دنیا

عراق 320 ارب ڈالر خرد برد کرنیوالے حکمرانوں کیخلاف سڑکوں پر نکلا ہے!

یہ مضمون پہلی بارامریکی تھنک ٹینک’’اٹلانٹک کونسل“ کی ویب سائٹ پر شائع ہوا

دارا سلام

یکم اکتوبر سے بغداد میں شروع ہونے والے مظاہرے جو جنوبی عراق کے دوسرے شہروں تک بھی پھیل گئے، ان کی خصوصیت یہ ہے کہ ان مظاہروں کا باضابطہ اعلان کیا گیا نہ ہی کسی مذہبی یا سیاسی رہنما نے ان کی قیادت کی۔

جب متعدد شہروں میں احتجاج کی پہلی لہر شروع ہوئی تو مظاہرین کا پیغام واضح تھا:انہوں نے اپنی اس تحریک کیلئے کسی مذہبی یا سیاسی قیادت کو قبول نہ کیا۔ عام لوگ جو فرقہ وارانہ ذہنیت کا مظاہرہ نہیں کرتے اور بغداد، ناصریہ، دیوانیہ، کربلا اور دیگر شہروں کی سڑکوں پربراجمان ہیں، انہوں نے اپنی اس بے ساختہ سرگرمی سے سیاست دانوں اور حکمران طبقے کو ایک اہم پیغام بھیجا ہے کہ اب تبدیلی کیلئے اسی احتجاجی سیاست کے ذریعے ہی کوشش کی جائے گی۔

بدعنوانی بنیادی شکایت ہے

اکتوبر کے شروع میں احتجاج کی پہلی لہر بظاہر ایک مقبول فوجی جنرل کو اس کے عہدے سے ہٹانے کا ردعمل تھی۔ تاہم بنیادی وجوہات زیادہ گہری ہیں۔ حقیقت میں لوگ اشیائے ضروریہ کی عدم فراہمی کیلئے احتجاج کر رہے ہیں جیسا کہ بجلی، صاف پانی، اچھی سڑکیں، صحت کی سہولتیں، بے روزگاری اور سب سے بڑھ کر بدعنوان سیاسی اشرافیہ سے نجات کیلئے۔

تشدد کے باوجود مظاہرین کی استقامت درحقیقت عراقی نوجوانوں کی اشرافیہ اور ُاس کی متنازع اورفرقہ وارانہ سیاست کے خلاف ناراضگی کی مظہر ہے۔ بدعنوانی ہی وہ محرک ہے جس نے عراق میں لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبورکیا ہے۔ ملک میں بدعنوانی بہت بڑھ چکی ہے۔ یہ صرف انفرادی معاملات میں نہیں ہوتا ہے۔ وسیع پیمانے پر ہونے والی بدعنوانی نے 2003ء میں وجود میں آنے والی نئی عراقی ریاست کے وسائل کو ہڑپ کر لیا ہے اور تقریباً 320 ارب ڈالر خرد برد ہوگئے ہیں۔

اس رقم کا زیادہ تر حصہ وزارتوں اور سول سروسز نے ہتھایا جن پر طاقتور سیاسی جماعتوں کا غلبہ ہے۔ خیالی منصوبے اور معاہدے فنڈز کو انفرادی جیب میں منتقل کرنے اور اثرو رسوخ قائم رکھنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ ان کے سیاسی ادارے کیسے چلائے جاتے ہیں، مظاہرین کے پاس یہ یقین کرنے کی وجہ موجود ہے کہ اس خودمختار ریاست کے نظام میں تبدیلی لانے کے لئے انقلاب ضروری ہے۔

اسی تیقن نے لبنان میں بھی حالیہ مظاہروں کو تحریک دی جس کے نتیجے میں لبنانی وزیر اعظم کا استعفیٰ سامنے آیا۔ عراقی مظاہرین کے مطالبات پہلے ملازمتوں، عوامی خدمات اور معیار زندگی کے بہتر معیار پر مرکوز تھے لیکن بعد میں حکومت کا تختہ الٹنے میں بدل گئے۔

