اداریہ

پی ٹی آئی حکومت کا جمہوریت پر نیا حملہ

اداریہ جدوجہد

یہ تفصیلات بتانے کی ضرورت نہیں کہ ایک تازہ بل کے مطابق ا فواج پاکستان کی مبینہ توہین پر دو سال کی قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم سنایا گیا ہے۔

مین اسٹریم میڈیا میں تو حسب توقع اس موضوع کو زیر بحث ہی نہیں لایا جا رہا مگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس نئے قانون کا بھرپور تمسخر اڑا کر اس کی مخالفت کی گئی ہے۔

یہ قانون اس قدر متنازعہ ہے کہ فواد چوہدری، جو بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ جہلم چکوال والوں کا فوج سے تو تعلق ہوتا ہی ہے، وہ بھی اس قانون کی مخالفت کئے بغیر نہ رہ سکے۔

اس قانون کا مستقبل کیا ہو گا، اس بارے ابھی سے کچھ کہنا ممکن نہیں۔ ممکن ہے عوامی دباؤ اور اس حقیقت کے پیش نظر کہ مسلم لیگ نواز کھل کر فوج مخالف بیانیہ اپنائے ہوئے ہے، اس بل پر مزید پیش رفت نہ ہو اور خفگی سے بچنے کے لئے، کوئی تکنیکی سہارا لے کر، اس بل سے جان چھڑا لی جائے۔ ویسے بھی وزیر اعظم کو یوٹرن لینے میں کبھی کوئی عار محسوس نہیں ہوا۔ ہر دو صورتوں میں یہ بل پاکستان تحریک انصاف حکومت کی جمہوریت دشمنی کی ایک یادگار بن کر اس جماعت کا پیچھا کرے گا۔

عمران خان اور پی ٹی آئی کی مصیبت یہ ہے کہ ان کا جمہوریت کی جانب فاشسٹ رویہ ہے۔ لبرل رویہ نہیں۔ فسطائیت اور مذہبی بنیاد پرستی کی طرح انہیں جمہوریت سے اسی وقت تک دلچسپی ہے جب تک ان کو برتری حاصل رہے۔ اسی فسطائی روئیے کا ایک اظہار یہ ہوتا ہے کہ جمہوریت میں بھی ایلیٹ ازم برقرا رکھنے کی بات کی جاتی ہے، کبھی میرٹ کے نام پر، کبھی ٹیکنوکریسی اور پروفیشنل ازم کے نام پر۔

ابھی چند دن پہلے وزیر اعظم قوم کو بتا رہے تھے کہ جمہوریت میں کام کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ انہوں نے فرانس اور ایران کے’خونی انقلابات‘ (موصوف کو دونوں کی تاریخ سرے سے معلوم نہیں) کی بات کی۔ قبل ازیں، وہ جنرل ایوب کے ترقیاتی ماڈل کی بار بار تعریف کرتے رہے ہیں۔

اس سے بھی اہم یہ مادی حقیقت ہے کہ وہ فوج کے کندھوں پر بیٹھ کر اقتدار تک پہنچے۔ وہ موجودہ ہائبرڈ نظام کا چہرہ ہیں۔ ایسے میں اس حکومت سے کسی جمہوریت دوستی یا عوام دوستی کی توقع ہی عبث ہے مگر مصیبت یہ ہے کہ ملک میں رہی سہی آزادیوں کا بھی گلا گھونٹا جا رہا ہے۔

تازہ بل اس کی حالیہ مثال ہے۔ اس سے قبل میڈیا کا گلا گھونٹا گیا ہے۔ ٹریڈ یونینز پر نئی قدغنیں لاگو ہوئی ہیں۔ سماجی تحریکوں پر جبر کے نئے پہاڑ توڑے گئے۔ سول سوسائٹی کو ہر ممکن طریقے سے کمزور بنایا گیا۔ اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جمہوری قوتیں اس کی ہر ممکن مخالفت کریں گی۔

امید کی جاتی ہے کہ اپنے تازہ منصوبے میں یہ حکومت کامیاب نہیں ہو گی۔ عوامی دباؤ اور اس حکومت کی بے مثال عدم مقبولیت اسے یہ بل واپس لینے پر مجبور کر دے گی۔

’روزنامہ جدوجہد‘ اس بل سے شدید اختلاف رکھتا ہے۔ ہماری رائے میں اس بل سے ملک میں جمہوری آزادیاں سلب کرنا مزید آسان ہو جائے گا۔ مزید براں، بلاسفیمی قانون کی طرح یہ بل نہ صرف ذاتی جھگڑے نپٹانے بلکہ سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال ہو گا۔

اس بل کی شکل میں اکیڈیمک آزادیوں پر بھی حملہ کیا جا سکے گا۔ اسی طرح کشمیرمیں آزادی پسندحلقے یاپشتون اور بلوچ حقوق کے لئے کام کرنے والے گروہ بھی اس کا با آسانی نشانہ بنائے جا سکیں گے کیونکہ کسی بھی بیان، عمل یا نعرے کو توہین قرار دیا جا سکے گا۔

اس ریاست کے حکمران طبقے کو آج تک یہ بات سمجھ نہیں آ سکی کہ طاقت تب تک زیادہ کارگر ہوتی ہے جب تک وہ دھمکی (تھریٹ) کی شکل میں موجود ہو۔ جب طاقت استعمال ہو نے لگے تو مزاحمت سامنے آنے لگتی ہے۔ دوم، محض طاقت کے بل بوتے پر حکومت نہیں ہوتی۔ اصل طاقتور طبقہ وہ ہوتا ہے جو طاقت تو رکھتا ہو مگر طاقت سے زیادہ اس ’اخلاقی جواز‘کی بنیاد پر حکمران ہو کہ وہ جائز طور پر اقتدار میں ہے۔

آخر میں ہم اپنا یہ موقف بھی دہرانا چاہتے ہیں کہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں رہتے ہوئے پاکستان اندر جمہوری آزادیاں، سیکولرزم، قومی سوال کا حل، خواتین اور مزدور حقوق کا حصول سراب ہی بنے رہیں گے۔ ایک حقیقی جمہوری سوشلسٹ پاکستان کا قیام ہی ملک میں جمہوری آزادیوں کی اصل ضمانت فراہم کرے گا۔

ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوریت انسانی ترقی اور وقار کی ضمانت ہے۔ سوشلزم جمہوریت کی ضمانت ہے۔ آئیے مل کر سوشلزم کی جدوجہد کو تیز کریں۔ آئیے نہ صرف اس حکومت بلکہ اس نظام سے نجات کی جدوجہد تعمیر کریں۔ اقتدار کا اخلاقی جواز صرف محنت کش طبقے کے پاس ہے۔ یہ جواز البتہ جمہوری طاقت حاصل کئے بغیر ممکن نہ ہو گا۔