خبریں/تبصرے

کشمیر کی مذہبی اقلیتیں ہمارا حصہ ہیں،ان کے خلاف ظلم قبول نہیں، کے جی سی

ڈیلاس ( پریس ریلیز) امریکہ اور کنیڈا میں مقیم کشمیری تارکین وطن کی تنظیم کشمیر گلوبل کونسل (کے جی سی) نے جموں و کشمیر میں شہریوں کی ہلاکتوں پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوے بین الاقوامی اداروں سے ان جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے گذشتہ ہفتے ’نامعلوم بندوق بردار دہشت گردوں‘کی فائرنگ سے اقلیتی برادریوں کے ارکان سمیت پانچ عام شہری ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ بھارتی مسلح افواج کے ہاتھوں ایک غیر مسلح شہری مارا گیا۔ رواں سال اب تک کشمیر میں دو درجن سے زائد شہری ہلا کتیں ہو چکی ہیں۔

کشمیر گلوبل کونسل کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے سربراہ انجینئر فاروق صدیقی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خفیہ ایجنسیاں اپنے اپنے سٹریٹجک مفادات کو پورا کرنے کے لیے کشمیر میں مزید بدامنی پھیلانے کی دانستہ کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے جی سی عالمی طاقتوں کے سفیروں کو خط لکھے گا تاکہ انہیں کشمیر میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے گٹھ جوڑ کے بارے میں آگاہ کیا جائے جو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب 2021ء کے اوائل میں ہندوستان اور پاکستان کی افواج نے سیز فائر پر باہمی اتفاق کیا، کشمیر میں سویلین شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

کے جی سی کے بورڈ ڈایریکٹر اور سینئر کشمیر ی رہنما راجہ مظفر نے بھی کشمیر میں دہشت گردی کے بڑھتے تازہ واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا:”ان واقعات سے علاقہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عوام کو دہشت زدہ کرنے کے کی سازش کے کیا مقاصد ہیں اور کون ایسے انسانیت کے خلاف ایسے جرائم میں ملوث ہے اس کی تحقیقات ہونا چاہئے۔ جموں کشمیر مذہبی مسلہ نہیں اور جو لوگ اسے مذہبی مسئلہ بنا رہے ہیں وہ کشمیر اور کشمیریوں کے دشمن ہیں“۔
راجہ مظفر نے کہا کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی 2018ء کی رپورٹ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق نے ایک”انکوائری کمیشن“قائم کرنے کا فیصلہ کیا، بھارت اور پاکستان کی حکومتوں نے اس کمیشن کے ساتھ ابھی تک تعاون نہیں کیا۔

راجہ مظفر نے کہا کہ کشمیر گلوبل کونسل جموں کشمیر کی تمام مذہبی اقلیتوں کو یقین دلاتا ہے کہ تمام اقلیتیں ہمارے جسم کا حصہ ہیں اور ہم ان پر ہونے والے ظلم پر خاموش نہیں رہیں گے۔

کے جی سی بورڈ کے رکن الطاف قادری نے کہا ہے کہ کشمیر میں شہری ہلاکتیں لوگوں کو مزید سر تسلیم خم کرنے، انہیں خاموش کرنے اور کشمیری عوام کی آزادی و خود مختاری کی تحریک کو بدنام کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادری کے ارکان کی ہلاکتیں کشمیر میں رواداری اور ہم آہنگی کی فضا کو خراب کرنے کی سازش ہے۔