دنیا

الجزائر اور سوڈان میں بغاوت کے طوفان

لال خان

پچھلے دو ہفتوں میں عوام کی احتجاجی تحریکوں نے الجزائر اور سوڈان میں طویل عرصے سے مسلط مطلق العنان حکمرانوں کو معزول کر دیا ہے۔ انقلابات کی ایک خاصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ مروجہ دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کو نہ صر ف حیران کر دیتے ہیں بلکہ ان کے تناظر اور لائحہ عمل کو بھی نامراد بنا دیتے ہیں۔ 2011ء کے عرب انقلاب کے طوفان نے بحیرہ عرب سے لے کے بحراوقیانوس تک کے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ لیکن انقلابی قیادت کے فقدان کے پیش نظر یہ تحریکیں اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکیں اور ٹوٹ کے بکھر گئیں۔ اس پسپائی سے ردِ انقلاب کی تباہی کا سلسلہ شروع ہوا۔ جس میں ریاستی جبر، بنیادی پرستی کی دہشت گردی اور سامراجی قوتوں کی قتل و غارت نے سماجی زندگی کو مفلوج اور برباد کر کے رکھ دیا۔

الجزائر اور سوڈان میں 2011ء میں کوئی بڑی بغاوت نہیں ہوئی تھی۔ لیکن ان معاشروں کے سماجی تضادات اب پھٹ رہے ہیں۔یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ان ممالک میں حالیہ تحریکوں میں ہراول کردار ادا کرنے والے نوجوانوں نے 2011ء کے انقلابات کے عروج و زوال سے کچھ اسباق بھی حاصل کیے ہیں۔ ان انقلابی تحریکوں میں انہوں نے جابر حکمرانوں کو ایک بھی گولی چلائے بغیر عوامی مظاہروں کی طاقت سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ یہ بالکل درست ہے کہ ایسی مطلق العنان حکومتوں کے خلاف ابھرنے والی تحریکوں میں جمہوری آزادیوں کی مانگ ہمیشہ کی جاتی ہے لیکن محض ’’جمہوریت‘‘ کو ہی واحد مطالبہ اور مطمع نظر قرار دے دینا، جیسا کہ کارپوریٹ میڈیا کا طریقہ واردات ہوتا ہے، سراسر غلط ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری اور بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محرومی جیسے سلگتے ہوئے مسائل لوگوں کو تاریخ کے میدان میں اترنے پر مجبور کرتے ہیں۔ سوڈان میں احتجاجوں کا آ غاز ہی روٹی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہوا تھا۔ اسی قسم کی سماجی و معاشی محرومیاں الجزائر میں بغاوت کا باعث بنی ہیں۔ اور دونوں ممالک میں مختلف مذہبی فرقوں اور نسلوں وغیرہ سے تعلق رکھنے والے عوام تمام تعصبات اور فروعی تقسیموں کو رد کرتے ہوئے یکجا ہو کے تحریکوں میں اترے ہیں اور بالخصوص سوڈان کے مظاہروں میں خواتین کی ہراول شرکت انتہائی اہم اور مثبت پیش رفت ہے۔

یو ں ان تحریکوں کا بنیادی کردار طبقاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بہت کم وقت میں سماجی وسعت اختیار کر گئی ہیں۔ لیکن نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ دنیا بھر میں استحصال زدہ لوگوں نے 2011ء سے یہ سبق سیکھا ہے آمروں کے چلے جانے کے بعد مسائل ختم نہیں ہوتے۔ اُلٹا وقتی سیاسی مانگیں پوری ہونے پر جب انقلابی تحریکوں کی توانائی ماند پڑتی ہے تو استحصالی طبقات اور ان کی ریاستیں پلٹ کر زیادہ گہرے وار کرتی ہیں ۔ حالیہ عرصے میں مصر اور کسی حد تک تیونس میں یہ عمل بالکل واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔

بائیس سالہ آلا صالح سوڈان کی تحریک کی علامت کے طور پہ ابھری ہیں۔

تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ آمرانہ حکومتوں کو تو تحریکیں تنکوں کی طرح بہا لے جاتی ہیں لیکن استحصالی نظام، اس کے ادارے اور سماجی ضابطے باقی رہتے ہیں۔ جن کا تسلط نئے ناموں، چہروں اور سیاسی طریقوں کیساتھ جاری رہتا ہے۔آمریت اور جمہوریت بذات خود کوئی نظام نہیں بلکہ ایک ہی نظام کو چلانے کے دو مختلف طریقے ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں 1968-69ء کے انقلاب کا پہلا اور فوری نشانہ ایوب خان کی فوجی آمریت تھی۔ مارچ 1969ء میں اس کے معزول ہو جانے کے بعد تحریک میں قدرے سست روی آگئی ۔ تاہم نوجوانوں اور محنت کشوں کے ہراول حصے متحرک اور سرگرم رہے کیونکہ تحریک کے مطالبات نہ صرف آمریت بلکہ پورے نظام کو چیلنج کرتے ہوئے روٹی، کپڑا، مکان اور انقلابی سوشلزم تک جا پہنچے تھے۔ 1970ء کے انتخابات بھی جب انقلاب کو زائل کرنے میں ناکام رہے تو 1971ء کی جنگ کے بیرونی محاذ کے ذریعے داخلی تضادات کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ آخر کار یہاں کی اسٹیبلشمنٹ کو بادل نخواستہ اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کو دینا پڑا ۔ جس نے اسی نظام میں رہتے ہوئے اصلاحات پر تکیہ کیا جن کی ناگزیر ناکامی اور تحریک کی حتمی پسپائی کے بعد ضیا الحق کی وحشیانہ آمریت کی راہ ہموار ہوئی اور پھر معاشی بربریت کا سلسلہ نام نہاد جمہوری حکومتوں کے تحت بھی جاری رہا اور آج تک اپنی بدترین شکل میں جاری ہے۔

