خبریں/تبصرے

چین کی مخالفت پر امریکہ، سعودی عرب کو اڈے دینے سے انکار کیا گیا

راولاکوٹ (نامہ نگار) امریکہ کو فضائی اڈے دیئے جانے اور سعودی عرب کو بلوچستان میں رسائی دینے کے منصوبہ کی راہ میں چین کے رکاوٹ بننے اور سی آئی اے چیف کی دورہ پاکستان میں وزیراعظم سے ملاقات نہ کرنے کی وجوہات بارے صحافی اسد علی طور نے کچھ اہم انکشافات کئے ہیں۔

اسد طور نے اپنے وی لاگ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سربراہ نے دورہ پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات سے انکار کر دیا جبکہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے 7 گھنٹے طویل ملاقات کی۔ پاکستان نے ڈرون طیاروں تک رسائی کے مطالبے سمیت دیگر شرائط رکھتے ہوئے امریکہ کو فضائی اڈے دینے کے منصوبے کو وقتی طور پر ٹال دیا ہے۔ پاکستانی عسکری حکام نے ایسا چین کے تحفظات کی وجہ سے کیا ہے۔ چین کو خدشہ ہے کہ امریکہ افغانستان کی نگرانی کیلئے حاصل کئے گئے فضائی اڈوں کو سی پیک کی نگرانی کیلئے استعمال کرے گا۔

سی آئی اے چیف کی وزیراعظم عمران خان سمیت سول قیادت سے ملاقات نہ کرنے سمیت نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب عمران خان سے ایک بار بھی رابطہ نہ کئے جانے کی وجہ عمران خان کا غیر یقینی مستقبل قرار دی گئی ہے۔ مستقبل میں امریکی پالیسیوں کو آگے بڑھانے میں وزیراعظم عمران خان کا کوئی کردار نہ ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ کوئی رابطے بھی استوار نہیں کئے جا رہے ہیں۔

اسد طور نے انکشاف کیا کہ عمران حکومت نے پہلے دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی حکام سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں بلوچستان میں ایک بڑا جاسوسی کا نیٹ ورک قائم کرنے کی اجازت دی جائیگی، یہ نیٹ ورک سعودی قونصل خانے کے نام پر قائم کیا جانا تھا۔ اس منصوبے کو گوادر میں آئل ریفائنری اور سی پیک میں سعودی عرب کی شراکت داری کی آڑ میں پایا تکمیل تک پہنچایا جانا تھا۔ وزیر اطلاعات (وقت) فواد چوہدری نے یہ اعلان بھی کر دیا تھا کہ سعودی عرب سی پیک کا حصہ بننے جا رہا ہے۔ تاہم چین نے خطے میں عدم استحکام اور ایران کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے نتیجے میں فرقہ وارانہ تشدد کے بڑھنے کے خدشات سے سی پیک کے متاثر ہونے کی وجہ سے اس آفر کو سختی سے مسترد کر دیا تھا۔

سعودی خواہشات کے مطابق وعدوں کی تکمیل نہ ہونے کی وجہ سے ہی سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر کے قرضے کی رقم بھی واپس مانگ لی اور قرض پر تیل کی فراہمی کے اعلان پر بھی عملدرآمد نہیں ہو سکا۔