پاکستان

کیا دہشت گردی ختم ہو چکی ہے؟

فارق طارق

دہشت گردی کی مادی وجوہات کو ختم کیے بغیر اس کو شکست دینے کے دعوے کھوکھلے ہیں۔

لاہور میں داتا دربار خودکش دھماکے کی ذمہ داری ایک ایسے نئے جنونی گروپ نے قبول کی ہے جو اس سے قبل صرف ایک دھماکہ کرنے کا دعویدار ہے۔

پاکستانی طالبان کے ایک نئے گروہ حزب الاحرار کے ترجمان عبدالعزیز یوسفزئی نے ایک بیان میں اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ پولیس پر اپنے حملے جاری رکھیں گے۔

دھماکے میں گیارہ افراد کی ہلاکت، جن میں پانچ پولیس اہلکار شامل تھے، ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ بار بار یہ دعوے کر رہی تھی کہ دہشت گردی پر قابو پا لیا گیا ہے اور اسے وہ اپنی فتح قرار دے رہے تھے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے عرصے میں دہشت گردی کے واقعات کم ہوئے۔ دہشت گردوں کے خلاف فوجی اور پولیس کاروائیاں کی گئیں اور وقتی طور پر یہ دہشت گرد گروہ چھپ گئے، خاموش ہو گئے اور زیر زمین ہو گئے۔ مگر دہشت گردی کو ہوا دینے والی وجوہات تو حقیقی معنوں میں ہر طرف موجود تھیں۔ اسی وجہ سے اس نے دوبارہ سر اٹھایا ہے یا اٹھا سکتی ہے۔

مادی وجوہات کیا ہیں؟

اس وقت پاکستان مین تیس ہزار مدرسے موجود ہیں جن میں فوج کے ترجمان جنرل آصف غفور کے مطابق 25 لاکھ بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مدرسوں کی ایک بڑی تعداد ایسے حالات اور سوچ پیدا کرتی ہے کہ نوجوان دہشت گردی کو اپنا ایمان اور فریضہ سمجھ لیتے ہیں۔ نفرت، جنون اور بدلے کی آگ ایسی بھڑکائی جاتی ہے کہ جان دے کرزیادہ لوگوں کی جان لینا ’جہاد‘ کے مترادف سمجھا جاتا ہے اور یہ یقین کر لیا جاتا ہے کہ ایسا کرنے سے جنت الفردوس میں جگہ کی ضمانت مل جاتی ہے۔

گو ریاست مذہبی گروہوں سے اپنے تعلق کو کسی حد تک تبدیل کر رہی ہے مگر ابھی تک یہ رشتے ناطے کھلے یا چھپے موجود ضرور ہیں۔

حکمران طبقات کو حالات کے تھپیڑوں نے کہیں کا کہیں پہنچا دیا ہے۔ یہی سرکاری پالیسی ساز ان بنیاد پرست قوتوں کو ”اپنا“ کہتے تھے، سیکنڈ لائن دفاع سمجھتے تھے۔ ان کو ہر طرح کی سرکاری سرپرستی حاصل تھی۔ لیکن اب خود ان کے خلاف بات کرتے ہیں۔ عمران خان نے تو ایک جگہ یہ تک کھل کر کہہ دیا کہ ان کو فوج نے پالا تھا مگر اب ان کی ضرورت نہیں رہی۔

امریکی سامراج نے 9/11 کے بعد مذہبی جنونیوں اور دہشت گردوں کے خلاف فوجی کاروائیاں کیں یعنی جن کو انہوں نے پالا پوسا تھا ان کے خلاف ہی اب بم برسائے جا رہے تھے۔ اسی طرح 16 دسمبر 2014ء پشاور کے اندوہناک واقعہ کے بعد پاکستان کے سرکاری پالیسی سازوں کی اکثریت بھی اس نتیجے پر پہنچی کہ ان سے جان چھڑانا ہی بہتر ہے۔

پرانے رشتے ناطے مگر اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوتے۔5 اکتوبر 2016ء کو روزنامہ ڈان نے سیرل المیڈا کی خصوصی رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا کہ حکومت نے عسکری قیادت کو کہا ہے کہ وہ جلد ان بنیاد پرست گروہوں کے خلاف اقدامات کریں ورنہ پاکستان عالمی تنہائی کا شکارہوجائے گا۔ اس نے مزید لکھا کہ اس اہم اجلاس میں تلخی اس وقت ہو گئی جب شہباز شریف نے کہا کہ ہم ان کو پکڑتے ہیں اور آپ چھڑا کرلے جاتے ہیں۔ عسکری قیادت اس وقت سخت سیخ پا ہوگئی۔

پھر ڈان لیکس کا شور پڑ گیا اس بات پر زور نہیں دیا گیا کہ کیوں ریاست کے کچھ حصے ان بنیاد پرستوں سے تعلقات ختم نہیں کرنا چاہتے بلکہ اس بات پر زور دیا گیا کہ ہماری باتیں باہر کیسے پہنچیں اور نواز لیگ کی قیادت نے اپنے سب سے چہیتے ترجمان پرویز رشید کو قربانی کا بکرا بنادیا۔

پچھلے عرصہ میں پہلی دفعہ آرمی چیف نے یہ درست بات کہی کہ یہ ہماری اپنی جنگ ہے۔ یہ بات ہم دہائیوں سے کہ رہے تھے کہ آج کا ایک اہم مسئلہ مذہبی جنونیت کا پھیلاؤ ہے۔ اس کو روکنے کی تدابیر کو اہمیت دینی چاہئے۔ مگر ہمارے اپنے بائیں بازو کے ساتہی بھی کہتے تھے کہ یہ ریاست کے پٹھو ہیں ریاست جب چاہے انہیں کنٹرول کر لے گی۔ پہلی بات درست تھی مگر یہ گروہ سرکاری کنٹرول سے باہر بھی اپنی ایک سماجی طاقت رکھتے ہیں۔

اب بھی کچھ حلقوں کی جانب سے طالبان گروہوں سے مذاکرات کو ہی حل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ طالبان کوئی جمہوری طاقت نہیں ہیں۔ وہ مطلق العنانیت چاہتے ہیں۔ یہ ایک نئی طرز کا متشدد رجحان ہے جو سیاسی مخالفین کو جسمانی طور پر ختم کرنے کے فلسفے پر یقین رکھتا ہے۔ ریاست اِن سے تمام رشتے ناطے توڑے۔ تعلقات منقطع کرے۔ دہشت گردی کو کسی قسم کا سیاسی کور نہ دیا جائے۔ یہ ہماری جنگ ہے۔ یہ جنونی لوگ ہماری تہذیب، ثقافت، رسم ورواج، جمہوریت اور پہچان کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ آپ کے بھی گلے پڑیں گے۔ ان سے مذاکرات ان کی مضبوطی اور ہماری کمزوری کا باعث بنیں گے۔

ہمارا موقف واضح ہے۔ مذہبی جنونیت کو روکنے کے لئے ریاست اپنا کردار تبھی موثر انداز میں ادا کر سکتی ہے جب وہ نظریاتی طور پر مذہب کو ایک نجی معاملہ تسلیم کرنے پہ تیار ہو۔ وہ تمام شہریوں کیساتھ برابر کا سلوک روا رکھے۔ ریاست تمام بنیاد پرست اور جہادی گروہوں سے اپنا رشتہ ناطہ توڑے اور دہشت گردی کی ہر شکل کی مخالفت کرے۔ تمام مدرسوں کو رجسٹر کر کے قومی تحویل میں لیا جائے۔

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