ایک مختصر وقفے کے بعد 25 اکتوبر کو ہونے والے مظاہروں کی تجدید، لوگوں کے تبدیلی کے مطالبے کی تصدیق کرتی ہے۔ متعدد شہروں میں سیاسی پارٹیوں کے صدر دفاتر کو جلانا ان پارٹیوں سے متعلق مقامی آبادی کی مایوسی اور غم و غصے کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پارٹیاں حکومتی شراکت دار اور بدعنوانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ عراق میں بدعنوانی کی مرتکب طاقتور سیاسی جماعتوں کی اپنی ملیشیا ہیں اور وہ قومی بجٹ تک رسائی رکھتی ہیں۔ وہ حکومت کو کنٹرول کرتی ہیں اور ریاست کے اندر ریاست کی حیثیت سے کام کرتی ہیں۔ ان کی وجہ سے عراق میں پہلی مرتبہ ’ڈیپ اسٹیٹ‘ کا تاثر نمایاں ہوا ہے۔

عراق کی ڈیپ اسٹیٹ مذہبی اور سیاسی حکام پر مشتمل ہے جو سیاسی عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ وہ حکومت کا حصہ ہوں۔ اس رجحان کی ایک مثال پاپولر موبلائزیشن فورسز  (پی ایم ایف) ہے۔

یہ ملیشیاؤں کا ایک مجموعہ جس نے داعش کے خلاف لڑائی کے نتیجے میں اثر و رسوخ حاصل کیا۔ انھیں عراقی بجٹ کے ذریعے مسلح کیا گیا اور بعض کو ایران کی مدد حاصل ہے۔ عراقی معاشرے کی کشمکش کا سب سے زیادہ نقصان نوجوانوں کا ہوا ہے جن میں بہت سے نوجوان اب حالیہ مظاہروں میں شامل ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا ملک تیل کے پانچویں سب سے بڑے ذخائر کا مالک ہے اور رواں سال کا بجٹ 111.8 ارب ڈالر تھا۔ بہر حال، 2018ء میں ملک کے تقریباً 16.5 فیصد نوجوان بے روزگار تھے اور 2014ء میں 22.5 فیصد آبادی غربت کی زندگی گزار رہی تھی۔

مستقبل کیا ہے

دلچسپ بات یہ ہے کہ عراقی قومی سلامتی کے مشیر اور پی ایم ایف کے سربراہ فلاح الفیاض نے عراقی حکومت کے لئے پی ایم ایف کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور مظاہرین کی واضح طور پر مذمت کی ہے۔ اس اقدام کو وزیر اعظم عادل عبد المہدی کی حکومت کی حما یت کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ ادھر، مظاہرین نے اکتوبر کے اوائل میں مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے 250 سے زائد مظاہرین کی ہلاکت اور ہزاروں زخمیوں کی حفاظت کے لئے سکیورٹی حکام اور ملیشیاؤں کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔

اس سے شیعہ آبادی میں موجودکشیدگی کا بھی اشارہ ملتا ہے کیونکہ بااثر مذہبی رہنما مقتدا الصدر نے حکومت سے استعفی دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مظاہروں کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے پہلے اپنے حامیوں کو مظاہروں میں شامل ہونے سے منع کیا کیونکہ مظاہرین کسی قیادت کو تسلیم کرنے پر تیار نہ تھے۔ تاہم، جب آیت اللہ سیستانی، جن کی شخصیت ملک میں اعلیٰ ترین مذہبی اتھارٹی کی حیثیت سے اہم ہے، نے حکومت کو مظاہرین کے مطالبات کو پورا کرنے کا انتباہ دیا تو الصدر نے اس کی پیروی کی اور 25 اکتوبر سے شروع ہونے والے مظاہروں میں شرکت کرنے کا اعلان کیا۔

