دنیا

طالبان قبضے کے 3 ماہ: لامحدود بربریت

یاسمین افغان

16 نومبر کو کابل پر طالبان کے قبضے کو ٹھیک 3 ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔ یہ صرف کابل کا سقوط نہیں ہے بلکہ ایک ملک کا اسکی 20 سال کی تمام کامیابیوں کے ساتھ سقوط ہے۔ امریکی قبضے اور طالبان کی شورش کے باوجود افغانستان آگے بڑھ رہا تھا اور ترقی کر رہا تھا۔ افغانستان سے باہر والوں کے لیے اس کا مطلب یہ تھا کہ 20 سال ضائع ہو گئے، لیکن افغانوں کے لیے ایسا لگتا ہے کہ ایک ایسے ملک میں کچھ خاص پیش رفت ہوئی ہے جو طالبان کے مسلسل حملوں کی زد میں تھا۔

افغانستان بھر کے سکولوں میں لاکھوں لڑکیوں نے داخلہ لیا، ہزاروں لڑکیاں سرکاری یا پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ خواتین فیصلہ سازی کے عہدوں پر تھیں، وہ فوج اور پولیس فورس کا حصہ تھیں۔ افغانستان میں سینکڑوں خواتین وکلا اور جج تھیں۔ خواتین زندگی کے تمام شعبوں میں نظر آتی تھیں اور سول سوسائٹی اور حقوق کے گروپ خواتین کی معاشرے میں بہتر نمائندگی کی وکالت کر رہے تھے۔ یہ سب امریکی قبضے کے مرہون منت نہیں تھا۔ اس کی بجائے مزاحمت کار افغان خواتین نے حالات کے میسر کردہ موقع سے فائدہ اٹھایا۔

اسی طرح مجموعی طور پر عام لوگوں کی زندگی نے ترقی کی۔ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری پروان چڑھ رہی تھی اور مقامی ٹیلی ویژن چینلوں نے اپنے ڈرامے اور مواد تیار کرنا شروع کر دیا تھا۔ ماڈلنگ انڈسٹری روایتی آبادی کے درمیان ایک جگہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ کھیل ایک اور شعبہ تھا جس نے گزشتہ 20 سالوں میں زبردست ترقی کی۔ افغانستان کے پاس مردوں کی ٹیموں کے علاوہ خواتین کی فٹ بال اور کرکٹ ٹیم بھی تھی۔

15 اگست 2021ء کو سب کچھ ہوا میں غائب ہو گیا۔ افغانستان کے دل کی دھڑکنیں ہر محاذ پر بند ہونے لگیں۔ اس کی عورتیں ایک بار پھر حقوق سے محروم اور قید ہو گئیں۔ افغان اپنے بنیادی حقوق کھو چکے ہیں اور ایک بہتر کل کی امیدیں بھی کھو چکے ہیں۔

مزار شریف کی ایک ٹیچر خالدہ (فرضی نام) نے مجھے بتایاکہ ”کوئی بھی افغان عوام کی بے بسی کو محسوس نہیں کر سکے گا۔ ہم ایک بار پھر طالبان کے لیے چوپایوں کی مانند ہو گئے ہیں۔ انہوں نے ہمیں معمولی بہانوں سے بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔“

طالبان کے سابقہ دور حکومت میں سرعام مار پیٹ، اعضا کاٹنا اور پھانسی دینا ایک عام سی بات تھی۔ ان میں سے زیادہ تر سخت قوانین واپس آ چکے ہیں۔ طالبان نے خوف پھیلا کر افغانوں کو کنٹرول کیا اور انہوں نے ایک بار پھر اس طریقے کو متعارف کرایا ہے۔

خالدہ کے بھائی نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ”لوگ بھوک کے ساتھ تو زندگی گزار سکتے ہیں لیکن ہر ایک قدم پر ذلیل ہو کر نہیں۔“

60ء کی دہائی کے اواخر میں زندگی گزارنے والے حاجی ابراہیم کابل کے قصبہ علاقے کے رہنے والے ہیں، انکا کہنا تھا کہ ”میں نے کابل کے سقوط کے بعد سے اپنی داڑھی نہیں منڈوائی ہے۔ میں اپنی داڑھی کے لیے تشدد کا شکار اور ذلیل نہیں ہونا چاہتا۔ میں نے اپنے بیٹوں کو بھی داڑھی بڑھانے کو کہا ہے۔ غنڈوں کے ٹولے کے ہاتھوں ذلیل کیوں ہوں؟“

