خبریں/تبصرے

انسانی حقوق کمیٹی کی سربراہی حکومت کو دینے پر مشاہد حسین کیخلاف پارٹی میں غم و غصہ

لاہور (جدوجہد رپورٹ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی سربراہی حکومت کو دیکر قائمہ کمیٹی برائے دفاع کی سربراہی حاصل کرنے پر مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد حسین کے خلاف پارٹی کے سینئر رہنماؤں کی تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دعویٰ کیا کہ مشاہد حسین سید نے یہ فیصلہ قیادت کو اندھیرے میں رکھ کر کیا۔ انکا کہنا تھا کہ ”یہ کسی کی مرضی سے نہیں ہوا، انہوں نے غلط کیا اور انہیں اس کا جواب دینا پڑے گا۔“

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ”انکا کوئی حق نہیں ہے، جب آپ کو پارٹی چیئرمین شپ دیتی ہے تو آپ اسے تبدیل کر دیں۔ سینیٹ میں کچھ قائمہ کمیٹیاں اپوزیشن کو ملی تھیں، ایک کمیٹی کی سربراہی مشاہد حسین کو دی گئی، انکو کوئی حق نہیں کہ وہ بغیر مشاورت کے چیئرمین شپ تبدیل کر دیں۔ ہاؤس ان آرڈر نہیں ہیں لیکن یہ سب ایک آدمی نے کیا اور غلط کیا ہے۔“

قبل ازیں مسلم لیگ نواز کے سابق سینیٹر پرویز رشید نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ”انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہمارے ہاں روز کا معمول ہیں، اس کی سینیٹ کمیٹی نشانہ بننے والوں کو تحفظ اور انصاف مہیا کرانے کا ایک ذریعہ ہے۔ افسوس ہے کہ مشاہد حسین سید نے اس کی سربراہی حکومت کو دے کر دفاع کی کمیٹی حاصل کر لی، اب متاثرین کی آہوں کے مجرم ہم بھی ہوں گے۔“