خبریں/تبصرے

سویڈن میں پاکستانی صحافی کی پر اسرار گمشدگی پر عالمی تنظیموں کی تشویش!

قیصر عباس

صحافیوں کی عالمی تنظیموں نے سویڈن میں پاکستانی نژادصحافی ساجدحسین کی پراسرار گمشدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بازیابی کی کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کیاہے۔

صحافیوں کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی تنظیم’سی پی جے‘(کمیٹی فار دی پروٹیکشن آف جرنلسٹس) نے سویڈن کی حکومت سے کہا ہے کہ ساجد حسین کوجو تقریباً ایک ماہ پہلے سویڈن کے شہر اُپسالہ سے لاپتہ ہوئے تھے اپنے بھرپورذرائع استعمال کرتے ہوئے بازیاب کرانے کی ہر ممکن کوشش کرے۔

واشنگٹن سے جاری ہونے والے ایک بیان میں تنظیم کے ایشیا پروگرام کے رابطہ کار اسٹیون بٹلر نے زوردیا ہے کہ”سویڈن کی پولیس ساجد کی بازیابی کی کوششوں کو تیز کرے اورپاکستان میں ان کے خاندان کو اعتماد میں لے کر صورت حال سے آگاہ کرے۔ ایک ایسے صحافی کی گمشدگی پر انہیں انتہائی تشویش ہے جسے بلوچستان میں رپورٹنگ پر ملنے والی دھمکیوں کے بعد ملک چھوڑنا پڑا تھا۔“

مشہورعالمی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایس آر ایف) نے بھی سویڈن سے کہا ہے کہ پاکستانی صحافی کی گمشدگی کو اولیت دیتے ہوئے تفتیش کی رفتار تیز کی جائے اور مختلف خدشات کو دور کیا جائے۔

سویڈن میں ایس آر ایف کے صدر ایرک ہیلکزر نے بیان دیا ہے کہ اس واقعہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مکمل تفتیش کی جائے۔ ساجد حسین سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم کے قریب واقع اُپسالہ یونیورسٹی میں ایرانی زبان پر ایم اے کررہے تھے اور انہوں نے گمشدگی سے پہلے اُپسالہ میں ایک اپارٹمنٹ کرائے پر حاصل کیاتھا۔ وہ 2012ء میں پاکستان چھوڑنے کے بعد اومان، متحدہ عرب امارات اور یوگنڈا میں بھی رہائش پذیر رہے اور 2017ء سے سویڈن میں رہ رہے تھے لیکن2 مارچ سے وہ کہیں نظر نہیں آئے اور پولیس جو تفشیش میں مصروف ہے، مزید تفصیل بتانے سے گریز کررہی ہے۔

پاکستان میں ان کے بھائی واجد حسین نے سی پی جے کو مطلع کیاکہ وہ اپنے بھائی کی گمشدگی سے متعلق کسی بھی قسم کی قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتے کیوں کہ”وہ نہیں جانتے کہ گمشدگی کے پس پردہ اصل حقیقت کیاہے اور ان کی جنگ کس سے ہے۔“

گم شدہ صحافی ساجد حسین آن لائن جریدے ”بلوچستان ٹائمز“ کے مدیرِاعلیٰ ہیں۔ ان کے ایک رفیق کار نعمت حیدر نے جریدے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ”تقریباً ایک ما ہ گزر چکاہے اور ابھی تک ہمیں نہیں معلوم کہ اس معمے کے بارے میں کیا کہاجائے۔“ تاہم ایک دوست کی حیثیت سے انہوں نے امید ظاہر کی کہ ”شائد ساجد خود ہی کسی گوشہ تنہائی میں روپوش ہوں اور جلد ہی واپس آجائیں۔“

ساجد کی شریکِ حیات شہناز بلوچ نے بھی جو کچھ ہی دنوں میں پاکستان سے سویڈن جانے والی تھیں، لوگوں سے اپیل کی ہے کہ جب تک مصدقہ اطلاعات نہ ملیں کوئی قیاس آرائی نہ کی جائے۔ انہوں نے الجزیرہ ٹی و ی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ”وہ نہیں جانتیں کہ ان کے شوہرکہاں ہیں اور کیوں روپوش ہیں۔ ہم سب کو ان کی زندگی اور خیریت کے بارے میں بہت تشویش ہے۔ ساجد جیسے صحافی کے بارے میں یہ بات ناقابل یقین ہے کہ وہ کسی کو بتائے بغیر کہیں روپوش ہوجائیں۔“

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