سوشل میڈیا پر گمشدگیوں، پھانسیوں، تشدد اور قید کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ طالبان نہ صرف سابق فوجی اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ کھلاڑیوں، انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے ارکان، سابق سرکاری ملازمین، ہر وہ شخص جسے خطرہ سمجھا جاتا ہے اور اس طرح بحیثیت مجموعی پوری قوم اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے۔ طالبان سب کے لیے امن اور سلامتی کی بات کر رہے ہیں لیکن اس کے برعکس جب سے وہ طاقت کے ذریعے اقتدار میں واپس آئے ہیں، سکیورٹی کی صورت حال خراب سے خراب ہو رہی ہے۔ ہزارہ برادری پر روزانہ کی بنیاد پر حملے ہوتے ہیں۔ ہزارہ لوگوں کو ان کے گاؤں سے نکالے جانے کی خبریں گردش کرتی رہتی ہیں۔ خواتین کارکنوں پر حملہ کر کے قتل کیا گیا ہے۔ حال ہی میں مزار پر سول سوسائٹی کی 4 خواتین کارکنان کو قتل کیا گیا۔ ایسی قتل و غارت گری کی فہرست بڑھتی جا رہی ہے۔ مقامی میڈیا ڈر کے مارے اس کی رپورٹ نہیں کرتا۔ کونار اور ننگرہار صوبوں میں روزانہ ہلاکتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مردوں کو آدھی رات کو گھروں سے نکال کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر یا تو ان کی لاشیں درخت سے لٹکی ہوئی ملتی ہیں یا پھر ان کا سر قلم کر دیا جاتا ہے۔

جلال آباد کے رہائشی 25 سالہ واحد (فرضی نام) نے بتایا کہ ”جبری گمشدگیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہم روزانہ 3 یا اس سے زائد قتل کے واقعات کی خبریں سنتے ہیں اور یہ کہ مرد وں کو درختوں سے لٹکایا گیا ہے۔ زندگی جہنم بن گئی ہے۔ ہم مسلسل خوف میں رہتے ہیں۔“

جلال آباد کے ایک اور رہائشی ہاشم نے مجھے بتایاکہ ”یہ صرف جلال آباد ہی نہیں، پورے ملک میں پھانسیوں کے واقعات ہو رہے ہیں، لیکن ان واقعات کو مین اسٹریم میڈیا پر نشر نہیں کیا جاتا کیونکہ ٹیلی ویژن چینل طالبان کی طرف سے جوابی کارروائی سے خوفزدہ ہیں۔ صورتحال سنگین ہے اور لوگوں میں خوف بڑھ رہا ہے۔“

سول سوسائٹی کی ایک کارکن نے اپنا نام اور مقام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ”میں اپنی حفاظت کے لیے خوفزدہ ہوں۔ میں مزار پر 4 سول سوسائٹی کارکنوں کے قتل کے بارے میں پڑھ کر بہت خوفزدہ ہوں۔ ہر آنے والی کال پر یہ سوچ کر دل ڈوب جاتا ہے کہ میری باری آ گئی ہے۔ کیا یہی امن اور سلامتی سب کے لیے ہے؟ طالبان عوام سے کہہ رہے ہیں کہ وہ ملک نہ چھوڑیں، لوگ کیوں نہ جائیں، ہم کیوں رہیں؟ ان کے ہاتھوں مارے جائیں اور گڑھے میں پھینک دیئے جائیں؟“

افغانستان بھر میں مارکیٹیں اور بازار کھلنے لگے تھے، کابل، مزار، قندوز اور ہرات جیسے شہروں میں خواتین آسانی سے جا کر خریداری کر سکتی تھیں لیکن اب وہ اپنے گھروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔

قندوز شہر سے تعلق رکھنے والی ہادیہ (فرضی نام) نے مجھے بتایاکہ ”طالبان کے قبضے کے بعد سے میں بازار نہیں جا پا رہی ہوں۔ خواتین گھر سے نکلنے سے خوفزدہ ہیں۔ میرے پاس کبھی کوئی کام نہیں تھا کیونکہ میں ایک گھریلو خاتون ہوں، لیکن میں اپنے خاندان کے لیے تمام شاپنگ کرتی تھی اور اب میں یہ بھی نہیں کر سکتی۔“

سخت گیر لوگوں کے ہاتھوں کابل کے سقوط کے بعد سے زیادہ تر چینلوں میں خواتین پریزینٹر نہیں ہیں، کچھ جو موجود ہیں وہ نئی پریزنٹر ہیں اور وہ مکمل پردے میں ہیں۔ آپ انہیں شاید ہی چمکدار رنگوں میں یا ماضی قریب کے روایتی لباس پہنتے دیکھ سکیں۔ میوزک چینلوں پر پابندی ہے اور ریڈیو چینلوں پر بھی کوئی میوزک نشر نہیں ہوتا ہے، تفریحی صنعت ٹھپ ہے۔ مختلف ٹیلی ویژن چینلوں پر یا تو اسلامی پروگرام ہوتے ہیں یا خبریں ہوتی ہیں۔ اس وقت جو ڈرامے آن ائیر ہیں وہ سب اسلامی ہیں۔

