دنیا

افغان کرکٹرز کا طالبان کے سامنے انکار

یاسمین افغان

افغانستان ایک ایسا ملک ہے جو مصائب، ظلم اور غیر یقینی مستقبل میں گھرا ہوا خوشی اور فخر کے لمحات سے گزر رہا ہے۔ مردوں کی قومی کرکٹ ٹیم کا شکریہ (تمام خواتین کرکٹرز فرار ہو گئی ہیں)۔

افغانستان میں کرکٹ دوسرے جنوبی ایشیائی ممالک کی طرح یونیورسلی مقبول ہے۔ افغانستان جاری ٹی ٹونٹی کرکٹ ورلڈ کپ میں شرکت کر رہا ہے اور اس نے 25 اکتوبر کو اپنے افتتاحی میچ میں پہلی فتح بھی سمیٹی ہے۔

یہ لمحہ واقعی افغانوں کے لیے جذباتی تھا۔ 15 اگست کو طالبان کے قبضے کے بعد بین الاقوامی پلیٹ فارم پر افغانوں کا قومی پرچم لہرا رہا تھا جبکہ میچ سے قبل افغان قومی ترانہ بجایا گیا۔ طالبان نے ملک کے اندر پرچم اور ترانہ دونوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

افغان الیون بالخصوص کپتان محمد نبی اپنے آنسو نہ روک سکے کیونکہ میچ سے قبل قومی ترانہ گایا گیا، انکی ایک تصویر وائرل ہو گئی۔ سٹیڈیم میں موجود افغان تماشائی سب افغان پرچم لہرا رہے تھے۔ کچھ نے سہ رنگے پرچم کی ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں، کچھ نے اپنے چہرے تین رنگوں میں پینٹ کرتے ہوئے افغان پرچم کی تصویر کشی کر رکھی تھی۔ اب یہ محض کرکٹ میچ نہیں تھا بلکہ یہ کھیل بطور مزاحمت تھا۔

سکاٹ لینڈ کے خلاف فتح کے بعد ٹوئٹر اور فیس بک پر جشن منانے والے پیغامات پوسٹ کئے گئے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم محمد نبی کی تصاویر سے بھر گیا۔

مین آف دی میچ بننے پر مجیب الرحمان نے سہ رنگا افغان پرچم لانے پر افغان شائقین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سہ رنگا پرچم پوری افغان ٹیم کو مثبت توانائی کے منبع کے طور پر متاثر کرتا ہے۔

شفیع اٹل نے فیس بک اسٹیٹس میں لکھا کہ ”شاباش مجیب! اپنے لوگوں کو سہ رنگی پرچم لانے اور احمقوں کے اسیر ملک میں اس کا اظہار کرنے کی ترغیب دینے کے لیے ہمت کی ضرورت ہے۔ وہ جاہل جنہوں نے آپ کے جھنڈے پر گولی چلائی اور اس کی بے عزتی کی، اب وہ جان لیں گے کہ ان لوگوں کو 90ء کی دہائی کی طرح بے پرچم بنانا آسان نہیں۔“ (1990ء کی دہائی میں طالبان نے بھی افغان پرچم پر پابندی لگا دی تھی اور اپنا جھنڈا لگایاتھا)۔

ایک اور سوشل میڈیا صارف یونس نگاہ نے اپنے فیس بک پر لکھا کہ ”کرکٹ کے میدان پر جھنڈا، ترانہ اور خوشی ایک غیر طالبان چیز تھی جس نے قوم اور طالبان کے درمیان گہری خلیج کو ظاہر کیا۔ طالبان عوام کے ساتھ نہیں ہیں۔ وہ عوام کی طرح ایک پیج پر نہیں ہیں۔ وہ خوشی، میدان، پرچم، ترانے کا حصہ نہیں ہیں۔ طالبان ہمارے عوام کی خوشیوں کا حصہ نہیں بن سکتے۔ جہاں بھی ہمارے لوگ ہنستے ہیں، طالبان غمگین ہیں اور جہاں عوام غمگین ہیں، وہ فتح کا احساس کرتے ہیں۔“

اٹل اور نگاہ دراصل طالبان کے رد عمل کا حوالہ دے رہے تھے۔ افغان پرچم اور ترانے کی نمائش سے طالبان کی حکومت کو اشتعال دلایا گیا تھا۔

وائرل ویڈیو کلپ اور قومی ترانے کے اختتام پر روتے ہوئے کپتان کی تصویر یا مجیب الرحمان جھنڈے لہرانے پر افغانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے طالبان کے زخموں پر مزید نمک پاشی کر رہے ہیں۔

میچ کے ایک دن بعد طالبان کے ایک کمانڈر جنرل مبین نے افغان ٹیم کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر افغان پرچم کے احترام اور جذبات کا مظاہرہ کرنے پر دھمکیاں دیں۔

انہوں نے کہاکہ ”وہ (افغان کرکٹرز) ہر جگہ سہ رنگے پرچم کی بات کرتے ہیں۔ ہم (طالبان) انہیں دوبارہ کرکٹ کے میدان میں جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جب وہ کابل ہوائی اڈے پر واپس آئیں گے تو میں وہاں کھڑا ہوں گا کہ وہ کون سا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں۔ میں ایئر پورٹ پر ان کی محبت کا امتحان لوں گا۔ میں وہاں سفید جھنڈا (طالبان کا جھنڈا) لے کر کھڑا ہوں گا اور ہر کھلاڑی کو جھنڈے کو چومنا پڑے گا۔ بصورت دیگر وہ جہاز سے باہر نہیں آسکیں گے۔“

