خبریں/تبصرے

’اسکا جسم سڑنا چاہیے‘: امر اللہ صالح کے بھائی کا قتل، تدفین کی اجازت نہیں دی

لاہور (جدوجہد رپورٹ) طالبان نے سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح کے بھائی روح اللہ صالح عزیزی کو قتل کرنے کے بعد ان کی تدفین کی اجازت بھی نہیں دی ہے۔

’دی فرائیڈے ٹائمز‘ کے مطابق روح اللہ کے قتل کی خبریں طالبان کے خلاف مزاحمت کے آخری گڑھ پنجشیر وادی پر طالبان کے قبضے کے چند دن بعد سامنے آئی ہیں۔ امراللہ صالح پنجشیر میں طالبان مخالف قوتوں کے رہنماؤں میں سے تھے۔

امراللہ صالح کے بھتیجے عباداللہ صالح نے روح اللہ عزیزی کی موت کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ”انہوں نے میرے چچا کو قتل کر دیا۔ انہوں نے کل انہیں مار ڈالا اور کہا کہ ہم اسے دفن نہیں ہونے دینگے۔ وہ کہتے رہے کہ اس کا جسم سڑ جانا چاہیے۔“

طالبان کی انفارمیشن سروس کے اردو اکاؤنٹ الامارہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ روح اللہ پنجشیر کی لڑائی کے دوران مارے گئے۔

دوسری طرف امراللہ صالح نامعلوم ٹھکانے پر منتقل ہو چکے ہیں۔ احمد مسعود کے وفادار گروہوں پر مشتمل افغانستان کے ’قومی مزاحمتی محاذ‘نے پنجشیر کے صوبائی دارالحکومت بازارک کے سقوط کے بعد بھی طالبان کی مخالفت جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