خبریں/تبصرے

عالمی آزادی صحافت کا انڈیکس: پاکستان 183 ممالک میں سے 145 ویں نمبر پر

لاہور (جدوجہد رپورٹ) رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے سالانہ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کی فہرست جاری کر دی ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق جنوبی ایشیائی ریجن کے بڑے ممالک میں آزادی صحافت کی صورتحال بدترین ہے۔ 180 ممالک کی فہرست میں پاکستان کانمبر 145 واں ہے، جبکہ بھارت 142 ویں اور چین 177 ویں نمبر پر موجود ہے۔

تنظیم کی طرف جاری کئے جانیوالے اعداد و شمار کے مطابق ناروے، فن لینڈ، سویڈن، ڈنمارک، کوسٹاریکا، ہالینڈ، جمیکا، نیوزی لینڈ، پرتگال اور سویڈن بالترتیب پہلے 10 نمبروں پر براجمان ہیں، جبکہ ایریٹیریا، نارتھ کوریا، ترکمانستان، چین، جبوتی، ویتنام، ایران،شام، لاؤس اور کیوبا بالترتیب آخری 10 نمبروں پر رکھے گئے ہیں۔

سعودی عرب، یمن، بحرین، عراق، لیبیا، مصر سمیت مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے دیگر ممالک آزادی صحافت کے حوالے سے بدترین قرار دیئے گئے 20 ممالک کی فہرست میں شامل ہیں۔ افغانستان کا 122 واں نمبر ہے جبکہ اسرائیل 86 ویں نمبر پر براجمان ہے، دنیا میں جمہوری اور شخصی آزادیوں کا سب سے بڑا وکیل اور عالمی قیادت کا دعویدار ملک امریکہ بھی آزادی صحافت کی فہرست میں 44 ویں نمبر پر براجمان ہے۔

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کی جانب سے پریس فریڈم انڈیکس کی سالانہ رپورٹ جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ڈس انفارمیشن کے وائرس کو روکنے کیلئے کوئی ویکسین تیار نہیں کی جا رہی ہے۔ 73 فیصد ممالک میں ڈس انفارمیشن کے تدارک کیلئے کی جانیوالی صحافت پر پابندی عائد ہے۔ ان ممالک کو آزادی صحافت کیلئے بہت خراب، خراب یا مسائل زدہ ماحول کی درجہ بندی میں تقسیم کیا گیا ہے۔ 73 ممالک ایسے ہیں جہاں ڈس انفارمیشن کے پھیلاؤ کو روکنے والی صحافت پر مکمل پابندی عائد ہے، 53 ممالک ایسے ہیں جن میں ڈس انفارمیشن کا پھیلاؤ روکنے والی صحافت کیلئے مسائل موجود ہیں۔

اعداد و شمار عوام کی معلومات تک رسائی میں ڈرامائی بگاڑ، نیوز کوریج میں رکاوٹوں میں اضافے کی عکاسی کرتے ہیں۔ کورونا وائرس کے وبائی مرض کو صحافیوں کی معلومات کے ذرائع تک رسائی اور میدان میں رپورٹنگ کو روکنے کیلئے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ خصوصاً مشرق وسطیٰ اور یورپ میں صحافی حساس کہانیوں کی تحقیقات اور ان کی رپورٹنگ کرنا مشکل محسوس کر رہے ہیں۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے سیکرٹری جنرل کرسٹوف ڈیلور نے کہا کہ ”صحافت ڈس انفارمیشن کے خلاف ایک بہترین ویکسین ہے۔ بدقسمتی سے اس کی پیداوار اور تقسیم اکثر معاشی، تکنیکی اور بعض اوقات ثقافتی عوامل کے ذریعے بھی روکی جاتی ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا کے توسط سے سرحدوں کے پاس سے ڈس انفارمیشن کے وائرل ہونے کے جواب میں صحافت اس بات کو یقینی بنانے کا موثر ذریعہ مہیا کرتی ہے کہ عوامی بحث متنوع حد تک اور حقائق پر مبنی قائم ہو۔“