سماجی مسائل

’دی نیوز‘ میں اداکارہ میرا کی انگریزی کا مذاق اڑانا ایلیٹ ازم کا شرمناک مظاہرہ ہے

فاروق سلہریا

گذشتہ روز جنگ گروپ سے تعلق رکھنے والے معروف انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ میں ایک خبر شائع ہوئی۔ خبر کی سرخی تھی: ’اپنی انگریزی کی وجہ سے میرا مینٹل ہسپتال میں داخل‘۔

اس بے سرو پا خبر میں بتایا گیا ہے کہ میرا امریکہ کے ایک ذہنی امراض کے ہسپتال میں داخل تھیں اور قیاس کیا گیا ہے کہ شائد وہ کسی اور بیماری کا علاج کروانا چاہتی تھیں مگر اپنی غلط انگریزی کی وجہ سے ڈاکٹروں اور ہسپتال کے عملے کو بات سمجھا نہیں پائیں، اس لئے ذہنی امراض کے وارڈ میں داخل ہو گئیں۔

کیا واقعی ایسا ہوا اور اس کا کوئی ثبوت ’دی نیوز‘ کے پاس ہے؟ جی نہیں۔ ساری خبر قیاس کی بنیاد پر بنائی گئی ہے۔

پہلی بات تو یہ کہ ایک بے بنیاد ’خبر‘ جس کا کوئی ثبوت موجود نہ ہو، شائع کرنا پراپیگنڈے کے زمرے میں بھی نہیں آتا۔ ایسی خبر کے لئے مناسب اصطلاح جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں۔

دوم، پاکستان کے سیاق و سباق میں کسی کی انگریزی (یا اردو) کا مذاق اڑانا شرمناک طبقاتی تعصب کے سوا کچھ نہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ اکثر ٹیلی ویژن پروگراموں میں اداکارہ میرا کی انگریزی کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ یہ حرکت اب انگریزی پریس میں بھی دیکھنے میں آئی ہے جو عموماً زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس لئے اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس سے صحافت کا معیار مزید گرا ہے۔

اداکارہ میرا کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔ وہ اپنی صلاحیت کی بنیاد پر ایک کامیاب اداکارہ بنیں۔ شوبز کا ماحول ایسا ہے کہ ایک کامیاب شو بز سٹار کا مقابلہ بھارتی اداکاروں سے کیا جاتا ہے…چونکہ بھارتی اداکار عمومی طور پر اچھی انگریزی بولتے دکھائی دیتے ہیں تو پاکستان کے کامیاب شوبز اداکاروں سے بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ بھی اچھی انگریزی بولیں۔ شائد اسی دباو کا نتیجہ ہے کہ اداکارہ میرا بھی انگریزی بولنے کی کوشش کرتی ہیں۔ انہوں نے شائد انگریزی سیکھنے کی کوشش بھی کی۔ انہیں ان کی اس کوشش پر شاباش دینی چاہئے۔ ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ انکی غربت نے انہیں جس حق (تعلیم) سے بچپن میں محروم رکھا، وہ اب اس’کمی‘ کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں…مگر اربن مڈل کلاس کو یہ سب برداشت نہیں۔ اس لئے بے شرم ہو کر میرا کی انگریزی کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔

یہ کہ میرا ایک خاتون ہیں چنانچہ اس سارے پہلو کا ایک صنفی پہلو بھی ہے۔ یہ صورت حال اور بھی خوفناک اور افسوسناک ہو جاتی ہے جب میڈیا ایسی تعصبات کو پروان چڑھاتا ہے۔ اس خبر پر ’دی نیوز‘ کو معافی مانگنی چاہئے۔ پاکستان بھر کے شہریوں کو اس خبر پر احتجاج کرنا چاہئے۔

انگریزی ہو یا اردو، طبقہ ہو یا ذات، جینڈر ہو یا مذہب…کسی بھی بنیاد پر کسی کا مذاق اڑانا ایک شرمناک طبقاتی، نسل پرستانہ اور انسانیت دشمن رویہ ہے۔ ایسے تعصبات خاتمہ سوشلسٹ سوچ کے ساتھ ہی کیا جا سکتا ہے کیونکہ سوشلزم کا ایک مطلب ہے تعصبات خاتمہ۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