خبریں/تبصرے

افغانستان: مذاکرات اور دہشتگردی کا متوازن سفر، 13 سول و فوجی اہلکار ہلاک

لاہور (جدوجہد رپورٹ) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بم دھماکے اور ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کئے جانے سے 13 سول اور فوجی اہلکاران ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ واقعات جمعرات کے روز پیش آئے، ایک سڑک کنارے نصب کئے گئے بم کے پھٹنے سے افغان حکومت کے عملے کو لیجانے والی بس میں سوار 4 افراد ہلاک ہو گئے، دوسرے واقعہ میں افغان وزارت اطلاعات کی طرف سے رینٹ پر حاصل کئے گئے ہیلی کاپٹرکو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کے 9 اہلکار ہلاک ہو گئے۔

ابھی تک کسی نے دہشتگردی کی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ افغان حکومت نے طالبان عسکریت پسندوں کو حکومتی ملازمین، سول سوسائٹی اراکین اور صحافیوں کو نشانے بنانے کے حالیہ حملوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ تاہم طالبان نے کسی بھی واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کر دی ہے۔

واضح رہے کہ جمعرات کے روز ہی افغان حکومت، طالبان اور امریکہ، روس سمیت اہم ممالک کے مابین ماسکو میں افغان امن عمل کو آگے بڑھانے اور تشدد میں کمی کیلئے اکٹھے ہو رہے تھے۔ رائٹرز کے مطابق دو ذرائع نے بتایا کہ ہیلی کاپٹرکو صوبہ وردک میں راکٹ لانچر کے ذریعے سے نشانہ بنایا گیا۔ ہیلی کاپٹر ایک سپلائی مشن پر تھا جس میں زخمی فوجی اہلکاران کو منتقل کیا جا رہا تھا۔