خبریں/تبصرے

عظیم انقلابی رہنما امجد شاہسوار کی آخری رسومات کا شیڈول جاری کر دیا گیا

راولاکوٹ (پ ر) جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق مرکزی صدر اور عظیم انقلابی رہنما امجد شاہسوار کا جسد خاکی بائیس جنوری بروز جمعہ شام پانچ بجے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے گا۔ تیئس جنوری بروز ہفتہ دن دو بجے صابر شہید سٹیڈیم میں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد آبائی قبرستان تراڑ دیوان میں انہیں سپرد خاک کیا جائیگا۔ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے امجد شاہسوار کے جسد خاکی کے استقبال اور آخری رسومات کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ شیڈول کے مطابق بائیس جنوری کو پانچ بجے راولپنڈی اسلام آباد اور پاکستان کے دیگر صوبوں سے آنے والے ان کے ساتھی، جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکنان اور راولپنڈی اسلام آباد میں موجود کشمیر کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے رہنما گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ امجد شاہسوار کے جسد خاکی کا استقبال کریں گے اور انہیں گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ شام چھ بجے اسلام آباد سے روانہ کیا جائیگا۔ کشمیر بھر سے جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے قائدین اور راولاکوٹ کے تمام سیاسی و سماجی رہنما آزاد پتن پر قافلے کا رات دس بجے استقبال کریں گے۔ انہیں ایک جلوس کی شکل میں آبائی گھر تراڑ دیوان میں پہنچایا جائے گا۔ تیئس جنوری کو ہفتے کے روز دن بارہ بجے امجد شاہسوار کے جسد خاکی کو آبائی گھر سے راولاکوٹ شہر لایا جائے گا۔ دن ساڑھے بارہ بجے ڈی چوک راولاکوٹ میں تمام کارکنان انکا بھرپور استقبال کریں گے اور ایک پیدل جلوس کی شکل میں انہیں راولاکوٹ صابر شہید سٹیڈیم میں پہنچایا جائے گا۔ صابر شہید سٹیڈیم میں دن دو بجے نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد جسد خاکی کو آبائی قبرستان تراڑ دیوان میں پہنچایا جائے گا جہاں تدفین کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ جات امجد شاہسوار کے اہل خانہ اور بھائیوں کے ساتھ مشاورت کے بعد جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے اجلاس میں کئے گئے۔ اجلاس میں درجنوں کارکنان نے شرکت کی۔ مرکزی صدر این ایس ایف ابرار لطیف، سابق مرکزی صدر بشارت علی خان، حارث قدیر، واجد خان، زبیر لطیف، نقاش امین اور عدیل خان سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نماز جنازہ کے موقع پر تقاریر اور تعزیتی ریفرنس سے گریز کیا جائیگا، صرف انکا ایک ساتھی انکی زندگی اور جدوجہد سے متعلق بات کریگا اور نماز جنازہ کی ادائیگی کی جائے گی۔ اتوار چوبیس جنوری کو راولاکوٹ میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔ تعزیتی ریفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں، سیاسی و سماجی حلقوں، امجد شاہسوار کے ساتھیوں اور دوستوں کے علاوہ تمام مکاتب فکر کو دعوت عام دی جائے گی۔ مقررین نے کہا کہ امجد شاہسوار جہاں سائنسی سوشلزم کے نظریات کا سب سے بڑا علمبردار اور ایک نڈر اوربہادر رہنما تھا وہیں تمام سیاسی کارکنوں کیلئے وہ ایک سیاسی استاد کی حیثیت رکھتے تھا۔ انکے قریبی ساتھی آج مختلف سیاسی رجحانات اور تنظیموں میں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام لوگوں کو جہاں امجد شاہسوار کے بچھڑ جانے کا دکھ اور تکلیف ہے وہاں انکے نظریاتی اور سیاسی وارث ہونے کے ناطے ہم ان تمام سیاسی کارکنوں اور افراد کو وہ عزت اور احترام دینگے جو وہ امجد شاہسوار اور انکے ساتھیوں سے توقع رکھتے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ امجد شاہسوار نے ایک بڑے انقلابی دماغ اور رہنما کے طور پر ایک بھرپور زندگی گزاری، ساری زندگی ایک جہد مسلسل میں گزاری یہی وجہ ہے کہ انکی آخری رسومات انکے شایان شان، انکی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے طور پر ادا کی جائیں گی۔ تمام دوست انقلابی جوش و جذبے سے اپنے مقبول اور ہر دل عزیز رہنما کو سپرد خاک کریں گے۔