خبریں/تبصرے

بچوں کا عالمی دن: 20 سال میں 13,175 کروڑ ڈالر دفاع پر خرچ مگر غریب بچوں کیلئے پیسے نہیں

سرمد خواجہ

ملتان سے کچھ کلومیٹر دور دریاے سندھ کے کنارے جنوبی پنجاب کی نہایت پسماندہ بستیوں میں ضویا سائنس سکولوں کے دو ہزار سے زیادہ بچے ہر سال کی طرح آج بھی بچوں کا عالمی دن منا رہے ہیں۔

ہر کلاس روم میں سکول کے بنائے ہوئے ’بچوں کے حقوق‘ پوسٹر لگے ہیں۔ پوسٹر میں بچوں کے حقوق کے یو این کنونشن 20 نومبر 1989ء کے پانچ آرٹیکل درج ہیں، بچوں کے حقوق سے متعلق پنجاب کے قوانین کا ذکر ہے اور ملک میں بچوں کی مایوس کن صورت حال بارے اعداد و شمار ہیں۔

ان باتوں کو یاد رکھنے کے لئے ضویا سکول کے نواب مضطر نے نظم بھی لکھی ہے (ایک اقتباس)

روٹی پانی صحت اے سب 24 آرٹیکل اچ ہے
تعلیم ضروری ڈیونی ہے اے گلھ 28 آرٹیکل اچ ہے
ثقافت فن وی حق ہوندے اے 31 آرٹیکل آہدے
استحصال نی کرنا بالیں دا اے 32 آرٹیکل آہدے

پاکستا ن اقوام متحدہ کے کنونشن میں شامل ہے۔ اس کنونشن کے آر ٹیکل 24 (پیرا 2c) کے مطابق حکومت پر لازم ہے کہ وہ سب بچوں کو ’مناسب صحت مندانہ غذا‘ فراہم کرے۔ ہندستان میں 12 کروڑ بچوں کو حکومت ہر روز سکول میں کھانا دیتی ہے، جس میں مدرسوں کے بچے بھی شامل ہیں۔

بچوں کو ہر روز کھانا دینابہت اہم ضرورت ہے۔ ملک میں تین کروڑ سے زیادہ غریب اور بھوکے بچے ہیں۔ ضویا سائنس سکول میں کئی بچے کم غذائیت کا شکار ہیں۔ آدھے سے زیادہ بچوں کے قد اوسط سے کم ہیں، دس فی صد بچوں کا قد او ر وزن دونوں اوسط سے کم ہیں۔

اوسط سے کم وزن اور قد کا مطلب ہے کم غذائیت اور بیماری۔ ایسی ہی صورتِ حال سارے ڈسٹرکٹ مظفر گڑھ میں ہے جہاں یہ سکول ہیں۔ پورے ضلع میں کسی بھی دن ہر پانچویں بچے کو بخار ہے یا اسکا پیٹ خراب ہے۔ یہ علامت ہے غربت کی اور خوفناک عکس ہے بے رحم، خودغرض معاشرے کا۔

اسی ڈسٹرکٹ میں 89 امیر لوگ 400 ایکڑ سے زیادہ زمین کے مالک ہیں۔ ان کی آمدنی کم سے کم 200 کروڑ روپے ہے جبکہ انہی کی زمینوں پر کام کرنے والے مزدورں کی مہینے کی کمائی 10,000 روپے سے بھی کم ہے۔ کھیتوں میں سارا دن کام کرنے پر بچیوں کو 100 روپے ملتے ہیں۔ اس لئے شاکر شجاع آبادی کہتے ہیں:

مرن بکہ بچے دے کہیں
پیون کھیر کتے دے کہیں

عالمی ادارہ خوراک کے مطابق ہمارے تین میں سے دو گھرانے سال میں ایک بار شدید بھوک کا سامنا کرتے ہیں۔ ’Pakistan National Nutrition Survey, 2018‘کے مطابق دنیا بھر کے بچوں میں سب سے کم غذائیت ہمارے بچوں کی ہے۔ ہر پانچویں بچے)سال (10-19 کا قد اور ہر تیسرے بچے کا وزن اوسط سے کم ہے۔

