خبریں/تبصرے

24 نیوز کو حکومت پر تنقید کی وجہ سے بند کیا گیا: اسٹیو بٹلر

قیصر عباس

واشنگٹن ڈی سی (جدوجہد رپورٹ) صحافیوں کے تحفظ کی عا لمی تنظیم، کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے)، نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) پاکستانی نیوز چینل 24 کی نشریات فوری طورپر بحال کرے جنہیں حال ہی میں معطل کیا گیا ہے۔ اس مہینے کی تین تاریخ کو پیمرا نے چینل کی ان کے بقول ”نیوز اور اطلاعات عامہ کی غیرقانونی نشریات“ بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ پیمرا کی ایک پریس ر یلیز کے مطابق چینل کو قوانین کے تحت صرف تفریحی نشریات کا حق حاصل ہے نیوز اور کرنٹ آفیئرز کا نہیں۔

سی پی جے کے ایشیا ئی رابطہ کار اسٹیو بٹلر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ”نیوز چینل کو حکومت پر آزادانہ تنقید کی وجہ سے بند کیا گیا ہے اور اگر چینل کی نشریات کی راہ میں کوئی انتظامی قوانین حائل ہیں تو انہیں جلد از جلد تبدیل کرکے نیوز اور کرنٹ آفیئرز کی نشریات فوری طورپر بحال کی جائیں۔“ پیمرانے ابھی تک سی پی جے کی جانب سے رابطوں کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

دوسری طرف ملک کی ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز نے پیمرا کے اس فیصلے کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چینل 24 کی یہ نشریات گزشتہ چھ سالوں سے جاری ہیں اور اس ٹی وی چینل پر پابندی دراصل نشریات میں حکومت پر تنقید کے پس منظر میں لگا ئی گئی ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر اظہر عباس نے کہا ہے کہ کئی اور چینل بھی اسی قسم کی نشریات جاری رکھے ہو ئے ہیں۔

ایک سال پہلے اسی چینل کو مریم نواز کی ایک تقریر نشر کرنے پر بند کیا گیا تھا۔ گزشتہ سال اگست میں بھی اس چینل کے ”نجم سیٹھی شو“ پر پابندی لگائی گئی تھی جسے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ہتک عزت کے ایک مقدمے کا سامنا تھا۔ سی پی جے کے مطابق نجم سیٹھی نے انہیں مطلع کیا ہے کہ پیمرا کی اس نئی پابندی کا پس منظر ان کاشو، جسے بعد میں بحال کردیا گیا تھا اور حکومتِ وقت کی پالیسیوں پر تنقید ہے۔

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