سوڈان میں حالیہ تحریک، جس کا آغاز پچھلے سال دسمبر میں ہوا تھا، نے پہلے عمر البشیر کی تیس سالہ آمریت کا خاتمہ کیا۔ جس کے بعد فوج نے اقتدار سنبھال لیا اور عمر البشیر کے ہی ایک جابر فوجی جرنیل احمد عوض بن عوف نے خود کو نیا سربراہِ مملکت قرار دیتے ہوئے آئین کی معزولی اور رات کے وقت کرفیو لگانے کا اعلان کر دیا۔ لیکن مظاہرے جاری رہے اورلوگوں نے کرفیو کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایجی ٹیشن برقرار رکھی۔ جس نے ریاست کو کرفیو اٹھانے، سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے، مظاہرین پر جبر کرنے والے اہلکاروں کو گرفتار کرنے اور بالآخر جنرل احمد عوض بن عوف کو بھی فارغ کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس کے بعد جنرل عبدالفتاح البرھان نے اقتدار سنبھالا ہے جو جرنیلوں میں نسبتاً بہتر ساکھ کا حامل سمجھا جاتا ہے اور مظاہرین سے مذاکرات کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی طرح الجزائر میں بھی فروری کے وسط میں شروع ہونے والے مظاہروں نے بیس سال سے اقتدار پر براجمان عبدالعزیز بوتفلیقہ کو گھر جانے پر مجبور کیا ہے۔ ان تحریکوں میں معزول ہونے والی آمرانہ حکومتوں کے سرکاری سہولت کاروں اور اہلکاروں کے خلاف شدید نفرت کا اظہار اور ان کے احتساب کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔سارے نظام کو بدلنے کی آوازیں بھی اُٹھ رہی ہیں۔ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ بوتفلیقہ یا بشیر کے جانے کے بعد بھی ان کی ریاستیں قائم ہیں۔

یہ ریاستیں کسی فرد کی وفادار نہیں ہوتیں بلکہ ایک پورے استحصالی طبقے کی نمائندگی اور اس کے نظام کی حفاظت کرتی ہیں۔ اسی لئے انہیں تخلیق کیا جاتا ہے اور ان کے مسلح جتھوں سے لے کر انتظامی مشینری تک پہ بے پناہ دولت خرچ کی جا تی ہے۔ طبقاتی سماجوں میں محنت کش طبقات کو محروم و مجبور رکھ کر ہی حکمران طبقات یہ دولت اور وسائل جمع کرتے ہیں۔ یہ نئے فوجی جرنیل یا سویلین حکمران بھی فی الوقت اپنے انداز بدل لیں گے‘ تھوڑے دھیمے اور ٹھنڈے پڑ جائیں گے لیکن ان کا کردار نہیں بدلے گا۔ سرمایہ دارانہ ریاست، جو ایک اقلیتی حکمران طبقے کے مفادات کی حفاظت کرتی ہے، کو محنت کشوں کی نمائندگی کرنے والی جمہوری ریاست سے تبدیل کیے بغیر آج کے عہد میں کوئی انقلاب اپنی منزل اور مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔ جدوجہد کو نام نہاد ’’جمہوریت‘‘ کے مرحلے پہ روکنے کی کوشش ریاستوں اور حکمران طبقات کی وفاداری کے زمرے میں ہی آتی ہے۔ معاشی طور پر غلام سماج‘ معاشرتی اور سیاسی طور پر کبھی آزاد نہیں ہو سکتا۔ طبقاتی معاشروں میں جمہوریت اور آزادی کی باتیں پرفریب نعرہ بازی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتیں۔
2011ء کی طرح آج بھی سوڈان اور الجزائر کی تحریکوں کے خطے کے دوسرے ممالک میں پھیلنے کے امکانات موجود ہیں۔ لیکن نظام کو یکسر بدلنے کے لئے محنت کش طبقے کے تاریخی مفادات کی پاسبان انقلابی پارٹی درکار ہے۔ آج بھی اسی بالشویک طرز کی پارٹی کی ضرورت ہے جس نے فروری1917ء کے انقلاب میں زار شاہی کے خاتمے کے باوجود جدوجہد جاری رکھی اور اکتوبر 1917ء میں سوشلسٹ انقلاب برپا کیا۔

Lal Khan

ڈاکٹر لال خان روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رُکن تھے۔ وہ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے انٹرنیشنل سیکرٹری اور تقریباً چار دہائیوں تک بائیں بازو کی تحریک اور انقلابی سیاست سے وابستہ رہے۔