا پڑا۔ جے ایس ڈی سمیت دیگر کمیونسٹ تنظیمیں فعال ہو کر احتجاجی عمل میں شریک ہو رہی تھیں۔ فوج کے اندر اور باہر مسلح ملیشیاؤں کی تنظیم کے ساتھ ساتھ کسانوں اور مزدوروں کو منظم کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا۔

بغاوت در بغاوت

شیخ مجیب الرحمان نے ایمرجنسی کا نفاذ عمل میں لا کر سیاسی رہنماؤں کو پابند سلاسل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ 62 ہزار کے قریب لوگ گرفتار تھے۔ ضیا الدین فوج سے نکل کر زیر زمین انقلابی سرگرمیوں میں متحرک تھے۔ کرنل ابو طاہر بھی نہ صرف سپاہیوں کو منظم کر رہے تھے، بلکہ جے ایس ڈی کے متحرک رہنما کے طورپر کام کر رہے تھے۔

15 اگست 1975ء کی بغاوت اور شیخ مجیب کا تختہ الٹے جانے کے بعد نئے صدر مشتاق احمد بن گئے۔ اس بغاوت میں شیخ مجیب کو انکے پورے خاندان سمیت قتل کر دیا گیا تھا اور یہ بغاوت سیکولرازم کے خلاف اسلام کے نفاذ کے نام پر کی گئی تھی۔ کرنل ابو طاہر کے قریبی دوست اور جنگ کے ساتھی ضیا الرحمان آرمی چیف بن گئے، جبکہ بریگیڈیئر خالد مشرف کو چیف آف جنرل اسٹاف بنا دیا گیا۔ اس دوران فوج کے اندر بغاوت کرنے والے افسران اور اہلکاران کے خلاف کارروائی کیلئے تناؤ کا سلسلہ موجود رہا۔ ایک تعطل کے بعد جب دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کے بعدبغاوت کو انجینئر کرنے والے افسران جلاوطن کرنے پر اتفاق کیا گیا، تو اس کے بعد ایک نئی بغاوت کا راستہ ہموار ہو گیا۔ 3 نومبر 1975ء کو ہونے والی بغاوت کے بعد بریگیڈیئر خالد مشرف نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور آرمی چیف ضیا الرحمان کا گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔

لارینس لکھتے ہیں کہ اس وقت اگست کی بغاوت پر پاکستان اور امریکہ کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا جا رہا تھا۔ تاہم خالد مشرف کے اقتدار پر قبضے کا جس والہانہ انداز سے بھارتی میڈیا پر رد عمل سامنے آیا، اس سے یہ معلوم کرنا زیادہ مشکل نہیں تھا کہ بھارت اس بغاوت پر کافی اطمینان محسوس کر رہا تھا۔ تاہم انکے مطابق مبصرین بھارت کے خفیہ ہاتھ کا سراغ لگانے میں اسی طرح ناکام رہے، جس طرح پاکستان اور امریکہ کے خفیہ ہاتھ کا سراغ نہیں لگایا جا سکا تھا۔

تاہم یہ افواہیں ڈھاکہ میں عام تھیں کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را نے خالد مشرف کے ساتھ مل کر یہ منصوبہ تیار کیا تھا۔ خالد مشرف اور ان کے ساتھ مگر اس بات سے ہمیشہ انکار کرتے رہے ہیں۔

4 اور 6 نومبر کے درمیان جونیئر افسروں اور سپاہیوں کے خفیہ اجلاس ہوتے رہے۔ ابو طاہر اور یہ جونیئر افسر انقلابی سپاہیوں کی تنظیم (آر ایس او) کے زیر اہتمام کام کر رہے تھے۔ یہ تنظیم خفیہ طور پر موجود تھی، تاہم 7 نومبر کی صبح اس نے انقلابی عوامی فوج (ریولوشنری پیپلز آرمی) کے ساتھ مل کراپنے وجود کا کھل کر اظہار کیا۔ پی آر اے اور آر ایس او دونوں عسکری تنظیمیں فوج کے اندر اور باہر جے ایس ڈی کے ساتھ کام کر رہی تھیں۔

لارینس لکھتے ہیں کہ ’مجیب حکومت کا تختہ الٹنے کے وقت جے ایس ڈی کچھ مہینے پہلے ہی ایک عام بغاوت کی تیاری کر رہی تھی۔ جب مجیب کوقتل کیا گیا تو جے ایس ڈی نے قتل کی مذمت کی، تاہم اقتدار کے خاتمے کی تعریف کی۔‘

