خبریں/تبصرے

ٹویٹر، فیس بک اور گوگل کی عمران حکومت کے خلاف بغاوت

لاہور (جدوجہد رپورٹ) انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی سے متعلقہ عالمی کمپنیوں نے پاکستان چھوڑنے کی دھمکی دیدی ہے۔ کمپنیوں نے یہ اقدام حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل مواد کو سنسر کرنے کیلئے حکام کو اندھے اختیارات دینے کی وجہ سے اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے اس پالیسی کو قدامت پسند معاشرے میں اظہار رائے کی آزادی پر سخت پابندی قرار دیا ہے۔

جمعرات کے روز گوگل، فیس بک اور ٹویٹر سمیت عالمی ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے اتحاد ایشیا انٹرنیٹ کولیشن کی جانب سے یہ انتباہ اس وقت جاری کیا گیا جب بدھ کے روز عمران خان کی حکومت نے سرکاری میڈیا ریگولیٹرز کو وسیع اختیارات تفویض کئے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایشیا انٹرنیٹ کولیشن نے کہا کہ ”پاکستان کی طرف سے انٹرنیٹ کمپنیوں کو ہدف بنانے والا نیا قانون اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت کا مبہم طریقہ کار بھی جس کے ذریعے یہ قواعد تیار کئے گئے ہیں، ہمارے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔“

نئے قواعد و ضوابط کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں یا انٹرنیٹ سروس مہیا کرنے والوں کو اسلام کی بدنامی سمجھے جانے والے مواد کی سرکولیشن، دہشت گردی کو فروغ دینے، نفرت انگیز تقریر کرنے، فحش نگاری یا قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے کسی بھی مواد کو روکنے میں ناکامی پر 3.14 ملین ڈالر تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کے انگریزی جریدے ڈان کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیوں کو لازم ہے کہ وہ پاکستان کی نامزد تحقیقاتی ایجنسی کوپڑھنے کے قابل، قابل فہم اور ڈی کرپٹڈ ڈیٹا فراہم کریں۔ پاکستان یہ بھی چاہتا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں ملک میں اپنے دفاتر قائم کریں۔

انٹرنیٹ و ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اتحاد نے کہا کہ ”سفاکانہ ڈیٹا لوکلائزیشن ریکوائرمنٹس لوگوں کو مفت اور کھلے انٹرنیٹ تک رسائی کو نقصان کا باعث اور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو پورے دنیا سے منقطع کرنے کا باعث ہونگی۔ نئے قوانین کے بعد اتحاد کے ممبران کیلئے پاکستانی صارفین اور کاروباری اداروں کو خدمات فراہم کرنا مشکل ہو جائے گا۔“

نئے قواعد و ضوابط کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو پاکستانی حکام کی اطلاع کے بعد چوبیس گھنٹوں کے اندر اپنی ویب سائٹ سے کوئی بھی غیر قانونی مواد ہٹانا یا بلاک کرنا ضروری ہو گا۔

اگر یہ کمپنیاں سروسز دینا بند کر دیتی ہیں تو فوری طور پر ہزاروں افراد کا روزگار بند ہونے کے علاوہ کاروباری اداروں اور طلبہ کو شدید مشکلات سے دو چار ہونا پڑے گا۔ دوسری جانب حکومت کو روایتی میڈیا پر سنسر شپ کے بعد سوشل میڈیا پر اٹھنے والی آوازوں سے جو خطرات محسوس ہو رہے تھے ان کا خاتمہ ہو جائے گا۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں اظہار رائے اور میڈیا پر مکمل پابندی عائد ہو جائے گی۔ کوئی بھی شخص، اشخاص یا تنظیم اپنی آواز لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو پائے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ عرصہ میں روایتی میڈیا پر سنسرشپ کے بعد سوشل میڈیا نے ایک متبادل میڈیا کے طورپر اپنی جگہ بنائی ہے۔ لاپتہ افراد کی بازیابی اور دیگر شہری اور جمہوری آزادیوں کیلئے چلنے والی تحریکوں اور طلبہ تحریکوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے بے حد پذیرائی ملی، جبکہ روایتی میڈیا پر عائد پابندیوں کے خلاف بھی سوشل میڈیا پر آوازیں بلند ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے حکومت اور دیگر طاقت ور حلقوں کو سخت ہزیمت اٹھانا پڑ رہی ہے۔