اداریہ

پیپلز کرونا کمیشن بنایا جائے: حکومت کی بجائے ڈاکٹرز اور ماہرین حکمت عملی بنائیں

اداریہ جدوجہد

دو دن قبل اعلیٰ عدالتی فیصلے کے بعد پاکستان میں کرونا بحران کے حوالے سے ایک مضحکہ خیز صورت حال سامنے آئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت تو روزِ اول سے ہی گومگو کا شکار نظر آئی۔ جس کے نتیجے میں یہ حکومت کئی محاذوں پر ناکام نظر آئی۔

حکومت کی سب سے بڑی ناکامی تو یہ تھی کہ ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی جس کے نتیجے میں چاروں صوبے، حزب اختلاف، سول سوسائٹی اور ماہرین ایک متفقہ حکمت عملی کی طرف بڑھتے۔

دوم، حکومت کی حکمت ِعملی اس قدر تضادات کا شکار تھی کہ ایک شذرے میں اس کا اظہار بھی ممکن نہیں۔ پہلے پہل مذہب اور سازشی نظریات کا سہارا لیا گیا۔ پھر لاک ڈاؤن۔ کبھی علما حضرات کے ہاتھوں بلیک میل ہو کر نیم لاک ڈاؤن کی پالیسی۔ پھر تاجر حضرات کے دباؤ میں لاک ڈاؤن کا عملی خاتمہ۔ اب حالت یہ ہے کہ سکول بند ہیں مگر بازاروں میں تل رکھنے کی جگہ نہیں۔

سوم، ریاست کا ایک کردار اور فریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ شہریوں کی ذہن سازی کرے۔ عملاً حکومت لوگوں کو مسلسل گمراہ کرتی دکھائی دی۔ ویسے بھی جب حکومتی حکمتِ عملی میں اس قدر تضادات ہوں گے تو ریاست ذہن سازی کیسے کر پائے گی۔ اس دانشوارانہ دیوالیہ پن کی بد ترین مثالیں پاکستانی میڈیا پر دکھائی دیں۔ کرونا کے بارے میں دنیا کے بہترین سائنس دان بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی معلومات ابھی ناکافی ہیں، یہ وائرس ایک نیا سائنسی اور طبی چیلنج ہے البتہ پاکستانی میڈیا پر علما حضرات اور ستارہ شناسوں کی مدد سے کرونا پر بیانیہ تشکیل دیا جا رہا تھا۔ رہی سہی کسر سازشی تھیوریاں نکال رہی تھیں۔

اس سارے منظر نامے میں صرف صوبہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت مناسب حد تک موثر نظر آئی مگر افسوس عدالتی فیصلے کے بعدسندھ میں بھی سب مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات: یہ مضحکہ خیزی ایک المیہ بن سکتی ہے۔

اگر معاملات بگڑ گئے تو کوئی حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ کل کلاں پاکستان ایک عالمی اچھوت ریاست بن جائے۔

اس لئے ادارہ ’جدوجہد‘ کا موقف ہے کہ کرونا کے بحران کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ فوری طور پر ایک پیپلز کرونا کمیشن تشکیل دیا جائے۔ اس کمیشن میں ایک جانب تو طبی اور سائنسی ماہرین شامل ہوں جو لاک ڈاون، سماجی فاصلے، عوامی اجتماعات کی نوعیت یا اس طرح کے تکنیکی معاملات میں حکومت کی رہنمائی کریں۔ حکومت اس کمیشن کی تشکیل دی ہوئی حکمت عملی پر عمل درآمد کرے۔ کرونا ایک طبی اور سائنسی چیلنج ہے۔ اسے اس مسئلے سے لاعلم سیاستدانوں، ریاستی ملازمین، ستارہ شناسوں اور مولوی حضرات کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔

دوسری جانب، اس کمیشن میں سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں، ٹریڈ یونینز، سماجی تحریکوں، کسانوں، طلبہ، پروفیشنل انجمنوں وغیرہ کے نمائندے شامل ہوں جو نہ صرف ایک سائنسی اور منطقی بیانیہ تشکیل دیں تا کہ عام شہری با خبر ہوں اور ممکنہ تباہی سے بچا جا سکے بلکہ معاشرے کے کمزور حلقوں کے مسائل بھی پالیسی سازوں اور فیصلہ سازوں کے پیش ِنظر رہیں۔

اندریں حالات، ہم ’جدوجہد‘ کے فورم سے پاکستان بھر کے شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تجارتی میڈیا کے گمراہ کن بیانئے کی بجائے ماہرین ِصحت، ڈاکٹر حضرات اور منطقی سوچ رکھنے والے عناصر کی بات پر توجہ دیں۔ سماجی دوری اور دیگر ہدایات پر عمل درآمد جاری رکھیں۔