کابل کی ایک اور رہائشی شازیہ نے اپنا مقام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر مجھے بتایاکہ ”میرے خیال میں موسیقی دیکھنا اور سننا کسی بھی انسان کے بنیادی حقوق میں سے ایک ہے، لیکن طالبان کے تحت ہمیں یہ حق حاصل نہیں ہے۔“

شازیہ کی والدہ گل بی بی ناخواندہ ہیں اور اپنی زندگی اپنے بچوں کی پرورش اور اب اپنے پوتے پوتیوں کی دیکھ بھال میں گزار رہی ہیں، انکا کہنا تھا کہ ”طالبان خوشی سے خوفزدہ ہیں، اس لیے انہوں نے ہر وہ چیز روک دی جو خوشی کا ذریعہ تھی۔ میرا دن کا پسندیدہ وقت ڈرامہ دیکھنا اور اپنی سبز چائے پینا ہوتا تھا لیکن اب سمجھ نہیں آتی کہ وقت کیسے گزاروں۔“

کابل کے ایک رہائشی ہمایوں (فرضی نام) نے بتایا کہ ”افغان تاریک دور میں جی رہے ہیں کیونکہ طالبان نے ہر طرح کی تفریح پر پابندی لگا رکھی ہے۔ صوبوں میں صورتحال کابل سے بھی بدتر ہے کیونکہ صوبوں میں میڈیا میں خواتین کی موجودگی پر مکمل پابندی ہے۔“

قندوز کے ایک رہائشی مختار نے مجھے بتایاکہ ”جلد ہی ہم پر اونچی آواز میں ہنسنے پر پابندی عائد کر دی جائے گی کیونکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ ایک نئی پابندی لگاتے ہیں۔“

3 مہینوں میں پوری دنیا کی توجہ افغانستان سے ہٹ گئی ہے اور بعض عالمی رہنما افغان عوام بالخصوص افغان خواتین کی آواز پر غور کیے بغیر طالبان کی ’ظالم‘حکومت سے بات کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

کابل کے ایک رہائشی فواد نے مجھے بتایاکہ ”صورتحال پہلے مثالی نہیں تھی لیکن طالبان کی طرف سے سکیورٹی کے تمام خطرات کے باوجود ہم بحیثیت قوم کوشش کر رہے تھے کہ اپنے خوابوں کو حاصل کریں، ہماری امیدیں تھیں جو طالبان اور عالمی رہنماؤں نے چکنا چور کر دیں۔“

کابل کے ایک وکیل 45 سالہ احمد (فرضی نام) نے بتایاکہ ”ہم امریکی قبضے کا خاتمہ چاہتے تھے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہم طالبان کی واپسی چاہتے ہیں۔ ہمیں جہادی لیڈر نہیں چاہیے تھے لیکن وہ طالبان کی صورت ہم پر مسلط کیے گئے تھے۔“

رویا نے اپنا مقام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر کہا کہ ”دنیا کے جمہوریت پسند لوگ کہاں ہیں؟ افغانوں کے دکھوں پر خاموش کیوں ہیں؟ کیا وہ اپنی حکومتوں کو طالبان کو تسلیم کرنے دیں گے؟“

ماکروریاں کے رہائشی مرجان نے مجھے بتایاکہ ”افغانستان اپنی آواز کھو چکا ہے۔ ہم ایک بے آواز قوم بن چکے ہیں کیونکہ یہاں آزادی اظہار نہیں ہے لیکن طالبان ہمیں کمزور نہ سمجھیں، ہم لڑ رہے ہیں اور اپنی لڑائی جاری رکھیں گے چاہے ساری دنیا بھی ہم سے منہ موڑ لے۔“

افغانستان کے لوگ طالبان کے خلاف مزاحمت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ چاہے وہ کابل، ہرات یا مزار کی سڑکیں ہوں یا کرکٹ کے بین الاقوامی پلیٹ فارم، لوگ ہر سطح پر مزاحمت کر رہے ہیں۔ افغانستان کی خواتین سب سے زیادہ بہادر ہیں کیونکہ انہوں نے وقتاً فوقتاً احتجاجی مظاہرے کیے ہیں، حالانکہ طالبان نے مظاہروں پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔ میڈیا اساتذہ، پروفیسروں، ڈاکٹروں اور سرکاری ملازمین کی ہڑتالوں سے گونج رہا ہے۔ اگرچہ عالمی میڈیا کی افغانستان کی صورتحال میں دلچسپی ختم ہو چکی ہے، تاہم افغانستان کے عوام آہستہ آہستہ ہی سہی لیکن ثابت قدمی سے طالبان اور ان کے ظالمانہ قوانین کے خلاف کھڑے ہیں۔

’یاسمین افغان‘ صحافی ہیں۔ وہ ماضی میں مختلف افغان نیوز چینلوں کے علاوہ بی بی سی کے لئے بھی کام کر چکی ہیں۔ سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ان کا قلمی نام استعمال کیا جا رہا ہے۔