خبریں/تبصرے

لطیف آفریدی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہو گئے

لاہور (جدوجہد رپورٹ) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں گذشتہ روز لطیف آفریدی 1236 ووٹ لے کر صدر منتخب ہو گئے جبکہ ان کے مقابلے پر پروفیشنل گروپ (جسے حامد خان گروپ بھی کہا جاتا ہے) کے عبدالستار نے 968 ووٹ حاصل کئے۔

لطیف آفریدی کا تعلق آزاد گروپ (جسے عاصمہ جہانگیر گروپ بھی کہا جاتا ہے) سے ہے۔ دونوں امیدوار خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھتے تھے کیونکہ اس بار صدر کا عہدہ حاصل کرنے کے لئے اس صوبے سے تعلق رکھنے والے وکلا ہی انتخاب لڑ سکتے تھے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات اس سال زیادہ اہمیت اس لئے بھی اختیار کر گئے تھے کہ پی پی پی اور نواز لیگ نے لطیف آفریدی جبکہ وفاقی وزیر فروغ نسیم عبدالستار کی حمایت کر رہے تھے۔ اس لئے لطیف آفریدی کی جیت کو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ووٹ سمجھا جا رہا ہے۔

یہ بھی واضح رہے کہ لطیف آفریدی ہمیشہ بائیں بازو کی سیاست سے وابستہ رہے۔ ماضی میں پاکستان نیشنل پارٹی کے ساتھ وابستہ رہے اور پھر جب چار پارٹیوں کے ادغام سے اے این پی وجود میں آئی تو اے این پی میں شامل ہو گئے۔ 1997ء میں قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ وہ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