پاکستان

پاکستان: ہیرسمنٹ طالبان کی لپیٹ میں

 عثمان توروالی

پختون لیڈر باچا خان نے کہا تھا کہ ثقافت کتنی مہذب ہے، اس بات پر منحصر ہے کہ وہ خواتین کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے۔ ہر مہذب قوم اپنی خواتین کو معاشی اور سیاسی اعتبار سے بااختیار بناتی ہے تاکہ ہر عورت ایک باوقار زندگی جئے۔ تاہم مملکت خداداد جرنیلوں اور ان جرنیلوں کے پالے سیاست دانوں کے ہاتھوں جمہوریت، آزادی اور ترقی سے ہاتھ دھو چکی ہے۔

انسانی حقوق جو کم از کم بلکتے سسکتے ہوئے باقی تھے، ہر نئے دن کے سورج کے ساتھ ڈوبتے جاتے ہیں۔ اس مملکت ناپرساں کا کوئی وارث ہے اور نہ ہی کوئی پرسان حال، بس ایک شور و غوغا ہے جس کے ہاتھ جو آیا ہڑپ لیا۔ تاہم ہڑپنے کا عمل پہلے پیسوں، بنگلوں، زمینوں اور عہدوں تک محدود تھا اب تو عوام پر جھپٹنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

تاریخی مینار پاکستان کا احاطہ ہو، کسی مسجد کا تہہ خانہ یا کوئی سنسان گلی، عقابی روح بیدار ہو کر رہتی ہے اقبال کے شاہینوں میں۔ نہ صرف جوانوں میں بلکہ مولویوں میں، استادوں میں اور جوشیلی سوشل میڈیا افواج میں۔

حال ہی میں عائشہ اکرم کا واقعہ ساری قوم کے منہ پہ ایک ایسا طمانچہ ہے جو لگا نہیں لیکن آواز پوری دنیا میں پھیل گئی۔ یہی نہیں، اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر اٹھنے والا شور، جس کا مقصد تھا وکٹم بلیمنگ، منہ بولتا ثبوت ہے اس وحشت کا اس درندگی کا جس نے اس قوم کی گود میں پرورش پائی ہے۔

ہم نے آج تو سارا قصور عائشہ کے ٹک ٹاک کو ٹھہرایا ہے لیکن کیا کل ہمارے گھر سے کوئی زینب باہر نہیں نکلے گی؟ کوئی پانچ سالا مروہ یا گلالئی باہر قدم نہیں رکھے گی؟ چلو ہم ان پر کچھ چادریں لپیٹ لیں گے لیکن چھوٹے لڑکوں کو کیسے اس دلدل سے بچا کے رکھیں گے۔ کیا ان کو بھی برقے پہنائیں گے؟

ورلڈ اکنامک فورم نے گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس رپورٹ شائع کی جس میں پاکستان 153 ممالک میں سے 151 ویں نمبر پر ہے، پوری دنیا میں پاکستان عورتوں کے حقوق کے حوالے سے صرف عراق اور یمن سے بہتر ہے۔ صرف 2020ء میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے 2960 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر روز آٹھ بچوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔ ان میں سے پانچ سال سے کم عمر کے بچے بھی شامل ہیں، جو ٹھیک سے بولنا نہیں جانتے۔ 2019ء کی نسبت 2020ء میں بچوں کے زیادتی کے مقدمات میں چار فیصد اضافہ ہوا ہے۔

مملکت ناپرساں میں ہر روز خواتین کے ساتھ گیارہ عصمت دری کے مقدمات رپورٹ ہوتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف ایسے ہیں جو رپورٹ ہوتے ہیں۔ ایک تفتیش، جو جیو نیوز نے کی ہے، کے مطابق کل تعداد کے صرف 41 فیصدمقدمات رپورٹ ہوتے ہیں۔ باقی تو بس چپ کر کے سہہ جاتے ہیں۔ لڑکیوں کا تو چھوڑئیے بچوں کے مقدمات بھی پولیس کے پاس نہیں لائے جاتے کہ سسٹم پوری طرح انصاف مہیا کرنے میں ناکام ہے۔ اس معاشرے کے نام نہاد اقدار لوٹے ہوئے شخص کو لوٹتے ہیں۔ ذرا نہیں پورا سوچئے ہم جنگل میں تو نہیں رہ رہے؟ یہ درندگی ہر روز بڑھ رہی ہے۔ 2019ء کی نسبت 2020ء میں ریپ کیسوں میں چار فیصد ہوا ہے۔

اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟ ایک حد تک ہم سب۔ آپ کی اور میری خاموشی کی وجہ سے عصمت دری کرنے والے درندوں کو موقع ملتا ہے۔ سپورٹ ملتی ہے۔ وہ مزید انسانیت کو تار تار کرنے لگ جاتے ہیں۔

ہماری معاشرتی اقدار مظلوم پر مزید ظلم اور ظالم کا دفاع کرتی ہیں۔ ریپ کرنے سے کسی کی عزت کم نہیں ہوتی لیکن اس درندوں کے معاشرے میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ عورت کی لباس اور حرکات سے مرد کے گناہ دھو دیے جاتے ہیں۔ مرد مرد کا بچہ بن جاتا ہے جبکہ عورت بازاری اور بے حیا۔ مرد کی آنکھوں پر کوئی پابندی نہیں لیکن عورت پر ہر الزام۔ جہاں خواتین پردے میں رہتی ہیں وہاں بھی مرد کی وحشت سے محفوظ نہیں ہیں۔

حکومتی نا اہلی اس درندگی میں اضافے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہر سال کیس بڑھ رہے ہیں لیکن وزیراعظم صاحب موردالزام عورت کو ٹہرا رہا ہے۔ عورت کے لباس پر بات کرنے سے پہلے عمران خان سوچتے نہیں کہ بچوں میں تو نسوانیت کی کوئی بات نہیں ہوتی پھر ان کے ساتھ یہ ظلم کیوں ہو رہا ہے۔ لا اینڈ آرڈر کو ٹھیک کرنے کے بجائے، عدالتی نظام میں اصلاحات لانے کے بجائے ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات داغنا وزیراعظم کی نااہلی نہیں تو کیا ہے۔

صرف عائشہ نہیں دنیا کی کوئی بھی لڑکی یا خاتون کبھی بھی اپنے فالورز کو بڑھانے کے لیے اپنی جان اور عزت داؤ پر نہیں لگائے گی۔ ذرا ہوش سے کام لیں یہ سب صرف عائشہ کے ساتھ نہیں ہوا۔ ہر روز خواتین کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں۔ پانچ سال کے بچے بھی محفوظ نہیں ہیں۔ اپنے اساتذہ سے اور اپنے قاری صاحبان سے ان کو خطرہ ہے۔ اس لئے خدارا اس کو ایک سنجیدہ مسئلہ سمجھیں۔ کل آپ کے پیاروں کے ساتھ بھی ایسا کچھ ہو سکتا ہے۔ اپنی خاموشی اور ”وکٹم بلیمنگ“ سے ان درندوں کو تقویت مت دیں۔ ان کا حوصلہ نہ بڑھائیں۔

عثمان توروالی سوات سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے ایم اے سیاسیات کیا ہے۔ مختلف جرائد کے لئے سیاسی موضوعات پر کالم نگاری کرتے ہیں۔