دنیا

’طالبان کے ماتحت زندگی قبرستان جیسی ہے، افغان گھروں میں صرف موت آتی ہے‘

یاسمین افغان

اگست 2021ء میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کابل اور ملک کے دیگر حصوں میں تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ تصور ہوا میں اڑ گیا ہے کہ طالبان نام نہاد امن اور سلامتی لائے ہیں۔ کابل اور ملک کے باقی حصوں میں کسی سے بھی بات کریں تو ہر کوئی یہ محسوس کر رہا ہے کہ نام نہاد امن معاہدہ دراصل افغان مصائب کو طول دینے اور ایک جنونی اور دہشت گرد گروہ کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کرنے کے سوا کچھ نہیں تھا تاکہ قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری رہے۔

کابل کی ایک رہائشی خالدہ نے مجھے بتایاکہ ”یہاں نہ کوئی امن ہے اور نہ ہی کوئی تحفظ۔ ہمارے لوگ اب بھی مارے جا رہے ہیں۔ ہم نے اپنی آزادیوں اور حقوق کو کھو دیا ہے اور وہ تھوڑا سا تحفظ بھی نہیں ہے جس کی ہم توقع کر رہے تھے۔“

انکے بھائی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مجھے بتایاکہ ”ہم اپنی مساجد اور اسکولوں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ہم کیا شکایت کر سکتے ہیں؟ غربت؟ اغوا؟ ہمارے کھوئے ہوئے حقوق یا بم دھماکے؟ طالبان کے ماتحت زندگی قبرستان میں رہنے کے مترادف ہے۔ ہمارے گھروں میں صرف موت آتی ہے۔

مکروریان کی رہائشی پلوشہ (فرضی نام) نے کہاکہ ”دنیا نے طالبان کو یہ کہہ کر ہم پر مسلط کیا کہ وہ امن اور سلامتی لائیں گے۔ ہم سب ان دنوں بارودی سرنگوں پر چل رہے ہیں۔ دیکھیں دشت برچی میں کیا ہوا؟ انہوں نے طلبہ کو قتل کیا۔ ان کا کیا قصور تھا؟ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ ہزارہ اور شیعہ تھے۔“

ان کے والد، جو 60 سال سے زائد عمر کے ہیں، نے مجھے فون پر بتایاکہ ”افغانستان نے کبھی فرقہ وارانہ جنگ نہیں دیکھی تھی اور اس بار ہمارے دشمن افغانستان میں فرقہ وارانہ جنگ شروع کرنا چاہتے ہیں۔ وہ زیادہ تر ہزارہ کو نشانہ بنا رہے ہیں لیکن ہاں، دیگر افغان بھی نشانہ ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ ملک کے کس حصے سے ہیں۔ یا تو طالبان بنیں یا پھر نشانہ بنیں۔“

ان کی اہلیہ نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مجھے بتایاکہ ”میں نے جرمن سفارت خانے پر حملے میں ایک بھائی کھو دیا۔ میں جانتی ہوں کہ اس طرح کے گھناؤنے جرائم میں اپنے پیاروں کو کھونے سے کیسا محسوس ہوتا ہے۔ کہاں ہے نام نہاد امن؟ افغان اب بھی مارے جا رہے ہیں۔ یہ رکنا چاہیے۔“ انہوں نے رونا شروع کر دیا۔

دشت برچی کے ایک رہائشی نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مجھے بتایاکہ ”ہم مسلسل خوف میں رہتے ہیں۔ ہم ڈرتے ہیں کہ کب کوئی بم پھٹ جائے گا اور ہم یا کوئی عزیز مارا جائے گا۔“

کابل کے مغرب سے ایک اور شخص نے مجھے بتایاکہ ”یہ خونریزی نہیں رکے گی۔ افغان مارے جاتے رہیں گے۔ طالبان سے ہمارے لیے امن اور سلامتی کی توقع رکھنا پاگل پن ہے۔ ہم ایک ایسے گروپ کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو گزشتہ 20 سالوں میں افغانوں کو اپنے خودکش حملوں میں مار رہا ہے۔“

ان کی بہن، جو کہ 12 ویں جماعت میں ہے اور اب سکولوں پر پابندی کی وجہ سے گھر میں رہتی ہے، نے مجھے بتایاکہ ”یہ صرف بم دھماکوں کا خوف نہیں ہے بلکہ بغیر کسی وجہ کے گولی مار دیے جانے یا اغوا کیے جانے کا خوف ہمارے ذہنوں میں ہے۔ کابل اور باقی ملک میں زندگی اتنی غیر یقینی نہیں تھی۔“

19 اپریل کو کابل کے شیعہ ہزارہ محلے میں ایک سرکاری اسکول اور ایک تعلیمی مرکز پر حملہ ہوا، جس میں درجنوں طلبہ ہلاک اور ایک درجن زخمی ہوئے۔ 21 اپریل کو افغانستان کے چار صوبوں میں بم دھماکے ہوئے اور سب سے زیادہ ہلاکتیں مزار شریف کی ایک شیعہ مسجد میں ہوئیں۔ سکیورٹی کے زیادہ تر واقعات ان دنوں خبروں میں نہیں آتے کیونکہ طالبان نے مقامی میڈیا کو خبردار کیا ہے کہ وہ زیادہ تر واقعات کی رپورٹنگ نہ کریں لیکن طالبان سوشل میڈیا کو سنسر نہیں کر سکتے اور اس طرح بہت سے واقعات سوشل میڈیا پر رپورٹ ہوتے ہیں۔ طالبان میں بھی آپس کی لڑائیوں اور ایسے گروہوں کی اطلاعات ہیں، جو ابھر کر طالبان سے لڑ رہے ہیں۔ مقامی آبادی کو خانہ جنگی کا خدشہ ہے۔

’یاسمین افغان‘ صحافی ہیں۔ وہ ماضی میں مختلف افغان نیوز چینلوں کے علاوہ بی بی سی کے لئے بھی کام کر چکی ہیں۔ سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ان کا قلمی نام استعمال کیا جا رہا ہے۔