خبریں/تبصرے

افغانستان کی وجہ سے پاکستان کی جی ایس پی پلس حیثیت خطرے میں

حارث قدیر

یورپی پارلیمان میں افغانستان کی صورتحال اور طالبان پر پاکستان کے اثر و رسوخ کو مد نظر رکھتے ہوئے جی ایس پی پلس حیثیت سے دستبرداری کی منظوری سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے طریقہ کار اور افغان مزاحمتی محاذ کے رہنما احمد مسعود کو یورپی پارلیمنٹ میں خطاب کیلئے دعوت سے متعلق 37 نکاتی قرار داد پیش کر دی گئی ہے۔

افغانستان کی صورتحال سے متعلق یورپی پارلیمان میں سوشلسٹ اور ڈیموکریٹ گروپ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد آج جمعرات کے روز منظور کئے جانے کا امکان ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں سلامتی اور استحکام کا ذمہ دار ہے اور طالبان پر پاکستان کے اثر و رسوخ کو مد نظر رکھتے ہوئے جی ایس پی پلس حیثیت کی تجدید پر غور کیا جائیگا۔ موجودہ واقعات کی روشنی میں جی ایس پی پلس حیثیت کی فوری نظر ثانی کی وجہ اور عارضی دستبرداری کیلئے طریقہ کار شروع کرنے کیلئے غور کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔ یورپی یونین کے پاس انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے کیلئے ایک ملک پر مبنی پابندیو کا طریقہ کار بھی ہے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ یورپی یونین کے شہریوں اور خطرے سے دو چار افغان باشندوں کو افغانستان سے نکالنے کیلئے مل کر کام کیا جائے۔ خاص طور پر افغان خواتین، منتخب عہدیداروں، ججوں، علما، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، صحت کے کارکنوں، سرکاری ملازمین اور طالبان پر تنقید، افغان سیاست اور کھلی معاشرتی سرگرمیوں میں فعال شرکت کے باعث خطرے کا شکار افراد کو نکالنے کیلئے کام کیا جانا چاہیے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے پڑوسیوں اور علاقائی طاقتوں خاص طور پر بھارت، ایران، وسط اشیائی ممالک اور پاکستان کے ساتھ باقاعدہ بات چیت کی ضرورت ہے۔ مغربی شہریوں اور خطرے سے دو چار افغانوں کے محفوظ راستے پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے، انسانی امداد اور امدادی کارکنوں کی رسائی یقینی بنائے جانے کے علاوہ دہشت گردی اور منظم جرائم کے پھیلاؤ سے نمٹنے، منشیات کی سمگلنگ، انسانی سمگلنگ پر روک لگانے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔

قرار داد میں کہا گیا ہے کہ مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ممالک کو ترجیحی طور پر اضافی مدد فراہم کی جانی چاہیے، بین الاقوامی تنظیموں اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرارداد میں انسانی ہمدردی کے ویزے، خواتین کیلئے خصوصی ویزا پروگرام، منصفانہ پناہ کے طریقہ کار تک تیزی سے رسائی کی ضمانت دیئے جانے، خاندان اتحاد اور عارضی تحفظ کو یقین بنانے کیلئے اقدامات اور یورپی یونین کی جانب سے پناہ اور ہجرت سے متعلق نئے معاہدے کو فوری طور پر ختم اور ہجرت کے بہاؤ سے موثر اور انسانی انداز سے نمٹنے کے قابل بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پنجشیر میں خوراک اور اہم خدمات کی کمی کے نتیجے میں انسانی تباہی روکنے کیلئے اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ امریکہ، نیٹو اور دیگر اتحادیوں کی جانب سے اقدامات کو غیر موثر اور قابل تشویش قرار دیا گیا ہے۔ چین اور روس کو تذویراتی فائدہ پہنچائے جانے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ جلد از جلد جامعہ حکمت عملی تیار کر کے پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کابل میں یورپی یونین کے مشن اداروں کو تعینات کیا جائے تاکہ وہ خود انسانی ہجرت، معاشی اور سکیورٹی صورتحال اور خاص کر خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کی حالت سے واقفیت حاصل کر سکیں۔

افغانستان میں 20 سالہ مصروفیت سے سبق حاصل کیا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے مشنز اور آپریشنز میں بہتر حکمت عملی بنائی جا سکے۔ امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا گیا ہے اور افغان عوام کیلئے انسانی مدد فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