خبریں/تبصرے

حاصل بزنجو انتقال کر گئے

لاہور (جدوجہد رپورٹ) سینیٹر حاصل بخش بزنجو گذشتہ روز 62 سال کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے۔ انہیں پھیپھڑوں کا کینسر لاحق تھا۔

میر غوث بخش بزنجو کے صاحبزادے ہونے کی وجہ سے ان کا تعلق بلوچستان کے ایک اہم ترقی پسند سیاسی خانوادے سے تھا۔ وہ 1990ء اور 1997ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2009ء میں وہ سینیٹ کے رکن بنے اور 2015ء میں دوبارہ سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔

وہ مسلم لیگ نواز کی گذشتہ حکومت میں بطور وزیر دو دوفعہ کابینہ کا حصہ بنے۔

2003ء میں انہوں نے اپنی جماعت بلوچستان نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کو بلوچستان نیشنل مومنٹ میں ضم کر دیا اور یوں ان کی موجودہ جماعت نیشنل پارٹی وجود میں آئی۔ 2013ء میں نیشنل پارٹی نے نواز لیگ کے ساتھ مل کر بلوچستان میں مخلوط حکومت بھی تشکیل دی۔

ان کی وفات پر حکومت اور حزب اختلاف سمیت ملک بھر کے سیاسی و سماجی حلقوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

روزنامہ جدوجہد کے رکن ِادارتی بورڈ اور بائیں بازو کے رہنما فاروق طارق نے گذشتہ روز اپنے پیغام میں کہا: ”ہمارے محترم ساتھی حاصل بزنجو ہم میں نہیں رہے۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی قائد سابق وفاقی وزیر سینیٹر میر حاصل خان بزنجو طبعیت کی خرابی کے باعث آغا خان ہسپتال میں داخل ہوئے تھے۔ میر حاصل خان بزنجو گزشتہ کچھ مہینوں سے پھپیھڑوں کے سرطان میں مبتلا رہے ہیں اور ان کا علاج آغا خان ہسپتال میں چل رہا تھا۔ آج صبح طبیعت کی خرابی کے باعث ہسپتال میں داخل ہوئے تھے جہاں آج وہ ہم سب کو تھوڑی دیر پہلے چھوڑ گئے۔“