پاکستان

”بڑا جھوٹ بار بار بولتے رہو لوگ یقین کرنا شروع کر دیں گے“

عثمان خان

”بڑا جھوٹ سادہ الفاظ میں بولو اور پھر اس کو بار بار کہتے رہو لوگ یقین کرنا شروع کر دیں گے“: ڈاکٹر جوسیف (نازی پراپوگنڈا چیف)

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل نے چند روز قبل ایک ٹیلی ویژن مذاکرے میں ایک بحث کے دوران دعوی کیا: ”فوربز دنیا کا ایک بہت ہی مستند ادارہ ہے جو جرنلزم اور ریسرچ میں ماڈرن ٹرینڈز کے اوپر کام کرتا ہے۔ یہ انھوں نے دنیا کے بیس موسٹ ڈینجرس پلیسزز فار وومن ہیں ان کی لسٹ بنائی ہے اللہ کے کرم سے نہ پاکستان پہلے پر، نہ دوسرے پر، نہ تیسرے پر پڑھ کر بتا دیتا ہوں یہ جو یہاں پر دھنیا بیچاجاتا ہے پتہ نہیں ہائے ہائے یہاں پر کیا ہوگیا آپ یہاں پر لوگوں کوکیا بیچاتے ہیں؟“

اگر آپ وہ فوربز کے آرٹیکل کو پڑھیں جن کا موصوف حوالہ دے رہے ہیں تو آپ کوان کی بددیانتی کاصاف پتہ چل جائے گا۔ آرٹیکل میں واضح لکھا ہے کہ اس فہرست میں ان ٹاپ پچاس ممالک کو لیا گیا ہے جہاں ٹورسٹوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ اب جب پاکستان ان ٹورسٹ ممالک کی فہرست میں ہی نہ ہوتو پاکستان کا نام صاف ظاہر ہے کہاں سے آنا تھا۔ یہ تو ایسے ہی کہ افغانستان کے صوبوں کی غربت کے لحاظ سے فہرست بنے اور ہم ادھر خوش ہوں کہ پنجاب یا بلوچستان کا نام نہیں آیا۔

پاکستان میں موجود عورتوں کے مسائل کو ایک بددیانتی کے ذریعے شہباز گل نے ایک پراپیگنڈہ قرار دے دیا جبکہ رائیٹرز کے ایک آرٹیکل میں پاکستان کو ان الفاظ میں یاد رکھا گیاہے: ”پاکستان: معاشی وسائل اور امتیازی سلوک کے ساتھ ساتھ خواتین کو ثقافتی، مذہبی اور روایتی طریقوں سے درپیش خطرات کے لحاظ سے چھٹا خطرناک اور چوتھا بدترین ملک ہے نام نہاد غیرت کے نام پر قتل سمیت۔ گھریلو تشدد سمیت غیر جنسی تشدد پر پاکستان پانچویں نمبر پر ہے۔“

اس طرح کی لا تعداد رپورٹس موجود ہیں۔ ایسی رپورٹس کا حوالہ نہیں دیں گے۔ ہمارے حکمرانوں نے ایک طریقہ ڈھونڈھ لیا ہے کہ ہر ظلم کا دفاع یہ کہہ کر کرتے ہیں دیکھو مغرب میں بھی تو ایسا ہوتا ہے۔ اگر ظلم و جبر و استحصال امریکہ میں ہو، چین میں ہو، بھارت میں ہو، یا دنیا کے کسی خطے میں ہو وہ غلط ہے لیکن ہمارا بوسیدہ حکمران طبقہ یہاں ہونے والے مظالم کو کسی بڑے ملک کے مظالم کے پیچھے چھپا لیتا ہے اور یہ کہہ کے بری الذمہ ہوجاتا ہے کہ دیکھو وہاں بھی تو ہو رہا ہے۔

ایک اور بد دیانتی یہ لوگ مسلسل کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ ہر کسی کو کولیفٹ ونگ بنا دیں۔ لبرل اور لیفٹ دو مخالف نظریات ہیں۔

شہباز گل یہاں بھی ہاتھ دکھا گئے۔ انہوں نے بی بی سی کو لیفٹ کاادارہ قرار دے دیا۔ ہمارے ہاں یہ بھی ایک فکری مغالطہ پایا جاتاہے کہ لیفٹ اور لبرل ایک چیز ہیں۔ یہ نتیجہ ہے لا علمی کا۔

عثمان خان پیر مہرعلی شاہ ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی روالپنڈی میں پڑھتے ہیں۔ وہ طلبہ سیاست میں بھی متحرک ہیں۔