خبریں/تبصرے

قرضوں کی منسوخی کے لئے فاروق طارق کا یو این سول سوسائٹی اجلاس سے خطاب

لاہور (جدوجہد رپورٹ) گذشتہ روز جنرل سیکرٹری پاکستان کسان رابطہ کمیٹی فاروق طارق، جو ’روزنامہ جدوجہد‘ کے ادارتی بورڈ میں بھی شامل ہیں، نے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ہونے والے سول سوسائٹی اجلاس سے خطاب کیا۔

اس اجلاس کا عنوان تھا ”فنانسنگ آف ڈویلپمنٹ ان دی اِرا آف کووڈ 19 اینڈ بیانڈ“۔ اس تقریر کا متن ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

معزز سامعین اقوام متحدہ کے زیر اہتمام سول سوسائٹی کے اس اجلاس میں پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کو دعوت دینے کا شکریہ۔ میں اس اجلاس میں ایک کھلا خط متعارف کرانا چاہتا ہوں جو دنیا بھر کی حکومتوں، اداروں اور قرضہ دینے والوں کو بھیجا گیا ہے۔ یہ خط 80 ممالک سے تعلق رکھنے والی 553 سول سوسائٹی تنظیموں کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔ ان تنظیموں نے اس خط پر قرضوں کی منسوخی کیلئے عالمی سطح پر منائے جانے والے ہفتے کے دوران دستخط کئے تھے۔ یہ ہفتہ گذشتہ ماہ 10 تا 17 اکتوبر منایا گیا تھا۔

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ کرونا وبا نے کروڑوں لوگوں کی صحت، بقا اور زندگی کی حفاظت کے لئے ضروری عناصر پر اثرات مرتب کئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 50 کروڑ افراد اس وبا اور اس سے جڑے معاشی بحران کی وجہ سے غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ کم ترقی یافتہ ممالک سالانہ غیر ملکی قرضوں کی مد میں مختلف قرض داروں، بشمول ورلڈ بینک، کو 300 ارب ڈالر ادا کرتے ہیں۔

آئی ایم ایف اور جی 20 ممالک نے قرضے معاف نہیں کئے بس کچھ ممالک کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ ادائیگی میں تاخیر کر سکتے ہیں۔ قرضہ دینے والے نجی اداروں نے تو یہ سہولت بھی نہیں دی۔ اسی طرح ورلڈ بینک نے قرضے منسوخ نہیں کئے۔

دریں اثنا، ورلڈ بینک اور بعض دیگر حلقوں نے مجموعی طور پر کرونا سے نپٹنے کے لئے 205.5 ارب ڈالر مہیا کرنے کے منصوبے بنا ئے ہیں۔ آئی ایم ایف نے ایمرجنسی قرضوں کی مد میں گذشتہ چھ ماہ میں 88 ارب ڈالر کے قرضے جاری کئے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ گلوبل ساؤتھ سے تعلق رکھنے والے ممالک پہلے سے زیادہ قرضوں کے بوجھ تلے دب جائیں گے۔ ان قرضوں کا بڑا حصہ غیر قانونی ہے اور اسے غیر ذمہ داری کے ساتھ جاری کیا گیا ہے۔

اس لئے ہم صرف قرضوں میں ریلیف نہیں بلکہ قرضوں کے حوالے سے انصاف چاہتے ہیں۔

ہم عالمی رہنماوں، حکومتوں اور نجی و سرکاری مالیاتی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ:

1۔ تمام قرضہ دینے والے دنیا بھر کے ممالک کا قرضہ کم از کم اگلے چار سال کے لئے منسوخ کر دیں۔

2۔ قرضے نہ دینے کی صورت میں جو وسائل دستیاب ہوں، انہیں لوگوں کی صحت، بھلائی اور ضروری خدمات کی فراہمی پر خرچ کیا جائے۔

3۔ بیرونی قرضوں کے قومی آڈٹ کرائے جائیں۔ یہ حکومتیں بھی کریں اور عام شہری بھی۔

4۔ ایک منصفانہ، شفاف اور کثیر الجہتی فریم ورک اقوام متحدہ کی زیر نگرانی تشکیل دیا جائے جو قرضوں کے بحران کو حل کرے۔

5۔ قرضے لینے، دینے اور ان سے جڑی پالیسیوں کا جائزہ لینے کے لئے قومی اور عالمی سطح پر جائزہ لیا جائے۔

6۔ یہ تسلیم کیا جائے کہ انسانی حقوق کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، ان حقوق کو یقینی بنایا جائے اور ریاستیں، نجی ادارے اور عالمی برادری اس بابت اپنے فرائض ادا کریں۔

7۔ غیرملکی قرضے لینے، استعمال کرنے اور ناقابل واپسی و غیر قانونی قرضوں کی ادائیگی اور اس دائیگی کو یقینی بنانے کے لئے لگائی گئی شرائط کی وجہ سے ملکوں، لوگوں اور ماحولیات کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔

ہمارا مطالبہ اور موجودہ بحران کا تقاضا ہے کہ قرضوں کے بحران سے حتمی طور پر نپٹنے کے لئے موجودہ معاشی و مالیاتی نظام میں ٹھوس تبدیلیاں لائی جائیں۔