سائنس و ٹیکنالوجی

پاپولر کلچر اور سائنس فکشن

کامریڈ فقیر

قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر صاحب نے 29 مارچ کو ایک ٹویٹ کے ذریعے قوم کو خوشخبری دی کہ ”مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم عید کے فوراً بعد ترکی کے ساتھ مشترکہ منصوبے کے منتظر ہیں۔ انشاء اللہ پاکستانی اسکرین پر ارتغرل غازی جیسے دورانیے کی کلاسیکی صلاحیتوں کیلئے جگہ بنانی ہو گی اور ہمارا یہ منصوبہ ایک اور حیرت انگیز شاہکار ہو گا۔“

اگرچہ منصوبے کی تفصیلات انہوں نے نہیں دیں لیکن ارتغرل غازی کے ریفرنس کے تناظر میں یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ پھر ماضی کی کوئی سیاسی ڈرامہ تشکیل سکرین پہ پیش کرنے کے لیے بنائی جا رہی ہے۔ فلم، ٹی وی ڈرامہ، مقبول عام ادب اور صحافت، مقبول عام کلچر یعنی پاپولر کلچر کو فروغ دیتے ہیں جو اشرافیہ اور ریاست کے اس وسیع تر بیانیے کا حصہ ہوتا ہے جس کا مقصد اقتدار کو دوائم بخشنا ہوتا ہے۔ ہمارے اردگرد ٹی وی ڈرامے، فلم ادب اور صحافت نے جو پاپولر کلچر تخلیق دیا ہے وہ تہذیبی نرگسیت کا شکار ہے جس میں تنقیدی انداز نظر سرے سے مفقود ہے۔

ہمارے یہاں سائنس فکشن لکھی نہیں جاتی، اس پہ ٹی وی سریل نہیں بنتے اور نہ ہی سائی فائی بنائی جاتی ہیں، صحافت میں سائنسی خبریں اور مضامین پڑھنے کو نہیں ملتے۔ پاپولر کلچر میں سائنس کو رد کرنے لیے بڑی شد و مد کے ساتھ کام کیا گیا اور کیا جاتا ہے۔ جس کا سہرا اشفاق احمد صاحب کے سر ہے۔ ڈرامہ سیریز ”اور ڈرامے“ میں ان کا ایک کھیل ”سائیں اور سائیکیٹرسٹ“ ہے جس میں وہ سائیں (یعنی روحانی بزرگ) کو سائیکالوجی کی سائنس سے بڑا ثابت کرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آج بھی لوگ سائیکیٹرسٹ کی مدد لینے کی بجانے جھاڑ پھونک اور تعویذ کنڈے کی مدد سے ذہنی بیماریوں کا علاج کروانے پر یقین رکھتے ہیں۔ ’من چلے کا سودا‘ میں انہوں نے کوانٹم فزکس کے ذریعے روحانیت اور تصوف کو ثابت کیا جس پہ انہیں نوبیل پرائز تو نہیں ملا البتہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں کے سائنس ٹیچرز فزکس پڑھاتے ہوئے اس میں روحانیت کا تڑکہ ضرور لگا دیتے ہیں۔

اس طرح سے پاپولر کلچرل سے جو سوشل انجینئرنگ کی گئی اس کا نتیجہ مذہبی اور سیاسی تنگ نظری اور شدت پسندی کی شکل میں برآمد ہوا۔ معاشرہ سائنس اور ٹیکنالوجی سے نہ صرف بے زار نظر آتاہے بلکہ اسے اپنے خلاف ایک سازش کے طور پر دیکھتے ہوئے نرگسیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ پاپولر کلچر سے سائنس کو نکالنے اور اس کی جگہ مذہب اور روحانیت کو فروغ دینے کا بڑا فائدہ مقتدرہ کلاس کو یہ ہوا کہ معاشرہ مجوعی طور پر تنقیدی اور سائنسی نکتہ نظر سے ہی دور ہو گیا اور سائنس ہمارے معاشرے میں پروان نہیں چڑھ سکی جس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت پیچھے رہ گیا۔

دوسری طرف وہ معاشرے جہاں صحافت نے سائنس پر خبریں اور مضامین لکھے، سینما، ٹی وی ڈراموں اور کامکس نے سائنس فکشن کو پاپولر کلچرکا حصہ بنایا نتیجے میں سائنس اور سائنسی انداز فکر پروان چڑھا جس نے معاشرے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی راہ ہموار کی۔ وہ بچے جو سائنس فکشن کے ذریعے سائبر سپیس کے آشنا ہوئے وہ آج سائبر سپیس پر حکمرانی کر رہے ہیں، مصنوعی ذہانت کے ساتھ مکالمہ کر رہے ہیں۔

دوسری طرف وہ معاشرے ہیں جو ابھی تک تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ سائنس نے انہیں کوئی نئی بات بتائی ہے وہ یہی کہتے ہیں کہ یہ تو انہیں صدیوں پہلے معلوم تھا۔ ایسے معاشرے ترقی تو دور کی بات بنیادی انسانی ضروریات پوری کرنے سے کوسوں دور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کورونا جیسی وبا میں یہ معاشرے کورونا کے خلاف کوئی ویکسین نہیں بنا سکے اور جو ویکسین بنی اس کو ٹی وی کے ٹاک شوز اور سوشل میڈیا فورمز پہ سازشی تھیوریوں کی عینک سے دیکھا جا رہا ہے۔

اکیسویں صدی میں بھی حکمران سائنس کو پاپولر کلچر کا حصہ بنانے کی بجائے کسی اور قوم کی اسلاف پرستی پر مبنی ڈرانے ٹی وی سکرینوں کا حصہ بنا رہے ہیں۔ ٹی وی پہ ایسے ٹاک شو چلائے جا رہے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ برصغیر کے جنات کی حکومت کا دارالخلافہ کوہ ہمالیہ پہ ہے۔ جنات ایک ملک سے دوسرے ملک ویزہ لیکر جاتے ہیں۔ اگر کوئی غیر قانونی کام کرتا پکڑا جائے تو اسے ٹھٹھہ میں جو جنات کی سب بڑی جیل ہے وہاں بند کر دیا جاتا ہے۔ ایسا ملک جس میں ٹی وی اس طرح کا پاپولر کلچر تشکیل دے رہا ہو وہاں نہ تو سائنس کا کوئی مستقبل ہے نہ ہی ملک کا۔ سائنس محض یونیورسٹیوں میں پڑھانے سے فروغ نہیں پاتی بلکہ معاشرے کو سائنسی بنیادوں پہ استوار کرنے سے فروغ پاتی ہے جس میں پاپولر کلچرل ایک اہم رول ادا کرتا ہے۔ یہ افسوس کا مقام ہے کہ مسلم ممالک سے آج تک کوئی بڑی سائنس فکشن، ناول، ڈرامے اور فلم کی شکل میں سامنے نہیں آئی۔

Comrade Faqeer

کامریڈ فقیر ڈرامہ نگار اور پروڈیوسر ہیں۔