لارینس بغاوت کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’بغاوت کے دو حصے ہونے تھے۔ 6 نومبر کی شام کو طاہر کی زیر صدارت اجلاس میں دارالحکومت کے ہر فوجی یونٹ کے نمائندے شامل تھے، اس اجلاس میں بغاوت کے پہلے مرحلے یا حصے کیلئے حتمی ہدایات جاری کی گئیں۔ اس کے ساتھ ہی ملک بھر کی دیگر چھاؤنیوں کو بھی احکامات جاری ہو گئے۔ پہلے حملے میں میجر جنرل ضیا الدین کو نظر بندی سے بچانا تھا اور بریگیڈیئر خالد مشرف اور ساتھیوں کو زندہ پکڑنا تھا۔ دوسرے حصہ نے بھی اسی وقت حرکت میں آنا تھا اور بغاوت کی حمایت کرنے کیلئے مظاہرے اور جلوس منعقد کئے جانے تھے۔ فوجیوں کے 12 مطالبات کو بنیادی مسئلہ کے طورپر ظاہر کیا جانا تھا۔ باغی فوجیوں کے حق میں ڈھاکہ کی سڑکوں پر آنے والے ہزاروں لوگوں کی حمایت یہ دوسرا پہلو تھا، جس نے 7 نومبر کی بغاوت کو 15 اگست اور 3 نومبر کی سازشوں سے ممتاز کر دیا۔‘

سپاہی انقلاب کے 12 مطالبات

سپاہیوں کے 12 مطالبات میں ایک انقلابی فوج کے قیام کے مطالبہ سے لیکر برطانوی نوآبادیاتی اصول و ضوابط کے مکمل خاتمے تک مطالبات اور پروگرام شامل تھے۔

انقلاب کے ابتدائی اعلامیہ میں کہا گیا کہ ’ہمارا انقلاب محض ایک قیادت کو دوسری قیادت سے تبدیل کرنا نہیں ہے۔ یہ انقلاب ایک مقصد کیلئے ہے، یعنی مظلوم طبقات کے مفاد کیلئے۔ اس کیلئے مسلح افواج کے پورے ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہوگا۔ کئی دنوں تک ہم امیر طبقے کی فوج تھے۔ امیروں نے ہمیں استعمال کیا ہے۔ ان کے اپنے مفادات کی 15 اگست کے واقعات ایک مثال ہیں۔ تاہم اس بار ہم نے نہ تو امیروں کیلئے بغاوت کی ہے اور نہ ہی ان کی طرف سے کی ہے۔ اس بار ہم نے ملک کے عوا م کے شانہ بشانہ بغاوت کی ہے۔ آج سے قوم کی مسلح افواج اپنے آپ کو ملک کے مظلوم طبقات کے محافظ کے طور پر استوار کریں گی۔‘

اعلامیہ میں تمام سیاسی قیدیوں کو فوری رہا کرنے، اختلافات اور تفریق کو ختم کرنے، افسران اور سپاہیوں کے درمیان تفریق کو ختم کرنے، غیر طبقاتی معاشرے کے قیام کی جانب ایک بنیادی قدم کے طور پر طبقات سے پاک فوج کا مطالبہ بھی رکھا گیا۔ خصوصی سکولوں کے ذریعے ملک کے مراعات یافتہ طبقے کے افسران کی بھرتی پر بھی حملہ کیا گیا۔ اس کی بجائے عام فوجیوں کی صفوں میں سے افسروں کے انتخاب کی وکالت کی گئی۔ بیٹ مین سسٹم، سپاہیوں کو افسروں کے گھریلو ملازموں کے طورپر کام کرنے پر مجبور کرنے والے قواعد کے خاتمے کے مطالبات بھی شامل کئے گئے۔ سب سے بڑھ کر فوجی اتھارٹی اور فیصلہ سازی کے نئے حصوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔

اعلامیہ میں روسی بالشویکوں کی ’سپاہی سوویت‘طرز کی کمیٹیوں کے قیام کا مطالبہ، ہر فوجی یونٹ میں انقلابی فوج کی تنظیمیں بنانے اور ڈھاکہ چھاؤنی کو مرکزی انقلابی فوج کی تنظیم سے منسلک کرنے کے مطالبات شامل تھے۔ یہ مرکزی تنظیم تمام پالیسیاں طے کرے گی، جنرل ضیا پالیسیاں طے نہیں کرینگے۔ کمیٹی کی مشاورت کے بغیر کوئی بھی فیصلہ نہیں ہو گا۔ یہ مرکزی ادارہ دیگر چھاؤنیوں، انقلابی طلبہ، کسانوں، محنت کشوں اور عام عوام سے بھی رابطہ رکھے گا۔‘

اعلامیہ میں کہا گیا کہ ’ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس انقلابی فوج کے ساتھ تمام ترقی پسند انقلابی طلبہ، کسان اور محنت کش جڑے ہوئے ہیں۔‘

