خبریں/تبصرے

بیلا روس میں تاریخی مظاہرے: مداخلت کی روسی ’پیشکش‘ کے بعد لاکھوں لوگ سڑکوں پر

لاہور (جدوجہد رپورٹ)’کرسی سے اترو‘کا نعرہ لگاتے ہوئے اتوار کے روز بیلا روس کے دارلحکومت منسک میں کم از کم دو لاکھ افراد نے حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے لال اور سفید رنگ کے وہ جھنڈے اٹھا رکھے تھے جو 1991ء میں اس وقت کے مظاہرین نے اٹھا رکھے تھے جب بیلا روس سویت روس سے علیحدہ ہوا تھا۔

یہ مظاہرہ صدر پوتن کی اس’پیشکش‘کے بعد شروع ہوئے جس میں انہوں نے بیلا روس کے صدر الیگزینڈر لوکاشنکو سے کہا کہ اگر انہیں ضرورت پڑی تو وہ روسی فوج بھیجنے دیں گے۔ دونوں ملکوں کے مابین فوجی معاہدہ موجود ہے۔ بظاہر صدر پوتن کا اشارہ ناٹو مداخلت کے خلاف مدد کی پیشکش تھا مگر بیلا روس کے شہریوں کو معلوم ہے کہ اس ’پیشکش‘ کا کیا مقصد ہے۔ وہ اسے مظاہرین کو دبانے کے لئے فوجی مدد کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

اس ہفتے کے دوران روسی صدر اور بیلا روس کے صدر کے مابین دو دفعہ ملاقات ہو چکی ہے۔ ادہر چیک ریپبلک کے وزیر اعظم آندے بابیس نے ناٹو سے کہا ہے کہ وہ بیلا روس کے شہریوں کی مدد کرے تا کہ ون کے ساتھ وہ نہ ہو جو 1968ء میں چیک شہریوں کے ساتھ ہوا تھا۔

’یورپ کا آخری آمر‘ کہلانے والے بیلا روس کے 65 سالہ صدر الیگزینڈر لوکاشنکو 9 اگست کو اسی فیصد ووٹ لے کر چھٹی مرتبہ صدر منتخب ہو گئے تھے۔ ان کی اہم حریف، 37 سالہ سکول ٹیچر، سوتیلانہ شیخانوسکایا کو 9.9 فیصد ووٹ ملے ہیں۔

حزب اختلاف نے ان نتائج کو مسترد کر دیا اور حکومت پر شدید دھاندلی کا الزام لگایا۔ انتخابات کی شام ہی ہنگامے شروع ہو گئے۔ دو دن جاری رہنے والے ہنگاموں میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔ اسی دوران سوتیلانہ شیخانوسکایا بھی خود ساختہ جلا وطنی میں لیتھوینیا چلی گئیں۔

بیلا روس میں ہونے والے تازہ انتخابات بارے کہا جا رہا تھا کہ الیگزینڈر لوکاشنکوکو سوتیلانہ شیخانوسکایا کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا تھا۔ 1991ء کے بعد سوتیلانہ شیخانوسکایا کے انتخابی جلسوں کی شکل میں بیلا روس کی تاریخ کے سب سے بڑے مظاہرے ہو ئے۔

بریسٹ کے تاریخی شہر میں اگر بیس ہزار لوگ سوتیلانہ شیخانوسکایا کی انتخابی ریلی میں شریک ہوئے تو منسک میں ساٹھ ہزار لوگ ان کے جلسے میں شریک تھے۔ ملک کی کل آبادی ایک کروڑ ہے۔

حکومت نے انتخابی مہم شروع ہونے کے بعد سے ایک ہزار سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا۔ خود سوتیلانہ شیخانوسکایا بھی اسی جبر کے نتیجے میں سیاست اور انتخابی مقابلے کا حصہ بنیں۔ مئی میں ان کے بلاگر شوہر کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ ان کو بھی کئی دھمکیاں مل چکی ہیں۔ انہوں نے اپنے دونوں بچوں کولیتھوینیابھیج دیا تا کہ ان کی زندگی کو نقصان نہ پہنچے۔

سوتیلانہ شیخانوسکایا کا کہنا تھا کہ اگر وہ جیت گئیں تو سارے سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیں گی۔ اس کے علاوہ ان کا وعدہ تھا کہ وہ صدارتی مدت کو محدود کر دیں گی۔