خبریں/تبصرے

لال مسجد پر طالبان کا پرچم امریکہ کو پاکستان کا جواب تھا: نیو یارک ٹائمز

لاہور (جدوجہد رپورٹ) امریکی جریدے نیو یارک ٹائمز کے پاکستان اور چین میں سابق بیورو چیف جین پرلیز نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ افغان جنگ کا حقیقی فاتح پاکستان ہے جو ماضی میں تو امریکہ کا قریبی اتحادی رہا لیکن اب وہ امریکہ کی جگہ چین، روس اور ایران کی حمایت کی بنیاد پر افغانستان میں اپنے مفادات کو تحفظ دے گا۔

نیو یارک ٹائمز میں لکھی گئی ایک تفصیلی رپورٹ میں انہوں نے مختلف افراد سے انٹرویوز اور متعدد جریدوں میں لکھے گئے مضامین کا حوالے دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جنگ میں امریکی شراکت دار پاکستان افغان طالبان کا مرکزی سرپرست تھا اور طالبان کی فتح کو اپنی فتح کے طور پر دیکھتا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ طالبان کے کابل پر قبضے کے چند دن بعد انکا جھنڈا پاکستان کے دارالحکومت کی ایک مرکزی مسجد پر لہرارہا تھا، یہ ایک اشارہ تھا اور شکست خوردہ امریکیوں کو جواب بھی تھا لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ 20 سالہ افغان جنگ میں حقیقی فاتحین کی علامت بھی تھی۔

انہوں نے لکھا کہ پاکستان بظاہر القاعدہ اور طالبان کے خلاف جنگ میں امریکہ کا شراکت دار تھا، اس کی وجہ سے اس نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اربوں ڈالر امریکی امداد حاصل کی لیکن پاکستانی فوج نے سرحد پار نئے جنگجوؤں کا اضافہ پاکستان میں موجود پناہ گاہوں کے ذریعے کیا، یہ امریکی تربیت یافتہ سکیورٹی فورسز کیلئے تباہ کن ثابت ہوا۔

انہوں نے خبردار بھی کیا کہ پاکستان کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اگر طالبان حکومت قائم کر لیتے ہیں تو پاکستان خود کو ان کے ساتھ جڑا ہوا پائے گا، مغرب میں پاکستان کی ساکھ پہلے ہی متزلزل ہے جس کے مزید گرنے کا امکان ہے۔ غیر ملکی امداد کی عدم موجودگی میں کابل کے نئے حکمرانوں کو منشیات کے کاروبار پرانحصار کرنا ہو گا اور پاکستان اسکا بھی شکار ہو گا۔ طالبان کے زیر انتظام ریاست پاکستان میں طالبان اور دیگر عسکریت پسندوں کی حوصلہ افزائی بھی کرے گی۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات جو پہلے ہی کافی خراب ہیں مزید خراب ہونگے۔

پاکستان کیلئے سوال یہ بھی ہے کہ وہ ایک ٹوٹے ہوئے ملک کے ساتھ کیا کرینگے جو انکا انعام ہے؟ روس اور چین کے ساتھ امریکیوں کی خالی جگہ کو پر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جنگ زدہ ملک پر حکومت کرنا ایک مشکل ٹاسک ہو گا اور خاص کر طالبان ایک جنگی قوت ہیں، حکومت چلانے کے ماہر نہیں ہیں۔

انہوں نے یہ بھی لکھا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ اور ڈی جی آئی ایس آئی نے خلیل حقانی کے ساتھ ملاقات کی ہے، حقانی خاندان طویل عرصہ سے افغان سرحد کے ساتھ پاکستان کے علاقوں میں رہنے کیلئے جانا جاتا ہے۔ ہر وقت امریکہ کی طرف سے دباؤ ڈالا گیا لیکن آگے سے یہ جواب ملا کہ حقانی رہنما ہیں کہاں جہاں سے انہیں گرفتار کیا جائے۔

انہوں نے لکھا کہ چین کا کہنا ہے کہ امریکیوں کو افغانستان سے نکلتے ہوئے دیکھ کر اسے خوشی ہوئی ہے، وہ اپنے بیلٹ اینڈ روڈ انی شیٹوکو افغانستان تک پھیلاتے ہوئے معدنیات نکالنے کی امید لگائے ہوئے ہے۔ چین بھی افغانستان میں اپنے سہولت کار کے طور پر پاکستان پر اعتماد کر رہا ہے، وہ پراعتماد ہیں کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے وہ طالبان سے مزید سکیورٹی کی گارنٹی حاصل کر سکیں گے۔