خبریں/تبصرے

خان صاحب آپ صحافیوں کے ساتھ ہیں یا آزادی اظہار کا قتل کرنیوالوں کے؟

لاہور (جدوجہد رپورٹ) حال ہی میں پابندی کا شکار ہونے والے پاکستان کے معروف صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ ماضی میں ان کے ساتھ آزادی اظہار رائے کی جنگ لڑنے والے عمران خان جب وزیراعظم بنے تو ان کے دور میں پاکستان آزادی اظہار رائے کی بدترین صورتحال سے دو چار ہو چکا ہے۔ عمران حکومت ایک ایسا آرڈیننس لانے جا رہی ہے جس کے بعد پاکستان کی حالت میانمار سے بھی بدتر ہو جائیگی۔

حامد میر نے برطانوی نشریاتی ادارے دی گارڈین میں لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں کہا کہ ”ایک زمانے میں عمران خان اور میں ایک ساتھ پاکستان میں آزادی صحافت کی جنگ لڑتے تھے۔ نومبر 2007ء میں جب اس وقت کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کر دی اور مجھ پر پابندی عائد کی گئی تو عمران خان ان چند سیاستدانوں میں شامل تھے جو میرے ساتھ تھے…عمران خان نے وعدہ کیا کہ جب میں وزیراعظم بنوں گا، صحافیوں کو پریس کی حقیقی آزادی حاصل ہو گی۔“

حامد میر نے لکھا کہ انہیں ایک بار پھر چینل سے دور کر دیا گیا ہے لیکن اس بار عمران خان وزیراعظم ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ ”میں نے اپنی تقریر میں کسی فرد یا تنظیم کا نام نہیں لیا۔ یہ آج پاکستان کا المیہ ہے کہ ملک نامعلوم افراد چلا رہے ہیں، سب جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں لیکن کوئی ان کی شناخت کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔“

انہوں نے گزشتہ ادوار میں خود پر اور دیگر صحافیوں پر ہونے والے حملوں کا تذکرہ کرتے ہوئے تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور ملزمان کی عدم گرفتاری کا بھی تذکرہ کیا۔

حامد میر نے اپنے مضمون میں حملوں اور اغوا کا شکار ہونے والے صحافیوں کو انصاف فراہم کرنے کی بجائے ان کے خلاف چلائی جانے والی مہم کا بھی تفصیل سے تذکرہ کیا۔ اس کے علاوہ حکومت اور طاقتور حلقوں پر تنقید کرنے والے صحافیوں کے خلاف مختلف افراد کی جانب سے مقدمات قائم کئے جانے کی روش کا بھی تذکرہ کیا۔

انہوں نے لکھا کہ ”گزشتہ ایک سال کے دوران صحافیوں کے خلاف دھمکیوں اور حملوں کے 148 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ بھاری سنسرشپ ہے، اچھے پروگرامات اور آوازیں چینلوں کی سکرینوں سے پراسرار طور پر غائب ہو رہے ہیں۔ شیطانی اور مربوط سائبر ہراسمنٹ کی مہم چلائی جا رہی ہے۔“

حامد میر نے لکھا کہ ”جب عمران خان برسراقتدار آئے تھے تب ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان کا نمبر 139 واں تھا، اب یہ 145 ویں نمبر پر ہے۔“