پورے ملک میں افغان اپنی ٹی وی اسکرینوں یا موبائل فونز سے چپکے ہوئے تھے اور جوش و خروش سے میچ دیکھ رہے تھے۔

کابل کے ایک رہائشی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مجھے بتایاکہ ”کرکٹ ٹیم نے ہمارا کھویا ہوا فخر واپس لایا۔ میں نے نہ صرف اس لیے آنسو بہائے کہ انہوں نے میچ جیتا بلکہ اس لیے بھی کہ میں نے اپنے ملک میں دو ماہ کی پابندی کے بعد ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اپنا جھنڈا دیکھا۔“

جلال آباد کے رہائشی واحد اللہ (فرضی نام) نے بتایا کہ ”ہمارے لیے جیتنا اہم نہیں ہے بلکہ اہم یہ ہے کہ ہم اپنے جھنڈے اور قومی ترانے کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں، جشن منانے کے لیے یہی کافی ہے۔

اس کے چچا، جو 50 کے اوائل میں ہیں، کا کہنا تھا کہ ”ہماری ٹیم پہلے ہی چمپئن ہے۔ ہمارے لیے وہ پہلے ہی کپ جیت چکے ہیں۔ افغانستان کے اندر بہت سی رکاوٹوں اور تباہی کے باوجود انہوں نے اپنا سر اونچا رکھا اور اپنے ملک کے لیے کھیلا۔ ہم نے ایک طویل عرصے کے بعد خوشی کے آنسو بہائے۔“

محض کرکٹ ہی نہیں ہر طرح کا کھیل گزشتہ 20 سالوں میں متحد کرنے والا عنصر تھا۔ افغان کرکٹ ٹیم بین الاقوامی منظر نامے پر دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کے لیے ایک سرپرائز بن کر ابھری۔ راشد خان جیسے افغان کرکٹرز کو دنیا کے بہترین کرکٹر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ افغان کرکٹ ٹیم جب بھی فتح حاصل کرتی افغان دیوانہ وار جشن مناتے تھے۔ غیر ملکی میچوں سے واپسی پر اپنے ہیروز کے استقبال کے لیے ہزاروں لوگ کابل ہوائی اڈے پر جمع ہوتے تھے۔

جاری ورلڈ کپ میں افغانستان نے 29 اکتوبر کو پاکستان کے خلاف میچ کھیلا۔ بہت سے افغان طالبان کے قبضے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتے ہیں۔ پاکستان طالبان کی حمایت کرتا رہا ہے۔ اس لیے افغان ٹیم پر پاکستان کے خلاف جیت کے لیے شدید دباؤ تھا۔ مؤخر الذکر بلاشبہ بہترین فریقوں میں سے ایک ہے اور ماضی میں ورلڈ کپ جیت چکا ہے۔

وحید پائیکان نے اس پر امن میچ سے قبل اپنے فیس بک پر لکھا کہ ”کل افغانستان عرب سرزمین پر پاکستان سے لڑے گا۔ پاکستانی کھلاڑی افغانستان میں اپنی حکومت کی سیاسی فتح کے نشے میں مست ہیں اور افغانستان کے کھلاڑی اپنے ملک میں ہونے والی حالیہ پیش رفت سے مایوس ہیں۔ محمد نبی کے آنسو اس اذیت ناک تکلیف کو ظاہر کر رہے تھے۔ طالبان کے علاوہ پوری قوم اس ٹیم کی حمایت کر رہی ہے اور اسے جوش و خروش سے دیکھے گی۔“

اگرچہ افغانستان ایک پرجوش مقابلے کے بعد میچ ہار گیا لیکن ٹیم کی حمایت میں کمی نہیں آئی۔ حبیب (فرضی نام) نے بتایاکہ ”ہاں ہم چاہتے تھے کہ ہماری ٹیم پاکستانی ٹیم کو ہرائے۔ لیکن ہمیں اپنے لڑکوں پر فخر ہے۔ بے پناہ دباؤ اور ذہنی تناؤ کے باوجود وہ اب بھی کھیل رہے ہیں۔“

مزار شریف کی رہائشی مژدہ (فرضی نام) نے بتایاکہ ”طالبان ہر اس چیز کے خلاف ہیں جس سے ہمیں خوشی ملتی ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ T20 میچز کون جیتے، ہماری ٹیم ہمارے لیے فاتح ہے۔“

بالائی سطروں میں تحریر کی گئی یونس نگاہ پوسٹ انہوں نے یہ کہتے ہوئے ختم کی کہ ”جدوجہد ختم نہیں ہوئی۔ کرکٹ کی جیت کھیل اور ثقافت کے میدان میں طالبان کی شکست تھی۔ یہ امارت پر جمہوریہ کی فتح تھی۔ یقینی فتح اور جمہوریت کے قیام تک ڈٹ کر مزاحمت کریں گے۔“

نوٹ: کابل ڈائری بیک وقت تین زبانوں میں روزنامہ جدوجہد (اردو)، ٹِڈننگن گلوبل (سویڈش) اور گرین لیفٹ (انگریزی) میں شائع ہوتی ہے۔

’یاسمین افغان‘ صحافی ہیں۔ وہ ماضی میں مختلف افغان نیوز چینلوں کے علاوہ بی بی سی کے لئے بھی کام کر چکی ہیں۔ سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ان کا قلمی نام استعمال کیا جا رہا ہے۔