لارینس لکھتے ہیں کہ ’فوج میں عام بغاوت اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ 6 نومبر کی آدھی رات تک بغاوت کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔ چند ہی گھنٹوں میں بغاوت کا پہلا حصہ کامیاب ہو گیا۔ جہاں اگست اور 3 نومبر میں دارالحکومت کی سڑکیں مرجھا گئی تھیں، وہیں 7 نومبر کوبغاوت کے دن فوجیوں کا استقبال کرنے کیلئے ہجوم سڑکوں پر آگیا تھا۔‘

رد انقلاب

ضیا الرحمان کو اقتدار میں لایا گیا۔ 7 نومبر کی شام کو ہی انہوں نے 12 مطالبات پر دستخط کئے اور عملدرآمد کا عہد بھی کیا۔ تاہم یہ جوش و خروش برقرار نہ رہ سکا۔ 7 اور 8 نومبر کو ملک کی دیگر فوجی چھاؤنیوں میں بغاوت آگے بڑھی، افسران اور سپاہیوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ ڈھاکہ اور رنگ پور میں چالیس افسران سپاہیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ کئی افسران اہل خانہ سمیت چھاؤنیوں سے فرار ہو گئے۔ افسران کے ایک حصہ نے ضیا الرحمان کو بچانے کی حد تک بغاوت کی حمایت کی، تاہم دوسرے مطالبات کی شدید مزاحمت کی گئی۔ مخالفت کرنے والے افسران میں وہ شامل تھے، جو آزادی کی جنگ کا حصہ نہیں رہے تھے، بلکہ وہ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد مغربی پاکستان سے واپس آئے تھے۔

کرنل ابو طاہر کا خیال تھا کہ ضیا الرحمان ان کے ساتھ آزادی کی جنگ میں شریک رہے ہیں اور ان کے قریبی دوست ہیں، اس لئے وہ ان کے مقاصد کے حصول میں انکے ساتھ رہیں گے۔ دوسرے لفظوں میں وہ انہیں طاقت پر براجمان کر کے ان کے ذریعے سے سوشلسٹ اصلاحات کروانے کے خواہاں تھے۔تاہم ضیا الرحمان شاید ایسا نہیں سوچ رہے تھے، انہوں نے نظر بندی سے رہائی کی خاطر کرنل ابو طاہر کے منصوبے کے ساتھ اتفاق کیا۔ اقتدار پر براجمان ہو کر انہیں اندازہ ہوا کہ فوج کے اندر اور باہر بغاوت کس قدر شدید تھی۔ جے ایس ڈی کے گرفتار رہنماؤں کو رہا کرکرنے کا سلسلہ شروع ہوا تو رہا ہونے والے رہنماؤں نے عوامی کمیٹیوں کے قیام سمیت دیگر فیصلہ جات میں شریک ہونے کے علاوہ احکامات جاری کرنے شروع کر دیئے۔

ادھر بغاوت کے بعد افسران نے فوجیوں کی کمان دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی اور انہیں واپس بیرکوں میں جانے کا حکم دیا۔ تاہم کئی یونٹوں نے کمانڈروں کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ سپاہیوں نے انقلابی کمیٹیوں کے قیام کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔ افسران کو الگ تھلگ کر دیا گیا، انہیں دوبارہ کمانڈ شروع کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ بغاوت بنگلہ دیش کے شہروں اور دیہاتوں تک پھیل چکی تھی۔ بغاوت کے کئی ہفتوں بعد تک کئی دیہاتوں میں عوامی کمیٹیوں کے قیام کا سلسلہ جاری رہا۔

ضیا الرحمان معاہدے پر دستخط کرنے کے باوجود اس پر عملدرآمد کرنے کی بجائے سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے سے بھی انکار ہو گئے اور انہوں نے بڑے پیمانے پر کمیونسٹوں کے قتل عام کا راستہ اپنایا۔ 23 نومبر کو عملی طور پر ضیا الرحمان نے انقلابی سپاہیوں کے ساتھ کئے گئے تمام فیصلوں کو رد کرتے ہوئے دو ہفتوں بعد ہی سپاہیوں کے انقلاب کو رد انقلاب میں ڈبونے کے منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیا۔ سیاسی پابندیوں کو مزید سخت کیا گیا اور کرنل ابو طاہر کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر جیل کے اندر ایک مقدمہ چلایا گیا اور فوجی ٹربیونل کی جانب سے انہیں موت کی سزا دی گئی، جس پر 22 جولائی 1976ء کو عملدرآمد کر دیا گیا تھا۔

Haris Qadeer
+ posts

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