مظاہرین کے مطالبات کے بارے میں موجودہ حکومت اور پارلیمنٹ کے ردِعمل نے بیروزگار نوجوانوں کے لئے عہدوں میں تبدیلی اور نوکریوں کے وعدے پر توجہ دی ہے۔ اس اقدام سے سرکاری شعبے پر مزید بوجھ پڑے گا کیونکہ ریاستی بجٹ کا 75 فیصد سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور سیاسی وفاداری خریدنے پر صرف ہوتا ہے۔ 2003ء کے بعد سے آنے والی مسلسل حکومتوں نے اس تنظیمی بدعنوانی اور اقربا پروری سے نمٹنے کو اپنی ترجیح کبھی نہیں بنایا۔

نئی عراقی ریاست کی بنیادتقرریوں (موہاساسا)کے نظام پر مبنی ہے۔ یہ نظام تمام قومیتوں، مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کو یکساں طور پر تسلیم کرنے کا ایک طریقہ ہے تاکہ تمام جماعتوں کی وفاقی دائرہ کار میں شمولیت کو یقینی بنایا جاسکے۔ تاہم، یہ نظام عراق میں کبھی کامیاب نہ ہوسکا اور اس کی بجائے فرقہ وارانہ سیاست کو دوام ملا۔ اب، خاص طور پر داعش کی علاقائی شکست کے بعد، شیعہ اکثریتی شہروں میں عام افراد اب خوف کے نام پر ہونے والی سیاست کے ذریعے مزید بلیک میل نہیں ہو سکتے۔

ماضی میں سیاسی رہنماؤں نے فرقہ وارانہ خطرات کو فروغ دینے کیلئے خوف کی سیاست کا استعمال کیا۔ بصرہ میں جولائی 2018ء کا احتجاج عراقی سیاست دانوں اور جنگجوؤں کے لئے ایک ابتدائی دھچکا تھا جنہوں نے اپنے فائدے کے لئے خوف کی سیاست کو استعمال کیا۔ تیل سے مالا مال شہر بصرہ میں گزشتہ سال عوامی خدمات کی عدم دستیابی پر احتجاج کیا گیا جس میں صاف پانی اوربہتر معیار زندگی کا مطالبہ کیا گیا۔

بغداد اور دیگر شہروں میں جاری احتجاج ان دیرینہ مطالبوں کی تصدیق ہے۔ وہ بہتر زندگی کے مطالبے کر رہے ہیں۔ وہ اقربا پروری کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ وہ ایک ایسے سیاسی نظام کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں جو ملک کے تمام طبقات کو جمہوری نظام میں شامل کرنے اور اشرافیہ کے خاتمے پر مبنی ہے، وہ اشرافیہ جو مفاد کے لئے عراق کے وسائل کی لوٹ مار کرتی ہے اور باقی ماندہ لوگوں کو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے کے لئے چھوڑ دیتی ہے۔

مظاہرین کے خلاف استعمال ہونے والی جان لیوا طاقت بظاہر حکمران سیاسی اشرافیہ کی طرف سے احتجاج کو ختم کرنے کی ایک مایوس کن کوشش ہے۔ تاہم، اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو بھی گئے تو عراق کی سیاسی اور معاشی صورتحال پریشر ککر کی مانند ہو چکی ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہے۔ حاصل ِکلام یہ ہے کہ عبد المہدی کے استعفیٰ دینے کے وعدے کے باوجود، جسے مظاہرین کی فتح کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے، یہ ضروری ہے کہ یہ احتجاج آخر کار ایک ایسی سماجی تحریک کا روپ دھارے جو محض حکومت نہیں نظام تبدیل کرنے کا موجب بنے۔

ڈاکٹر دارا سلام لندن کے اسکول آف اورنٹیل اینڈ افریقن اسٹڈیز (SOAS) کے’شعبہ سیاسیات و بین الاقوامی تعلقات‘ سے وابستہ ہیں۔ ان کا تعلق عراقی کردستان سے ہے۔