آدھی سے زیادہ بچیاں خون کی کمی کا شکار ہیں، یعنی ان میں وٹامن کی شدید کمی ہے۔ یونیسیف کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق یہ صورتِ حال سنگین ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے 17.7 فی صد بچوں میں غذائیت کی کمی ہے جو ایمرجنسی سطح 17) فی صد سے زیادہ ہے)۔ یونیسیف کے مطابق اس ایمرجنسی سے نمٹنے کے لئے بچوں کی غذائی حالت فوری طور پر بہتر کرنے کی ضرورت ہے لیکن صرف چھ دن پہلے تووزیر اعظم نے ’National Nutritional Coordination Council‘ بنانے کا اعلان کیاہے اور اس سے ایک ہفتہ پہلے پانچ سالہ منصوبہ بنا جس پر سالانہ خرچہ صرف 7,000 کروڑ روپے ہو گا۔ تاہم ایسے پروگرام سے بچوں کی صحت بہتر نہ ہو گی۔

نہ ہی خواندگی کی صورت حال بہتر ہو گی۔ 35 فیصد پرائمری سکول جانے والی عمر کے بچے اور 70 فی صد اپر سیکنڈری سکول جانے والی عمر کے بچے سکول نہیں جاتے۔ ان بچوں کا معاشی مستقبل روشن نہیں۔ اگر وہ جوانی میں زندہ رہے تو وہ اپنے والدین کی طرح بیروزگار اور غریب رہیں گے۔

کیوں؟ اس لئے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کی نظریں ان بچوں پر نہیں بلکہ سٹاک ایکسچینج انڈیکس پر ہیں یا کرنٹ اکاؤنٹ جیسے مبہم اعداد و شمار پرہیں۔ سٹاک ایکسچینج انڈیکس کے اوپر جانے کا مطلب صرف یہ ہے کہ ملک کے امیر ترین اور جہانگیر ترین جیسے لوگوں کی دولت میں اور اضافہ ہو رہا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ کے سرپلس کا مطلب ہے کیپیٹل اکاؤنٹ میں خسارہ یعنی ہم سرمایہ کاری کم اور بیرونی قرضے زیادہ ادا کر رہے ہیں جس سے آئی ایم ایف خوش ہے۔

امیر لوگوں کو اور امیر کرنا حکومت کی پالیسی ہے جو اس کی سوچ، رویے اور نظرئے کی عکاس ہے۔ اگر حکومت کو غریب بچوں کا خیال ہو تو 100 کروڑ روپے جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کے خاندانوں کو شوگر سکینڈل میں نہ دیتی۔ ان پیسوں سے 12 کمروں والے 200 نئے ہائی سکول تعمیر کرتی، 2,700 کروڑ سے جو چند دن پہلے حکومت نے ایران کے بارڈر پر باڑ بنانے کے لئے منظور کئے، 5,000 ہائی سکول تعمیر کرتی تا کہ 20 لاکھ بچے پڑھ سکتے۔

صرف ایک بندوق نہ خریدنے سے 16 ہینڈ پمپ سکولوں میں لگائے جا سکتے ہیں جس سے 6,400 بچے صاف پانی پی سکتے ہیں اور پیٹ کی بیماری سے بچ سکتے ہیں۔ یونیسیف کے مطابق ہمارے ملک میں 40 فی صد بیماریاں اور اموات خراب پانی پینے کی وجہ سے ہیں۔

سکولوں میں ہینڈ پمپ لگانا، نئے سکول بنانا یا بچوں کو کھانا دینا حکومت کی ترجیحات میں نہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بچوں کی بہبود کے حوالے سے بڑی سیاسی پارٹیاں جنہوں نے پچھلے 20 سالوں میں حکومتیں بنائیں سب ایک پیج پر ہیں چنانچہ سٹاک ہولم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ہم نے پچھلے 20 سالوں میں 13,175 کروڑ امریکی ڈالر دفاع پر خرچ کئے۔

اس بڑی رقم کا دسواں حصہ بھی بچوں پر خرچ ہوتا توکم غذائیت کا مسئلہ ختم ہو گیا ہوتا…مگر نہیں۔ سب حکومتوں نے بیشمار پیسے خرچ کئے۔ اس وقت بھی حکومت بیشمار پیسے خرچ کر رہی ہے مگر غریب بچوں پر نہیں۔